المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
125. (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ): مِنْ ذَهَبٍ وَمِنْ فِضَّةٍ
جو اپنے رب کے سامنے ڈر گیا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں: ایک سونے کی، ایک چاندی کی۔
حدیث نمبر: 285
حدثنا عَبْدانُ بن يزيد الدَّقَّاق، بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني وأبي عِمران الجَوْني، عن أبي بكر بن أبي موسى الأشعري، عن أبي موسى في قوله ﷿: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [الرحمن: 46] ، قال: جنَّتَانِ من ذهبٍ للسابقين، وجنَّتانِ من فِضّة للتابعين (1) . هذا إسناد صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما خرَّجا من حديث الحارث بن عُبيد وعبد العزيز بن عبد الصمد، عن أبي عِمران الجَوْني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، عن النبي ﷺ:"جَنَّتانِ من فضَّة" الحديث، وليس فيه ذكرُ السابقين والتابعين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 282 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 282 - على شرط مسلم
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ ”اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں“ [سورة الرحمن: 46] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: سونے کی دو جنتیں سابقین (سبقت لے جانے والوں) کے لیے ہوں گی، اور چاندی کی دو جنتیں تابعین کے لیے ہوں گی۔
یہ سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، انہوں نے ابوعمران جونی کے واسطے سے صرف ”چاندی کی دو جنتیں“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اس میں سابقین و تابعین کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 285]
یہ سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، انہوں نے ابوعمران جونی کے واسطے سے صرف ”چاندی کی دو جنتیں“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اس میں سابقین و تابعین کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 285]
حدیث نمبر: 285M
سمعتُ أبا الحسن عليَّ بن عمر الحافظ يقول: سمعت أبا الفضل الوزير يقول: سمعت مأمون المصري يقول: قلت لأبي عبد الرحمن النَّسَائي: لمَ تَرَكَ محمدُ بن إسماعيل حديثَ حمّاد بن سلمة؟ فقال: والله إنَّ حماد بن سلمة أخيرُ وأصدقُ من إسماعيل بن أبي أُويس؛ وذكر حكايةً طويلة شبيهة بالاستبدال بالحارث بن عبيد عن حماد.
میں نے ابوالحسن علی بن عمر الحافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے ابوالفضل وزیر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے مامون مصری سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو عبدالرحمن نسائی سے پوچھا کہ امام بخاری نے حماد بن سلمہ کی احادیث کو کیوں ترک کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! حماد بن سلمہ، اسماعیل بن ابی اویس سے کہیں زیادہ بہتر اور سچے ہیں؛ پھر انہوں نے ایک طویل حکایت ذکر کی جس کا خلاصہ حماد کی روایت کے بدلے حارث بن عبید کی روایت کو لینے پر بحث تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 285M]