🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. فَضِيلَةُ لِبَاسِ الصُّوفِ
اون کے لباس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
حدَّثناه علي بن حَمْشَاذَ وأبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: حدثنا محمد بن يونس، حدثنا عبد الله بن  [داود، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان]   (4) عن أبي أُمامة الباهلي قال: قال رسول الله ﷺ:"عليكم بلِباسِ الصُّوف تَجِدُون حلاوةَ الإيمان في قلوبكم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 77 - ساقه من طريق ضعيف
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اون کے لباس کو اختیار کرو، تم اپنے دلوں میں ایمان کی مٹھاس پاؤ گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، محمد بن يونس - وهو الكُديمي - واهٍ واتُّهم بالوضع، وشيخه عبد الله بن داود - وهو الواسطي التمَّار - صاحب مناكير-» [ترقيم الرساله 77] [ترقيم الشركة 77] [ترقيم العلميه 77]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شَيْبان. وأخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَبُ، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، وقد قارَبَ بين أصحابه السَّيرُ، فرفع بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾  [الحج: 1 - 2] ، فلما سمع أصحابُه ذلك، حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنَّه عند قولٍ يقوله، فلما تأشَّبُوا عنده حولَه، قال:"هل تدرون أيُّ يومٍ ذاكُم؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، قال:"ذاك يوم يُنادَى آدمُ فيناديه ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون إلى النار وواحدٌ إلى الجنة" قال: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسول الله ﷺ ذاك قال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، إنكم مع خَلِيقتَينِ ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرَتاهُ، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدم وبني إبليسَ" قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، قال:"اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمد بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامَة في جَنْبِ البعير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بطوله، والذي عندي أنهما قد تَحرَّجا ذلك خَشْيةَ الإرسال، وقد سمع الحسنُ من عِمْران بن حُصَين، وهذه الزيادات التي في هذا المتن أكثرُها عند مَعمَر عن قتادة عن أنس، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 78 - صحيح الإسناد سمع الحسن من عمران
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1-2] ، جب صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کر دیا اور وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات ارشاد فرمانے والے ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب آدم کو پکارا جائے گا اور ان کا رب انہیں پکار کر کہے گا: اے آدم! دوزخ کا لشکر نکالو، وہ عرض کریں گے: دوزخ کا لشکر کتنا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ میں اور ایک جنت میں، راوی کہتے ہیں: (یہ سن کر) صحابہ مایوس ہو گئے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ تک نہ رہی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! تم دو ایسی مخلوقات کے ساتھ ہو کہ وہ جس چیز کے ساتھ ہوں اسے کثرت میں بدل دیتے ہیں، یعنی یاجوج و ماجوج، اور بنی آدم و بنی ابلیس میں سے جو ہلاک ہو چکے ہیں، راوی کہتے ہیں: اس سے لوگوں کا غم دور ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوشخبری پاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے کسی چوپائے کے بازو پر ایک نشان ہوتا ہے یا جیسے اونٹ کے پہلو پر ایک تل کا نشان ہوتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن ان دونوں نے اسے پوری تفصیل کے ساتھ روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے مرسل ہونے کے اندیشے کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے، حالانکہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، اور اس متن میں موجود زیادہ تر زیادات معمر عن قتادہ عن انس کی روایت میں بھی ہیں، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله عن آخرهم ثقات، وفي سماع الحسن - وهو البصري - من عمران بن حصين خلاف، وقد جزم الحاكم في غير موضع من كتابه هذا بسماعه منه، والجمهور على أنه لم يسمع منه، وهذا الحديث قد توبع الحسن عليه كما سيأتي-» [ترقيم الرساله 78] [ترقيم الشركة 78] [ترقيم العلميه 78]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں