المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الْأَمْرُ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ وَالْمُبَالَغَةِ فِي الِاسْتِنْشَاقِ
وضو کو اچھی طرح مکمل کرنے، انگلیوں کے خلال کرنے اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھانے کا حکم۔
حدیث نمبر: 530
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن عمرو البزّاز (3) ببغداد، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُريج، حدثني إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه - وكان وافدَ بني المُنتفِق -: أنه أتى عائشةَ هو وصاحبٌ له يَطلُبانِ رسولَ الله ﷺ فلم يَجِدَاه، فأطعَمَتهما عائشةُ تمرًا وعَصِيدًا، فلم يَلبَثا أن جاء رسولُ الله ﷺ يَتقلَّعُ (4) يَتكفَّأُ ﷺ، فقال:"هل أطعَمَكما أحدٌ؟" فقلت: نعم يا رسول الله، ثم قلت: يا رسول الله، أخبِرنا عن الصلاة، قال:"أَسبغِ الوضوءَ، وخَلِّلِ الأصابع، وإذا استنشقتَ فبالِغْ إلّا أن تكون صائمًا" (1) . وأما حديث داود بن عبد الرحمن العطَّار:
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کھجوریں اور دلیا کھلایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقار کے ساتھ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کسی نے تمہیں کھانا کھلایا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں کا خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 530]
حدیث نمبر: 531
فأخبرَناه جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا محمد بن علي بن زيد (2) المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطَّار، عن إسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا استنشقتَ فبالِغْ إلّا أن تكون صائمًا، ولا تَضرِبْ ظَعِينتَك كما تضربُ أَمَتَك" (3) . وأما حديث يحيى بن سُلَيم:
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ناک میں پانی ڈالو تو مبالغہ کیا کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو، اور اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جیسے اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 531]
حدیث نمبر: 532
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا يحيى بن سُلَيم، عن إسماعيل بن كَثير قال: سمعت عاصم بن لَقِيط بن صَبِرَة، يحدِّث عن أبيه قال: كنت وافدَ بني المُنتفِق إلى رسول الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، أخبِرني عن الوضوء، فقال:"أَسبغِ الوُضوءَ، وخلِّلْ بين الأصابع، وبالِغْ في الاستنشاق إلّا أن تكون صائمًا" (1) . ولهذا الحديث شاهد عن ابن عباس:
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں بنو منتقق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو اچھی طرح (کامل) کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 532]
حدیث نمبر: 533
أخبرَناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا ابن أبي ذِئْب عن قارِظ بن عبد الرحمن (2) ، عن أبي غَطَفان المُرِّي، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"استَنثِروا مرَّتين بالِغَتين أو ثلاثًا" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 526 - هذا شاهد لخبر لقيط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 526 - هذا شاهد لخبر لقيط
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک میں مبالغے کے ساتھ دو یا تین مرتبہ پانی ڈال کر جھاڑا کرو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 533]