المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
75. الْوَصِيَّةُ لِمَنْ أَرَادَ سَفَرًا
سفر کا ارادہ کرنے والے کے لیے نصیحت
حدیث نمبر: 180
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني حَرْمَلة بن عمران التُّجِيبي، أنَّ أبا السمط (2) سعيد بن أبي سعيد المَهْري حدَّثه عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو (3) : أنَّ معاذ بن جبل أراد سفرًا، فقال: يا رسول الله، أَوصني، قال:"اعبُدِ الله ولا تُشْرِكْ به شيئًا" قال: يا رسول الله، زِدْني، قال:"إذا أسأتَ فأحسن" قال يا رسول الله، زِدْني، قال:"اسْتَقِمْ ولتُحسِّن خُلُقَك" (4) .
هذا حديث حسن صحيح الإسناد من رواية المصريِّين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 179 - صحيح الإسناد
هذا حديث حسن صحيح الإسناد من رواية المصريِّين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 179 - صحيح الإسناد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مزید (کچھ ارشاد فرمائیے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی برائی ہو جائے تو (اس کے بعد) نیکی کرو“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مزید کچھ ارشاد فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو اچھا بناؤ۔“
یہ حدیث مصریوں کی روایت سے حسن صحیح الاسناد ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 180]
یہ حدیث مصریوں کی روایت سے حسن صحیح الاسناد ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، عبد الله بن صالح -وهو كاتب الليث- وإن كان في حفظه شيء، قد توبع، وسعيد المهري روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"-، وسيأتي مرة أخرى من طريق عبد الله بن صالح برقم (7808)-» [ترقيم الرساله 180] [ترقيم الشركة 179] [ترقيم العلميه 179]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 181
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سنان القزَّاز، حدثنا أبو عاصم، حدثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: ﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ [النجم: 32] ، قال: هو أن يأتي الرجلُ الفاحشة ثم يتوب منها، قال: وقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ إِن تَغفِرْ تَغفِرْ جمّا … وأيُّ عبدٍ لك لا ألَمّا" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجا حديث عبد الله بن طاووس عن أبيه عن ابن عباس أنه قال: لم أرَ شيئًا أقربَ باللَّمَم من الذي قال أبو هريرة:"كُتِبَ على ابن آدم حظُّه من الزنى" الحديث (2) . والذي عندي أنهما تَرَكا حديثَ عمرو بن دينار للحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 180 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما خرَّجا حديث عبد الله بن طاووس عن أبيه عن ابن عباس أنه قال: لم أرَ شيئًا أقربَ باللَّمَم من الذي قال أبو هريرة:"كُتِبَ على ابن آدم حظُّه من الزنى" الحديث (2) . والذي عندي أنهما تَرَكا حديثَ عمرو بن دينار للحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 180 - على شرطهما
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿الذين يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ﴾ ”جو لوگ بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں“ [سورة النجم: 32] کے بارے میں فرمایا کہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے کوئی بے حیائی کا کام سرزد ہو جائے اور پھر وہ اس سے توبہ کر لے، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اگر تو بخش دے تو سب کے سب (گناہ) بخش دے... اور تیرا کون سا بندہ ہے جس سے لغزش (چھوٹا گناہ) نہ ہوا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف عبداللہ بن طاؤس کی اپنے والد کے واسطے سے ابن عباس کی وہ روایت لی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ کے اس قول سے زیادہ کسی چیز کو «لمم» (چھوٹے گناہ) کے قریب نہیں دیکھا کہ ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے...“ الخ۔ میرے نزدیک ان دونوں نے عمرو بن دینار کی اس حدیث کو (آنے والی) اگلی حدیث کی وجہ سے چھوڑا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 181]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف عبداللہ بن طاؤس کی اپنے والد کے واسطے سے ابن عباس کی وہ روایت لی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ کے اس قول سے زیادہ کسی چیز کو «لمم» (چھوٹے گناہ) کے قریب نہیں دیکھا کہ ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے...“ الخ۔ میرے نزدیک ان دونوں نے عمرو بن دینار کی اس حدیث کو (آنے والی) اگلی حدیث کی وجہ سے چھوڑا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع ومن فوقه ثقات، إلّا أنَّ الحافظ ابن كثير قال في "تفسيره" 7/ 436: في رفعه نظر، وقال الحافظ ابن حجر في "الأمالي الحلبية": سنده صحيح وفي رفعه نكارة، وقال البيهقي في "شعب الإيمان": المحفوظ ...» [ترقيم الرساله 181] [ترقيم الشركة 180] [ترقيم العلميه 180]
الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
حدیث نمبر: 182
حدَّثَناه عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم، حدثنا شُعبة، حدثنا منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، في هذه الآية: ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [النجم: 32] قال: الذي يُلِمُّ بالذَّنْب ثم يَدَعُه، ألم تسمع قول الشاعر: إنْ تَغفر اللهمَّ تَغفِرْ جَما … وأيُّ عبدٍ لك لا ألما (1) وهذا التوقيف لا يُوهِنُ سند الأوَّل، فإنَّ زكريا بن إسحاق حافظ ثقة، وقد حدَّث به روح بن عُبادة عن زكريا، وقد ذكرتُ في شرائط هذا الكتاب إخراج التفاسير عن الصحابة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾ ”مگر چھوٹے گناہ“ [سورة النجم: 32] کے بارے میں فرمایا کہ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ میں مبتلا ہو جائے اور پھر اسے چھوڑ دے، کیا تم نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا: ”اے اللہ! اگر تو بخش دے تو کثرت سے بخش دے... اور تیرا کون سا ایسا بندہ ہے جس سے خطا «لمم» نہ ہوئی ہو۔“
یہ موقوف روایت پہلی (مرفوع) روایت کی سند کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ زکریا بن اسحاق حافظ اور ثقہ ہیں، اور روح بن عبادہ نے بھی ان سے یہ حدیث بیان کی ہے، اور میں اس کتاب کی شرائط میں صحابہ سے منقول تفاسیر کی تخریج کا ذکر کر چکا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 182]
یہ موقوف روایت پہلی (مرفوع) روایت کی سند کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ زکریا بن اسحاق حافظ اور ثقہ ہیں، اور روح بن عبادہ نے بھی ان سے یہ حدیث بیان کی ہے، اور میں اس کتاب کی شرائط میں صحابہ سے منقول تفاسیر کی تخریج کا ذکر کر چکا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، من جهة أبي بكر بن إسحاق، وأما عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف في الإسناد الأول فضعيف، وهو موقوف، وهو المحفوظ كما قال البيهقي، وانظر ما قبله» [ترقيم الرساله 182] [ترقيم الشركة 181]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح