🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب السُّجُودِ فِي ‏{‏ ص ‏}‏
باب: سورۃ ”ص“ میں سجدے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1409
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْجُدُ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ ص کا سجدہ واجبی سجدوں میں سے نہیں ہے، جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس میں سجدہ کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/سجود القرآن 3 (1069)، سنن الترمذی/الصلاة 288 (الجمعة 53) (577)، سنن النسائی/الافتتاح 48 (958)، (تحفة الأشراف:5988)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1508) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1069)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سورہ ص کی تلاوت کی۔ جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ پھر ایک دوسرا موقع آیا اور آپ نے اسی کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ سجدے کی آیت پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نبی (سیدنا داود علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر ہے لیکن میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم سجدہ کرنا چاہتے ہو۔ چنانچہ آپ اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف:4276)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: اس سے مراد داود علیہ السلام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1455، 1795) وللحديث شواهد عند البيھقي (2/319) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں