المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. زَكَاةُ الذَّهَبِ
سونے کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعيُّ ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أَبي، عن عبد الله بن أبي بكر ومحمد ابنَي أبي بكر بن عَمرو بن حَزْم، عن أبيهما، عن جدِّهما، عن رسول الله ﷺ؛ للكتابِ الذي كَتَبه رسول الله ﷺ لعَمرِو بن حَزْم: فإذا بَلَغَ قيمةُ الذهب مئتي درهمٍ، ففي كلِّ أربعينَ درهمًا درهمٌ (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، وهو دليلٌ على الكتاب المشروح المفسَّر:
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، وهو دليلٌ على الكتاب المشروح المفسَّر:
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے پوتے اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے نام جو خط لکھا تھا اس میں یہ بھی تھا: "جب سونے کی قیمت دو سو درہم تک پہنچ جائے، تو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکوٰۃ) واجب ہوگی۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مفصل و مفسر خط کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1462]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ اس مفصل و مفسر خط کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1462]
حدیث نمبر: 1463
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سَهْلٍ الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا الحَكَم بن موسى. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد العَبْدي، حدثنا أبو صالح الحَكَم بن موسى القَنْطَري، حدثنا يحيى بن حمزة، عن سليمان بن داود، عن الزُّهري، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، عن جدِّه، عن النبي ﷺ: أنه كَتَبَ إلى أهل اليمن بكتابٍ فيه الفرائضُ والسننُ والدِّيَاتُ، وبعث [به] (1) مع عمرو بن حزم فقُرِئت على أهل اليمن، وهذه نُسختُها:"بسم الله الرحمن الرحيم، من محمدٍ النبيِّ إلى شُرَحْبيل بن عبد كُلَالٍ والحارث بن عبد كُلَال ونُعَيم بن كُلَال قَيْلِ ذي رُعَينٍ ومَعافِرَ وهَمْدان، أما بعد: فقد رَجَعَ رسولُكم وأَعطَيتُم من المغانم خُمُسَ الله، وما كَتَبَ الله على المؤمنين من العُشْر في العَقَار، ما سَقَتِ السماءُ، أو كان سَيْحًا، أو كان بعلًا، ففيه العُشْر إذا بلغت خمسةَ أوسُقٍ، وما سُقي بالرِّشاء والدَّاليَةِ، ففيه نصفُ العُشْر إذا بلغ خمسةَ أوسقٍ. وفي كل خَمْسٍ من الإبل سائمةٍ شاةٌ إلى أن تبلغ أربعًا وعشرين، فإذا زادت واحدةً على أربعٍ وعشرين ففيها ابنة مَخَاض، فإن لم توجد ابنةُ مخاضٍ فابنُ لبونٍ ذكرٌ إلى أن تبلغ خمسًا وثلاثين، فإذا زادت على خمسةٍ وثلاثين واحدةً ففيها ابنة لبونٍ إلى أن تبلغ خمسةً وأربعين، فإن زادت واحدةً على خمسةٍ وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقةُ الفحل إلى أن تبلغ ستين، فإن زادت على ستين واحدةً ففيها جَذَعة إلى أن تبلغ خمسةً وسبعين، فإن زادت على خمسةٍ وسبعين واحدةً ففيها ابنتا (2) لَبونٍ إلى أن تبلغ تسعينَ، فإن زادت واحدةً على تسعين ففيها حِقَّتان طَرُوقتا الجَمَل إلى أن تبلغ عشرين ومئة، فما زادت على عشرين ومئة ففي كلِّ أربعينَ ابنةُ لبونٍ، وفي كل خمسين حِقَّةٌ طَروقَةُ الجمل. وفي كلِّ ثلاثين باقورةً تَبيعٌ جَذَعٌ أو جَذَعةٌ، وفي كل أربعين باقورةً بقرةٌ. وفي كلِّ أربعين شاةً سائمةً شاةٌ إلى أن تبلغ عشرين ومئة، فإن زادت على العشرين ومئة واحدةً ففيها شاتان إلى أن تبلغ مئتين، فإن زادت واحدةً ففيها ثلاث شياهٍ إلى أن تبلغ ثلاث مئة، فإن زادت فما زاد ففي كلِّ مئة شاةٍ شاةٌ. ولا يُؤخَذُ في الصدقة هَرِمةٌ ولا عَجْفاءُ، ولا ذاتُ عَوَارٍ، ولا تيسُ الغنم إلّا أن يشاء المصَّدِّق. ولا يُجمَع بين متفرِّق، ولا يفرَّق بين مجتَمِعٍ خِيفةَ الصدقة. وما أُخذَ من الخليطَين فإنهما يتراجعان بينهما بالسَّوِيَّة. وفي كلِّ خمسٍ أواقٍ من الوَرِق خمسةُ دراهم، وما زاد ففي كلِّ أربعين [درهمًا درهم، وليس فيما دون خمسِ أواقٍ شيءٌ، وفي كل أربعين] (1) دينارًا دينار. إنَّ الصَّدقة لا تَحِلُّ لمحمدٍ، ولا لأهل بيتِ محمد، إنما هي الزكاةُ تُزكَّى بها أنفسُهُم، ولفقراءِ المؤمنين، وفي سبيل الله، وابنِ السَّبيل. وليس في رَقيقٍ ولا مزرعةٍ ولا عُمَّالِها شيءٌ إذا كانت تؤدَّى صدقتُها من العُشر، وأنه ليس في عبدٍ مسلمٍ ولا في فرسِه شيءٌ". قال: وكان في الكتاب:"إنَّ أكبر الكبائر عند الله يومَ القيامة إشراكٌ بالله، وقتلُ النَّفس المؤمنِ بغير حقٍّ، والفِرارُ في سبيل الله يومَ الزَّحف، وعقوقُ الوالدين، ورميُ المُحصَنة، وتعلُّم السِّحر، وأكلُ الربا، وأكلُ مال اليتيم. وإنَّ العُمرةَ الحجُّ الأصغر، ولا يَمَسُّ القرآنَ إلّا طاهر، ولا طلاقَ قبل إملاكٍ، ولا عَتَاقَ حتى يَبتاع، ولا يُصلِّيَنَّ أَحدٌ منكم في ثوبٍ واحدٍ وشِقُّه بادٍ، ولا يُصلينَّ أحدٌ منكم عاقصٌ شَعرَه، ولا يُصلينَّ أحدٌ منكم في ثوبٍ واحدٍ ليس على مَنكِبِه شيء". وكان في الكتاب:"إنَّ من اعتَبَطَ مؤمنًا قتلًا عن بيِّنةٍ فإنه قَوَدٌ، إلَّا أن يَرضَى أولياءُ المقتول، وإنَّ في النَّفْس الدِّيةَ مئةً من الإبل، وفي الأنف الذي أُوعِبَ جَدْعُه الديةُ، وفي اللسان الديةُ، وفي الشَّفَتين الديةُ، وفي البَيضَتَين الديةُ، وفي الذَّكَر الديةُ، وفي الصُّلْب الديةُ، وفي العَينين الديةُ، وفي الرِّجْل الواحدة نصفُ الدية، وفي المأمومة ثلثُ الدية، وفي الجائِفَة ثلثُ الدية، وفي المُنقِّلة خمسَ عشرةَ من الإبل، وفي كل إِصبَعٍ من الأصابع من اليد والرِّجل عشرٌ من الإبل، وفي السِّنِّ خمسٌ من الإبل، وفي المُوضِحةِ خمسٌ من الإبل، وأنَّ الرَّجل يُقتَل بالمرأة، وعلى أهل الذهب ألفُ دينار" (1) .
هذا حديث كبيرٌ مفسَّر في هذا الباب، يشهدُ له أمير المؤمنين عمر بن عبد العزيز، وإمامُ العلماءِ في عصره محمدُ بن مسلم الزُّهري بالصِّحة، كما تقدم ذكري له. وسليمان بن داود الدِّمشقي الخَوْلاني معروف بالزُّهري، وإن كان يحيى بن مَعينٍ غَمَزَه فقد عدَّله غيرُه.
هذا حديث كبيرٌ مفسَّر في هذا الباب، يشهدُ له أمير المؤمنين عمر بن عبد العزيز، وإمامُ العلماءِ في عصره محمدُ بن مسلم الزُّهري بالصِّحة، كما تقدم ذكري له. وسليمان بن داود الدِّمشقي الخَوْلاني معروف بالزُّهري، وإن كان يحيى بن مَعينٍ غَمَزَه فقد عدَّله غيرُه.
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے نام ایک خط لکھا جس میں فرائض، سنن اور دیت (خون بہا) کے احکام درج تھے اور اسے عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجا، چنانچہ اسے اہل یمن کو پڑھ کر سنایا گیا۔ اس کا متن یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، حارث بن عبد کلال اور نعیم بن کلال (ذو رعین، معافر اور ہمدان کے سرداروں) کے نام۔ امّا بعد: تمہارا قاصد واپس پہنچ گیا اور تم نے غنیمت میں سے اللہ کا پانچواں حصہ (خمس) ادا کر دیا ہے۔ اور زمین کی پیداوار میں اللہ نے مومنوں پر جو 'عشر' (دسواں حصہ) فرض کیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو زمین آسمان کے پانی سے، یا سیلابی پانی سے یا قدرتی نمی سے سیراب ہو اس میں 'عشر' (دسواں حصہ) واجب ہے بشرطیکہ پیداوار پانچ وسق (تقریباً 653 کلوگرام) تک پہنچ جائے، اور جو کنوؤں یا ڈول کے ذریعے سیراب ہو اس میں 'نصف عشر' (بیسواں حصہ) واجب ہے بشرطیکہ پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے۔ اور چرنے والے اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری واجب ہے یہاں تک کہ تعداد چوبیس ہو جائے، جب چوبیس سے ایک بھی بڑھ جائے تو پچیس سے پینتیس تک ایک سالہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب ہے، اگر وہ نہ ہو تو دو سالہ نر اونٹ (ابن لبون) دیا جائے گا۔ چھتیس سے پینتالیس تک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) واجب ہے۔ چھیالیس سے ساٹھ تک تین سالہ اونٹنی (حقہ) واجب ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ اکسٹھ سے پچھتر تک چار سالہ اونٹنی (جذعہ) واجب ہے۔ چھہتر سے نوے تک دو عدد دو سالہ اونٹنیاں (بنت لبون) واجب ہیں۔ اکیانوے سے ایک سو بیس تک دو عدد تین سالہ اونٹنیاں (حقہ) واجب ہیں جو جفتی کے قابل ہوں۔ اس سے زائد ہونے پر ہر چالیس پر ایک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) اور ہر پچاس پر ایک تین سالہ اونٹنی (حقہ) واجب ہوگی۔ اور گائے میں ہر تیس پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی (تبیع) اور ہر چالیس پر دو سالہ گائے (مسنہ) واجب ہے۔ اور ہر چالیس چرنے والی بکریوں میں ایک بکری واجب ہے یہاں تک کہ تعداد ایک سو بیس ہو جائے، ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں، اور اس سے زائد ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی۔ زکوٰۃ میں نہ تو بہت بوڑھا، نہ دبلا پتلا، نہ عیب دار جانور لیا جائے گا اور نہ ہی ریوڑ کا نر (سانڈ) لیا جائے گا الا یہ کہ وصول کرنے والا اسے مناسب سمجھے۔ زکوٰۃ کے ڈر سے نہ الگ الگ جانوروں کو اکٹھا کیا جائے گا نہ اکٹھے جانوروں کو الگ کیا جائے گا، اور شراکت دار آپس میں برابر حساب کر لیں گے۔ چاندی میں ہر پانچ اوقیہ (تقریباً 595 گرام) پر پانچ درہم زکوٰۃ ہے، اور اس سے زائد پر ہر چالیس درہم پر ایک درہم (ڈھائی فیصد) ہے، پانچ اوقیہ سے کم پر کچھ واجب نہیں۔ اور ہر چالیس دینار پر ایک دینار واجب ہے۔ بے شک صدقہ (زکوٰۃ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آلِ محمد کے لیے حلال نہیں، یہ تو لوگوں کے نفوس کی پاکیزگی کے لیے ہے اور مومن فقراء، اللہ کی راہ میں (جہاد) اور مسافروں کے لیے ہے۔ غلاموں، زمینوں اور ان کے مزدوروں پر کچھ واجب نہیں بشرطیکہ ان کی پیداوار کا عشر ادا کیا جا رہا ہو، اور مسلمان کے (ذاتی استعمال کے) غلام اور گھوڑے پر کچھ واجب نہیں۔" اس خط میں یہ بھی درج تھا: "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ سے فرار ہونا، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا۔ عمرہ چھوٹا حج ہے، قرآن کو صرف پاک حالت میں چھوا جائے، نکاح سے پہلے طلاق نہیں، ملکیت سے پہلے آزادی نہیں، کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کا ایک پہلو کھلا ہو، کوئی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز نہ پڑھے، اور کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔" خط میں یہ بھی تھا: "جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس پر قصاص ہے الا یہ کہ مقتول کے وارث راضی ہو جائیں، جان کے بدلے سو اونٹ دیت ہے، ناک کے پورے کاٹنے پر مکمل دیت ہے، زبان پر دیت ہے، دونوں ہونٹوں پر دیت ہے، خصیوں پر دیت ہے، ذکر (عضو تناسل) پر دیت ہے، ریڑھ کی ہڈی پر دیت ہے، دونوں آنکھوں پر دیت ہے، ایک پاؤں پر آدھی دیت ہے، سر کے ایسے زخم پر جو دماغ کی جھلی تک پہنچے (مامومہ) تہائی دیت ہے، پیٹ کے گہرے زخم پر تہائی دیت ہے، ایسی چوٹ جس سے ہڈی ٹوٹ کر ہٹ جائے پندرہ اونٹ ہیں، ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی پر دس اونٹ ہیں، دانت پر پانچ اونٹ ہیں، سر کے ایسے زخم پر جس سے ہڈی ظاہر ہو جائے پانچ اونٹ ہیں، اور مرد کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا، اور سونے والوں (اہلِ مال) پر ایک ہزار دینار واجب ہیں۔"
یہ اس باب کی ایک عظیم اور مفصل حدیث ہے، جس کی صحت کی گواہی سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور امام زہری نے دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1463]
یہ اس باب کی ایک عظیم اور مفصل حدیث ہے، جس کی صحت کی گواہی سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور امام زہری نے دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1463]
حدیث نمبر: 1463M
كما أخبرَنيهِ أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي حاتم، قال: سمعتُ أبي، وسُئِل عن حديث عمرو بن حزمٍ في كتاب رسول الله ﷺ الذي كَتَبَه له في الصدقات، فقال: سليمان بن داود الخَوْلاني عندنا ممن لا بأسَ به. قال أبو محمد بن أبي حاتم: وسمعتُ أبا زُرعة يقول ذلك (1) . قال الحاكم: قد بذلتُ ما أدّى إليه الاجتهادُ في إخراج هذه الأحاديث المفسَّرة الملخَّصة في الزَّكَوات، ولا يستغني هذا الكتاب عن شرحها، واستدللتُ على صحتها بالأسانيد الصحيحة عن الخلفاء والتابعين بقَبولها واستعمالها بما فيه غُنْيةٌ لمن تأمَّلها، وقد كان إمامُنا شعبةُ يقول في حديث عُقْبة بن عامر الجُهَني في الوضوء: لَأنْ يَصِحَّ لي مثلُ هذا عن رسول الله ﷺ كان أحبَّ إليَّ من نفسي ومالي وأهلي. وذاك حديث في صلاة التطوع، فكيف بهذه السُّنن التي هي قواعدُ الإسلام، والله الموفِّق وهو حَسْبي ونعم الوكيل.
جیسا کہ عبدالرحمن بن ابی حاتم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جب ان سے عمرو بن حزم کی اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقات کے بارے میں لکھ کر دی تھی، تو انہوں نے فرمایا: ہمارے نزدیک سلیمان بن داود الخولانی ایسے راوی ہیں جن میں «لا بأس به» ”کوئی حرج نہیں“ ہے۔ ابومحمد بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوزرعہ کو بھی یہی کہتے سنا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے زکوٰۃ کے متعلق ان مفصل اور خلاصہ شدہ احادیث کی تخریج میں اپنی پوری علمی کوشش (اجتہاد) صرف کر دی ہے، اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ میں نے خلفاء اور تابعین کی جانب سے ان روایات کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کے حوالے سے صحیح اسانید کے ذریعے ان کی صحت پر استدلال کیا ہے، جس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے کافی دلیل موجود ہے۔ ہمارے امام شعبہ، عقبہ بن عامر جہنی کی وضو سے متعلق ایک حدیث کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس جیسی کوئی روایت میرے نزدیک صحیح ثابت ہو جائے تو وہ مجھے میری جان، مال اور گھر بار سے بھی زیادہ عزیز ہوگی۔“ اور وہ تو نفل نماز سے متعلق ایک حدیث تھی، تو ان سنن و احادیث کا کیا مقام ہوگا جو اسلام کے بنیادی ستون اور قواعد ہیں؟ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے اور وہی میرے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1463M]
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے زکوٰۃ کے متعلق ان مفصل اور خلاصہ شدہ احادیث کی تخریج میں اپنی پوری علمی کوشش (اجتہاد) صرف کر دی ہے، اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ میں نے خلفاء اور تابعین کی جانب سے ان روایات کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے کے حوالے سے صحیح اسانید کے ذریعے ان کی صحت پر استدلال کیا ہے، جس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے کافی دلیل موجود ہے۔ ہمارے امام شعبہ، عقبہ بن عامر جہنی کی وضو سے متعلق ایک حدیث کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس جیسی کوئی روایت میرے نزدیک صحیح ثابت ہو جائے تو وہ مجھے میری جان، مال اور گھر بار سے بھی زیادہ عزیز ہوگی۔“ اور وہ تو نفل نماز سے متعلق ایک حدیث تھی، تو ان سنن و احادیث کا کیا مقام ہوگا جو اسلام کے بنیادی ستون اور قواعد ہیں؟ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے اور وہی میرے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1463M]
حدیث نمبر: 1464
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا بَهْز بن حَكِيم. وأخبرنا أحمد بن سلمان، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعْمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا بَهز بن حَكِيم، عن أبيه، عن جده، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"في كلِّ إبلٍ سائمةٍ في كلِّ أربعينَ ابنةُ لَبُونٍ، لا تُفرَّق إبلٌ عن حسابها، من أعطاها مُؤتجرًا فله أجرُها، ومن مَنَعَها فإنّا آخِذُوها وشَطْرَ إبلِه، عَزْمةً من عَزَمات ربِّنا، لا يُحِلُّ لآلِ محمدٍ منها شيء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على ما قدَّمنا ذِكرَه في صحيح هذه الصحيفة، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على ما قدَّمنا ذِكرَه في صحيح هذه الصحيفة، ولم يُخرجاه.
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) واجب ہے، زکوٰۃ کے حساب میں اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا؛ جس نے اجر کی نیت سے زکوٰۃ دی اسے اجر ملے گا، اور جو اسے روک لے گا تو ہم اس سے زکوٰۃ بھی وصول کریں گے اور (بطور جرمانہ) اس کے اونٹوں کا آدھا حصہ بھی لیں گے، یہ ہمارے رب کے اٹل فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے، اور آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔"
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1464]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1464]