🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. سَلَامُ الْخَطِيبِ وَقْتَ قِرَاءَةِ الْخُطْبَةِ
خطبہ پڑھتے وقت خطیب کے سلام کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح: أنَّ أبا سعيدٍ الخدري دخل يوم الجمعة ومروانُ بن الحكم يخطُبُ، فقام يصلي، فجاء الأحراس ليُجلِسوه فأبى حتى صلَّى، فلما انصَرَفَ مروان أتيناه فقلنا له: يرحمُكَ الله، إن كادوا ليَفعَلون بك، قال: ما كنتُ أتركُها بعد شيءٍ رأيتُه من رسول الله ﷺ، ثم ذَكَرَ رجلًا جاء يومَ الجمعة ورسولُ الله ﷺ، يَخطُب، ثم جاء يومَ الجمعة الأخرى ورسولُ الله ﷺ يَخطُب، فأَمَرَ رسول الله ﷺ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقى الرجلُ أحدَ ثوبيه، فصلَّى رسولُ الله ﷺ، ثم زَجَرَه وقال:"خُذْ ثوبَك". ثم قال رسول الله ﷺ:"إنَّ هذا دخلَ في هيئةٍ بَذَّة، فأمرتُ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقَى هذا أحدَ ثَوبَيه"، ثم أمره رسولُ الله ﷺ أن يُصلّيَ ركعتين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديث الذي قبله. وله شاهدٌ آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1054 - على شرط مسلم
عیاض بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے جبکہ مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا، وہ (تحیۃ المسجد) پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو سپاہی انہیں بٹھانے کے لیے آئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا یہاں تک کہ نماز پڑھ لی، جب مروان فارغ ہو کر مڑا تو ہم ان کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ آپ پر رحم کرے، وہ تو آپ کے ساتھ (سختی) کرنے ہی والے تھے، انہوں نے فرمایا: میں اسے (ان دو رکعتوں کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عمل دیکھنے کے بعد ہرگز نہیں چھوڑ سکتا تھا، پھر انہوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو جمعہ کے دن آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، پھر وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک پھینک دیا (صدقہ کر دیا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص انتہائی خستہ حال میں داخل ہوا تھا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک دے دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ پچھلی حدیث کا شاہد ہے، اس کا ایک اور شاہد بھی امام مسلم کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1066]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد الخُزاعيُّ بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا المكِّي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن حُميد بن هلال، عن أبي رِفَاعة العَدَويّ قال: انتهيتُ إلى النبيِّ ﷺ وهو يَخطُب، فقلت: يا رسولَ الله، رجلٌ غريبٌ جاء يَسألُ عن دِينِه لا يدري ما دِينُه؟ فأقبل إلي وتَركَ خُطبتَه، فأُتي بكرسيِّ خُلْبٍ قوائمُه حديدٌ (1) ، فجعل يعلِّمُني مما علَّمه الله، ثم أتى خُطبتَه وأتمَّ آخرها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1055 - على شرط مسلم
سیدنا ابو رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مسافر شخص اپنے دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے جسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک لکڑی کی کرسی لائی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وہ علم سکھانے لگے جو اللہ نے آپ کو سکھایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1067]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبريّ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْديّ، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبيّ، حدثنا مَخْلَد بن يزيد، حدثنا ابن جُريج، عن عطاء، عن جابرٍ قال: لما استوى رسول الله ﷺ على المنبر قال:"اجلِسُوا" فسمع ابنُ مسعودٍ فجلس على باب المسجد، فرآه النبيُّ ﷺ فقال:"تعالَ يا عبدَ الله ابنَ مسعود" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1056 - على شرطهما
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر برابر بیٹھ گئے تو فرمایا: بیٹھ جاؤ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو وہ مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! (قریب) آ جاؤ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1068]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود (2) المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سَعْد الدَّشْتَكيّ، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِمَاك بن حرب، عن جابر بن سَمُرة السُّوائي قال: مَن حدَّثك أَنَّ رسول الله ﷺ كان يخطُب على المنبر جالسًا فكذِّبْه، فأنا شهدتُه كان يخطُب قائمًا، ثم يجلس، ثم يقوم فيخطُب خطبةً أخرى، قال: قلت كيف كانت خُطبتُه؟ قال: كلامٌ يَعِظُ به الناس ويقرأ آياتٍ من كتاب الله، ثم ينزل، وكانت قصدًا -يعني خطبته- وكانت صلاتُه قصدًا بنحو: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾، ﴿وَالسَّمَاءِ والطَّارِقِ﴾، إلّا صلاةَ الغداة وصلاةَ الظهر، كان يؤذِّن بلالٌ حيث تَدْحَضُ الشمس، فإن جاء رسول الله ﷺ أقامَ وإلّا سَكَتَ حتى يخرج، والعصرُ نحوًا مما تصلُّون، والمغربُ نحوًا ممّا تصلُّون، والعشاء الآخرة يؤخِّرُها عن صلاتِكم قليلًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّج لفظتين مختصرتين من حديث أبي الأحْوَص عن سِمَاك:"كان يَخطُبُ خُطبتَين بينهما جَلْسة (1) ، وكانت صلاتُه قصدًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1057 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص تم سے یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو اسے جھٹلا دو، کیونکہ میں گواہ ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھتے تھے، پھر دوبارہ کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ کیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: وہ ایسی گفتگو ہوتی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نصیحت کرتے اور اللہ کی کتاب کی آیات پڑھتے تھے، پھر منبر سے اترتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اور نماز دونوں میانہ روی پر مبنی ہوتے تھے، نماز میں آپ ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ اور ﴿وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ﴾ جیسی سورتیں پڑھتے تھے سوائے فجر اور ظہر کی نماز کے۔ (سیدنا) بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اذان دیتے جب سورج ڈھل جاتا، پھر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو وہ اقامت کہتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے تک خاموش رہتے۔ عصر اور مغرب کی نماز تم لوگوں کی نماز کی طرح ہی ہوتی تھی، البتہ عشاء کی نماز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری نماز سے تھوڑا تاخیر سے پڑھتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس تفصیل کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے سماک سے ابواحوص کی روایت سے صرف دو مختصر جملے نقل کیے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے جن کے درمیان بیٹھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میانہ ہوتی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1069]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1070
حدثنا أبو العباس محمدُ بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود ووَهْب بن جَرير، قالا: حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن سِمَاك بن حرب قال: سمعتُ النُّعمان بن بَشِير يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يَخطُب يقول:"أَنذرتُكم النار، أَنذرتُكم النار"، حتى لو أنَّ رجلًا كان بالسُّوق لسَمِعَه من مَقامي هذا، حتى وَقَعَت خَمِيصةٌ كانت على عاتقِه عند رِجلِه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1058 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: میں نے تمہیں آگ سے ڈرا دیا ہے، میں نے تمہیں آگ سے ڈرا دیا ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر بلند آواز سے فرما رہے تھے کہ) اگر کوئی شخص بازار میں ہوتا تو وہ بھی میری اس جگہ سے سن لیتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر موجود چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں گر گئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1070]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں