🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب بدء الخلق - ذكر وصف طول آدم حيث خلقه الله جل وعلا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ آدم کا قد جب اللہ جل وعلا نے اسے بنایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6162
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، وَطُولِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلْقَهُ، قَالَ: اذْهَبْ، فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفْرِ، وَهُمْ مِنَ الْمَلائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، قَالَ: فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكَمْ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ تَعَلَّقَ بِهِ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ، وَأَخَذَ يُشَنِّعُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ الَّذِينَ يَنْتَحِلُونَ السُّنَنَ، وَيَذُبُّونَ عَنْهَا، وَيَقْمَعُونَ مَنْ خَالَفَهَا بِأَنْ قَالَ: لَيْسَتْ تَخْلُو هَذِهِ الْهَاءُ مِنْ أَنْ تُنْسَبَ إِِلَى اللَّهِ، أَوْ إِِلَى آدَمَ، فَإِِنْ نُسِبَتْ إِِلَى اللَّهِ، كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا، إِِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ سورة الشورى آية 11، وَإِِنْ نُسِبَتْ إِِلَى آدَمَ، تَعَرَّى الْخَبَرُ عَنِ الْفَائِدَةِ، لأَنَّهُ لا شَكَّ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ عَلَى صُورَتِهِ، لا عَلَى صُورَةِ غَيْرِهِ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلُ هَذَا إِِلَى بَارِئِهِ فِي الْخَلْوَةِ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لإِِصَابَةِ الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ لِلطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ فِي لُزُومِ سُنَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنَ الْقَدْحِ فِي مُنْتَحِلِي السُّنَنِ بِمَا يَجْهَلُ مَعْنَاهُ، وَلَيْسَ جَهْلُ الإِِنْسَانِ بِالشَّيْءِ دَالا عَلَى نَفْيِ الْحَقِّ عَنْهُ لِجَهْلِهِ بِهِ، وَنَحْنُ نَقُولُ: إِِنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا صَحَّتْ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، لا تَتَضَادَّ، وَلا تَتَهَاتَرُ، وَلا تَنْسَخُ الْقُرْآنَ، بَلْ لِكُلِّ خَبَرٍ مَعْنًى مَعْلُومٌ يُعْلَمُ، وَفَصْلٌ صَحِيحٌ يُعْقَلُ، يَعْقِلُهُ الْعَالِمُونَ، فَمَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ": إِِبَانَةُ فَضْلِ آدَمَ عَلَى سَائِرِ الْخَلْقِ، وَالْهَاءُ رَاجِعَةٌ إِِلَى آدَمَ، وَالْفَائِدَةُ مِنْ رُجُوعِ الْهَاءِ إِِلَى آدَمَ دُونَ إِِضَافَتِهَا إِِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ، إِِنَّهُ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ سَبَبَ الْخَلْقِ الَّذِي هُوَ الْمُتَحَرِّكُ النَّامِي بِذَاتِهِ اجْتِمَاعَ الذَّكَرِ وَالأُنْثَى، ثُمَّ زَوَالَ الْمَاءِ عَنْ قَرَارِ الذَّكَرِ إِِلَى رَحِمِ الأُنْثَى، ثُمَّ تَغَيُّرَ ذَلِكَ إِِلَى الْعَلَقَةِ بَعْدَ مُدَّةٍ، ثُمَّ إِِلَى الْمُضْغَةِ، ثُمَّ إِِلَى الصُّورَةِ، ثُمَّ إِِلَى الْوَقْتِ الْمَمْدُودِ فِيهِ، ثُمَّ الْخُرُوجِ مِنْ قَرَارِهِ، ثُمَّ الرَّضَاعِ، ثُمَّ الْفِطَامِ، ثُمَّ الْمَرَاتِبِ الأُخَرِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَا، إِِلَى حُلُولِ الْمَنِيَّةِ بِهِ، هَذَا وَصْفُ الْمُتَحَرِّكِ النَّامِي بِذَاتِهِ مِنْ خَلْقِهِ، وَخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خَلْقَهُ عَلَيْهَا، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ تَقْدُمُهُ اجْتِمَاعُ الذَّكَرِ وَالأُنْثَى، أَوْ زَوَالُ الْمَاءِ، أَوْ قَرَارُهُ، أَوْ تَغْيِيرُ الْمَاءِ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً، أَوْ تَجْسِيمُهُ بَعْدَهُ، فَأَبَانَ اللَّهُ بِهَذَا فَضْلَهُ عَلَى سَائِرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ خَلْقِهِ، بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُطْفَةً فَعَلَقَةً، وَلا عَلَقَةً فَمُضْغَةً، وَلا مُضْغَةً فَرَضِيعًا، وَلا رَضِيعًا فَفَطِيمًا، وَلا فَطِيمًا فَشَابًّا، كَمَا كَانَتْ هَذِهِ حَالَةُ غَيْرِهِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشْوِيَّةٌ يَرْوُونَ مَا لا يَعْقِلُونَ، وَيَحْتَجُّونَ بِمَا لا يَدْرُونَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ان کی اپنی صورت پر پیدا فرمایا، ان کا قد ساٹھ گز تھا، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا تو کہا: جاؤ اور فرشتوں کے اس گروہ کو سلام کرو جو بیٹھے ہوئے ہیں اور غور سے سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: چنانچہ سیدنا آدم علیہ السلام گئے اور انہوں نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» تم پر سلامتی ہو، تو فرشتوں نے جواب میں «وَرَحْمَةُ اللَّهِ» اور اللہ کی رحمت ہو کا اضافہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں جو شخص بھی داخل ہو گا وہ سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ہو گا اور اس کا قد ساٹھ گز ہو گا، اس کے بعد سے مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ موجودہ صورت حال آ گئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے ساتھ وہ شخص چمٹ گیا جو علمِ حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے ان محدثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتے ہیں، اس پر ہونے والے اعتراضات کو دور کرتے ہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ اس شخص نے یہ کہا کہ لفظ 'صورت' میں ضمیر یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو گی یا سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف منسوب ہو گی، اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو یہ بات کفر ہو گی کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ [سورة الشورى: 11] اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اگر اس کی نسبت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف کی جائے تو روایت میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تمام انسانوں کی شکل و صورت سیدنا آدم علیہ السلام جیسی ہی ہے، کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کے حوالے سے سنت کے خادموں پر اعتراض نہ کرتا؛ اگر انسان کسی چیز کے بارے میں علم نہیں رکھتا، تو یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کر دی جائے۔ ہم یہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو جائے تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرے گی، بلکہ ہر روایت کا اپنا مخصوص مفہوم اور پس منظر ہوتا ہے جسے اہل علم سمجھ جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت میں پیدا کیا کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی دیگر تمام مخلوق پر فضیلت کو ظاہر کیا جائے، اور اس میں ضمیر سیدنا آدم علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے، اور ضمیر کے سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمیر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی کے مشابہ قرار دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے (دیگر انسانوں کی) تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشوونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے، یہ مذکر اور مؤنث کے ملاپ کی صورت میں (نشوونما پاتی ہے)، اس کے بعد مادہِ تولید مذکر کے مخصوص عمل سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے، پھر وہ لوتھڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر شکل و صورت بن جاتی ہے، پھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے، پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے، پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے، پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے، پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں، یہاں تک کہ اسے موت آ جاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشوونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے، یعنی ان کی تخلیق اس حالت میں ہوئی کہ ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی، ان سے پہلے کسی مذکر اور مؤنث کا ملاپ نہیں ہوا تھا، مادہِ تولید کسی جگہ سے منتقل ہو کر کسی جگہ نہیں ٹھہرا تھا، نہ وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل ہوا اور نہ ہی اس نے بعد میں جسم کی شکل اختیار کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتے ہیں کہ وہ پہلے نطفے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے، نہ ہی جمے ہوئے خون کے بعد گوشت کا لوتھڑا بنے، نہ ہی انہیں دودھ پینے کی نوبت آئی اور نہ ہی دودھ چھڑانے کی نوبت آئی، اور نہ ہی وہ بچپن کے بعد نوجوان ہوئے جیسا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ محدثین حشویہ فرقے جیسے نظریات رکھتے ہیں، وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتے ہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہو سکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جن کا انہیں علم نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6162]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3326، 6227، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2841، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5710، 6162، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8287» «رقم طبعة با وزير 6129»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (449)، «صحيح الأدب المفرد» (449): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6163
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، جَعَلَ إِِبْلِيسَ يُطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ، قَالَ: طَفِرْتُ بِهِ، خَلْقٌ لا يَتَمَالَكُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، تو ابلیس ان کے جسم کے گرد چکر لگانے لگا، جب اس نے انہیں اندر سے خالی دیکھا تو بولا: میں نے اس کو دیکھ لیا ہے، یہ مخلوق قابو میں رہنے والی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6163]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2611، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6163، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12734» «رقم طبعة با وزير 6130»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2158): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں