صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
654. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الأمن الذي يكون في الناس بعد قتل ابن مريم الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابن مریم کے دجال کو قتل کرنے کے بعد لوگوں میں امن کی وصف
حدیث نمبر: 6814
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الأَنْبِيَاءُ إِِخْوَةٌ لِعَلاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَإِِنَّهُ نَازِلٌ فَاعْرِفُوهُ، فَإِِنَّهُ رَجُلٌ يَنْزِعُ إِِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِِنْ لَمْ يُصِبْهُ بِلَّةٌ، وَإِِنَّهُ يَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيُفِيضُ الْمَالَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَإِِنَّ اللَّهَ يَهْلِكُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الإِِسْلامِ، وَيَهْلِكُ اللَّهُ الْمَسِيحَ الضَّالَّ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، وَيُلْقِي اللَّهُ الأَمَنَةَ حَتَّى يَرْعَى الأَسَدُ مَعَ الإِِبِلِ، وَالنَّمِرُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَيَلْعَبُ الصِّبْيَانُ مَعَ الْحَيَّاتِ، لا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور میں تمام لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں، وہ نازل ہوں گے تو تم انہیں پہچان لو گے، وہ ایک ایسے فرد ہیں جن کا رنگ سرخ اور سفید ہو گا اور ان کے سر سے یوں لگے گا جیسے پانی کے قطرے ان کے سر سے ٹپک رہے ہیں، اگرچہ ان کا سر گیلا نہیں ہو گا، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو مار دیں گے، مال کو عام کر دیں گے، جزیے کو ختم کر دیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ دین کو ختم کر دے گا اور اللہ تعالیٰ گمراہ اور کانے جھوٹے دجال کو بھی ہلاک کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ امن و سکون القاء کرے گا، یہاں تک کہ شیر اونٹ کے ساتھ چر رہا ہو گا اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چر رہا ہو گا، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے، ان میں سے کوئی کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6814]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3442، 3443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6194، 6195، 6406، 6814، 6821، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4175، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4324، 4675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7645» «رقم طبعة با وزير 6775»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2182).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم