المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
124. يُذْبَحُ الْمَوْتُ عَلَى الصِّرَاطِ
موت کو پل صراط پر ذبح کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 280
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة البغدادي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا عُبيد الله بن عبد الرحمن الأشجَعي، عن سفيان، عن محمد بن المنكَدِر، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا دَخَلَ أهلُ الجنةِ الجنةَ قال الله ﷿: ألا أنبِّئُكم بأكبرَ من هذا؟ قالوا: بلى، وما أكبرُ من هذا؟ قال: الرِّضْوانُ" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا میں تمہیں اس سے بھی بڑی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اس سے بڑی چیز کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا: میری رضا مندی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 280]
حدیث نمبر: 281
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المعدَّل بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤتَى بالموت يومَ القيامة في هيئةِ كبشٍ أملَحَ، فيقال: يا أهلَ الجنة، فيَطَّلِعون خائفينَ وَجِلِينَ مخافةَ أن يُخرَجوا مما هم فيه، فيقال: تعرفون هذا؟ فيقولون: نعم، هذا الموتُ، ثم يقال: يا أهلَ النار، فيَطَّلِعونَ مُستبشِرين فَرِحينَ أن يُخرَجوا ممّا هم فيه، فيقال: أتعرفون هذا؟ فيقولون: نعم، هذا الموتُ، فيأمرُ به فيُذبَح على الصِّراط، فيقال للفريقين: خلودٌ فيما تَجِدُون، لا موتَ فيها أبدًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فإنَّ يزيد بن هارون ثبتٌ وقد أسنده في جميع الروايات عنه، وأَوقَفَه (1) الفضلُ بن موسى السِّيناني وعبدُ الوهاب بن عبد المجيد عن محمد بن عمرو. أما حديثُ الفضل بن موسى:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فإنَّ يزيد بن هارون ثبتٌ وقد أسنده في جميع الروايات عنه، وأَوقَفَه (1) الفضلُ بن موسى السِّيناني وعبدُ الوهاب بن عبد المجيد عن محمد بن عمرو. أما حديثُ الفضل بن موسى:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر پکارا جائے گا: اے جنت والو! پس وہ اس خوف اور ڈر کے ساتھ جھانکیں گے کہ کہیں انہیں وہاں سے نکال نہ دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے؛ پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! وہ اس خوشی اور امید کے ساتھ جھانکیں گے کہ شاید انہیں اس (عذاب) سے نکال دیا جائے، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے؛ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا، اور دونوں گروہوں سے کہہ دیا جائے گا: اب تم جس حال میں ہو اسی میں ہمیشہ رہو گے، اس کے بعد اب کبھی موت نہیں آئے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ یزید بن ہارون ثقہ ہیں اور انہوں نے اپنی تمام روایات میں اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، جبکہ فضل بن موسیٰ سینانی اور عبدالوہاب بن عبدالمجید نے اسے محمد بن عمرو سے موقوفاً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 281]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ یزید بن ہارون ثقہ ہیں اور انہوں نے اپنی تمام روایات میں اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، جبکہ فضل بن موسیٰ سینانی اور عبدالوہاب بن عبدالمجید نے اسے محمد بن عمرو سے موقوفاً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 281]
حدیث نمبر: 282
فأخبرنا الحسن بن محمد بن حَليم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا يوسف (2) بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: يُؤتَى بالموت يومَ القيامة، فذكر الحديث موقوفًا (3) . وأما حديث عبد الوهاب بن عبد المجيد:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کے مثل (موقوفاً) ذکر کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 282]
حدیث نمبر: 283
فأخبرَناه أبو محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا بُندَارٌ، حدثنا عبد الوهاب؛ فذكره بإسناده موقوفًا عن أبي هريرة (4) . وقد اتَّفق الشيخانِ على إخراج هذا الحديث بغير هذا اللفظ من حديث الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 278 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 278 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہی حدیث موقوفاً بیان کی ہے۔
شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اس حدیث کو ان الفاظ کے علاوہ اعمش کی روایت سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 283]
شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اس حدیث کو ان الفاظ کے علاوہ اعمش کی روایت سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 283]
حدیث نمبر: 284
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرَقي، حدثنا مُسلم بن خالد، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، عن ابن سابِطٍ، عن عمرو بن ميمون الأَوْدي قال: قام فينا معاذُ بن جبل فقال: يا بني أَوْدٍ، إني رسولُ رسولِ الله ﷺ، تعلمون! المَعَادُ إلى الله، ثم إلى الجنة أو إلى النار، وإقامةٌ لا ظَعْنَ فيها (2) ، وخلودٌ لا موتَ، في أجسادٍ لا تموت (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، رواتُه مكِّيُّون، ومسلم بن خالد الزَّنْجي إمام أهل مكة ومُفتِيهم، إلّا أنَّ الشيخين قد نَسَبَاه إلى أنَّ الحديث ليس من صَنْعته، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 281 - صحيح الإسناد
هذا حديث صحيح الإسناد، رواتُه مكِّيُّون، ومسلم بن خالد الزَّنْجي إمام أهل مكة ومُفتِيهم، إلّا أنَّ الشيخين قد نَسَبَاه إلى أنَّ الحديث ليس من صَنْعته، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 281 - صحيح الإسناد
عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے بنو اود! بے شک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، تم یہ جان لو! اللہ کی طرف لوٹنا برحق ہے، پھر وہاں سے جنت یا جہنم کا ٹھکانہ ہے، وہاں ایسی رہائش ہوگی جہاں سے پھر کہیں کوچ نہیں کرنا، اور ایسی ہمیشگی ہوگی جہاں موت نہیں آئے گی، ایسے جسموں کے ساتھ جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی مکی ہیں، اور مسلم بن خالد زنجی اہلِ مکہ کے امام اور مفتی ہیں، البتہ شیخین نے ان کے بارے میں یہ رائے دی ہے کہ فنِ حدیث ان کا خاص شعبہ نہیں تھا، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 284]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی مکی ہیں، اور مسلم بن خالد زنجی اہلِ مکہ کے امام اور مفتی ہیں، البتہ شیخین نے ان کے بارے میں یہ رائے دی ہے کہ فنِ حدیث ان کا خاص شعبہ نہیں تھا، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 284]