🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. زكاة الذهب
سونے کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سَهْلٍ الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا الحَكَم بن موسى. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد العَبْدي، حدثنا أبو صالح الحَكَم بن موسى القَنْطَري، حدثنا يحيى بن حمزة، عن سليمان بن داود، عن الزُّهري، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، عن جدِّه، عن النبي ﷺ: أنه كَتَبَ إلى أهل اليمن بكتابٍ فيه الفرائضُ والسننُ والدِّيَاتُ، وبعث [به] (1) مع عمرو بن حزم فقُرِئت على أهل اليمن، وهذه نُسختُها:"بسم الله الرحمن الرحيم، من محمدٍ النبيِّ إلى شُرَحْبيل بن عبد كُلَالٍ والحارث بن عبد كُلَال ونُعَيم بن كُلَال قَيْلِ ذي رُعَينٍ ومَعافِرَ وهَمْدان، أما بعد: فقد رَجَعَ رسولُكم وأَعطَيتُم من المغانم خُمُسَ الله، وما كَتَبَ الله على المؤمنين من العُشْر في العَقَار، ما سَقَتِ السماءُ، أو كان سَيْحًا، أو كان بعلًا، ففيه العُشْر إذا بلغت خمسةَ أوسُقٍ، وما سُقي بالرِّشاء والدَّاليَةِ، ففيه نصفُ العُشْر إذا بلغ خمسةَ أوسقٍ. وفي كل خَمْسٍ من الإبل سائمةٍ شاةٌ إلى أن تبلغ أربعًا وعشرين، فإذا زادت واحدةً على أربعٍ وعشرين ففيها ابنة مَخَاض، فإن لم توجد ابنةُ مخاضٍ فابنُ لبونٍ ذكرٌ إلى أن تبلغ خمسًا وثلاثين، فإذا زادت على خمسةٍ وثلاثين واحدةً ففيها ابنة لبونٍ إلى أن تبلغ خمسةً وأربعين، فإن زادت واحدةً على خمسةٍ وأربعين ففيها حِقَّةٌ طَرُوقةُ الفحل إلى أن تبلغ ستين، فإن زادت على ستين واحدةً ففيها جَذَعة إلى أن تبلغ خمسةً وسبعين، فإن زادت على خمسةٍ وسبعين واحدةً ففيها ابنتا (2) لَبونٍ إلى أن تبلغ تسعينَ، فإن زادت واحدةً على تسعين ففيها حِقَّتان طَرُوقتا الجَمَل إلى أن تبلغ عشرين ومئة، فما زادت على عشرين ومئة ففي كلِّ أربعينَ ابنةُ لبونٍ، وفي كل خمسين حِقَّةٌ طَروقَةُ الجمل. وفي كلِّ ثلاثين باقورةً تَبيعٌ جَذَعٌ أو جَذَعةٌ، وفي كل أربعين باقورةً بقرةٌ. وفي كلِّ أربعين شاةً سائمةً شاةٌ إلى أن تبلغ عشرين ومئة، فإن زادت على العشرين ومئة واحدةً ففيها شاتان إلى أن تبلغ مئتين، فإن زادت واحدةً ففيها ثلاث شياهٍ إلى أن تبلغ ثلاث مئة، فإن زادت فما زاد ففي كلِّ مئة شاةٍ شاةٌ. ولا يُؤخَذُ في الصدقة هَرِمةٌ ولا عَجْفاءُ، ولا ذاتُ عَوَارٍ، ولا تيسُ الغنم إلّا أن يشاء المصَّدِّق. ولا يُجمَع بين متفرِّق، ولا يفرَّق بين مجتَمِعٍ خِيفةَ الصدقة. وما أُخذَ من الخليطَين فإنهما يتراجعان بينهما بالسَّوِيَّة. وفي كلِّ خمسٍ أواقٍ من الوَرِق خمسةُ دراهم، وما زاد ففي كلِّ أربعين [درهمًا درهم، وليس فيما دون خمسِ أواقٍ شيءٌ، وفي كل أربعين] (1) دينارًا دينار. إنَّ الصَّدقة لا تَحِلُّ لمحمدٍ، ولا لأهل بيتِ محمد، إنما هي الزكاةُ تُزكَّى بها أنفسُهُم، ولفقراءِ المؤمنين، وفي سبيل الله، وابنِ السَّبيل. وليس في رَقيقٍ ولا مزرعةٍ ولا عُمَّالِها شيءٌ إذا كانت تؤدَّى صدقتُها من العُشر، وأنه ليس في عبدٍ مسلمٍ ولا في فرسِه شيءٌ". قال: وكان في الكتاب:"إنَّ أكبر الكبائر عند الله يومَ القيامة إشراكٌ بالله، وقتلُ النَّفس المؤمنِ بغير حقٍّ، والفِرارُ في سبيل الله يومَ الزَّحف، وعقوقُ الوالدين، ورميُ المُحصَنة، وتعلُّم السِّحر، وأكلُ الربا، وأكلُ مال اليتيم. وإنَّ العُمرةَ الحجُّ الأصغر، ولا يَمَسُّ القرآنَ إلّا طاهر، ولا طلاقَ قبل إملاكٍ، ولا عَتَاقَ حتى يَبتاع، ولا يُصلِّيَنَّ أَحدٌ منكم في ثوبٍ واحدٍ وشِقُّه بادٍ، ولا يُصلينَّ أحدٌ منكم عاقصٌ شَعرَه، ولا يُصلينَّ أحدٌ منكم في ثوبٍ واحدٍ ليس على مَنكِبِه شيء". وكان في الكتاب:"إنَّ من اعتَبَطَ مؤمنًا قتلًا عن بيِّنةٍ فإنه قَوَدٌ، إلَّا أن يَرضَى أولياءُ المقتول، وإنَّ في النَّفْس الدِّيةَ مئةً من الإبل، وفي الأنف الذي أُوعِبَ جَدْعُه الديةُ، وفي اللسان الديةُ، وفي الشَّفَتين الديةُ، وفي البَيضَتَين الديةُ، وفي الذَّكَر الديةُ، وفي الصُّلْب الديةُ، وفي العَينين الديةُ، وفي الرِّجْل الواحدة نصفُ الدية، وفي المأمومة ثلثُ الدية، وفي الجائِفَة ثلثُ الدية، وفي المُنقِّلة خمسَ عشرةَ من الإبل، وفي كل إِصبَعٍ من الأصابع من اليد والرِّجل عشرٌ من الإبل، وفي السِّنِّ خمسٌ من الإبل، وفي المُوضِحةِ خمسٌ من الإبل، وأنَّ الرَّجل يُقتَل بالمرأة، وعلى أهل الذهب ألفُ دينار" (1) .
هذا حديث كبيرٌ مفسَّر في هذا الباب، يشهدُ له أمير المؤمنين عمر بن عبد العزيز، وإمامُ العلماءِ في عصره محمدُ بن مسلم الزُّهري بالصِّحة، كما تقدم ذكري له. وسليمان بن داود الدِّمشقي الخَوْلاني معروف بالزُّهري، وإن كان يحيى بن مَعينٍ غَمَزَه فقد عدَّله غيرُه.
سیدنا ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا جس میں فرائض سنتیں اور دیت کے مسائل تھے۔ یہ مکتوب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجا (عمرو کہتے ہیں) میں نے یہ مکتوب اہل یمن کو جا کر سنایا، اس کا مضمون یہ تھا محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شرحبیل بن عبدکلال اور حارث بن عبدکلال اور نعیم بن کلال اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذی رعین، معافر اور ہمدان کی طرف (اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے) بعد تمہارا سفیر لوٹ کر آ گیا ہے اور تم نے مالِ غنیمت میں سے اللہ کا پانچواں حصہ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں پر ان زمینوں میں جو بارشوں سے سیراب ہوتی ہیں یا جو میدانی ہیں یا جو بلندی والی ہیں، ان میں عشر فرض کیا ہے۔ چنانچہ جب ان کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے تو اس کا دسواں حصہ لازم ہے۔ جس زمین کو ڈولوں یا رہٹ سے سینچا جائے، ان میں اس سے آدھا۔ خودرو گھاس چرنے والے اونٹوں میں ہر پانچ میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ 24 تک پہنچ جائیں۔ جب 24 سے ایک بھی زیادہ ہو گئی تو ان میں اونٹنی کی ایک سالہ بچی ہے، اگر یہ موجود نہ ہو تو پھر اونٹنی کا دو سالہ بچہ 35 تک۔ 35 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ اونٹنی 54 تک۔ جب 45 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں تین سالہ جوان اونٹنی 60 تک۔ جب 60 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں چار سالہ اونٹنی 75 تک۔ جب 75 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک۔ جب 90 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سالہ دو اونٹنیاں 120 تک۔ جب 120 سے زیادہ تعداد ہو تو ہر چالیس میں دو سالہ ایک اونٹنی۔ اور ہر 50 میں 3 سالہ ایک اونٹنی۔ ہر 30 گائیوں میں ایک بچھڑا ہے۔ ہر 40 گائیوں میں ایک گائے ہے۔ ہر 40 بکریوں میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ ان کی تعداد 120 ہو جائے۔ جب 120 سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں 2 بکریاں ہیں 200 تک۔ جب 200 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین بکریاں ہیں 300 تک۔ اس سے بھی اگر زیادہ ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری۔ اور صدقہ میں بوڑھا، لاغر اور کانا جانور نہ دیا جائے۔ اور پورے ریوڑ کو بکرے قرار نہ دیا جائے اِلّا یہ کہ دینے والا خود چاہے۔ اور صدقہ کے خوف سے متفرق کو مجتمع اور مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور دو شریکوں سے جو کچھ لیا جائے گا وہ دونوں آپس میں برابری کے ساتھ رجوع کر لیں گے۔ اور ہر 5 اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں اور اس سے زیادہ ہو تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم ہے۔ پانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ ہر چالیس دیناروں میں ایک دینار ہے۔ بے شک صدقہ محمد اور محمد کے اہل بیت کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ تو زکوۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کرتے ہو، یہ مومن فقراء کے لیے ہے اور مجاہدوں کے لیے ہے اور مسافروں کے لیے ہے۔ اور غلاموں میں زکوۃ نہیں ہے اور کھیتی میں اور کھیت میں کام کرنے والوں میں زکوۃ نہیں ہے جبکہ وہ اس کا عُشر ادا کرتے ہوں نیز مسلمان غلام میں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں زکوۃ ہے، اس تحریر میں یہ بھی تھا: اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے اور مومن کو ناحق قتل کرنا ہے اور جہاد سے بھاگنا ہے، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، پاک دامنہ خاتون پر زنا کی تہمت لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے۔ اور بے شک عمرہ چھوٹا حج ہے اور قرآن کو بغیر طہارت کے ہاتھ نہ لگائیں اور نکاح سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی اور خریدنے سے پہلے آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ اور کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کا پہلو ننگا ہو اور کوئی شخص اپنے بالوں کو گوندھے ہوئے نماز نہ پڑھے اور کوئی شخص ایک کپڑے میں یوں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔ اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ: جس شخص کے لیے کسی مومن کا قتل گواہی سے ثابت ہو جائے تو اس کے لیے قصاص ہو گا، سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں۔ اور یہ بھی تھا کہ: جان کی دیت ایک سو اونٹ ہے اور ناک کاٹنے کی بھی دیت ہے اور زبان کی بھی دیت ہے اور ہونٹوں میں دیت ہے اور دونوں پستانوں میں دیت ہے اور ذکر (آلہ تناسل) میں دیت ہے اور پشت میں دیت اور دونوں آنکھوں میں دیت ہے اور ایک پاؤں کی آدھی دیت ہے۔ اور سر کی چوٹ میں دیت کا ایک تہائی اور پیٹ کے اندر تک گہرے زخم میں دیت کا ثلث۔ اور جس زخم میں ہڈی ٹوٹ جائے اس میں بھی دیت کا ایک تہائی ہے۔ اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی 10 اونٹ دیت ہے اور دانت کی 5 اونٹ اور جس زخم سے ہڈی ظاہر ہو جائے، اس میں 5 اونٹ ہیں۔ اور عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جا سکتا ہے اور سونا رکھنے والوں پر ایک ہزار دینار ہیں۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث کبیر ہے، مفسر ہے، اس کے لیے امیرالمومنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے گواہی دی ہے۔ اور ان کے معاصر علماء کرام (مثلاً) محمد بن مسلم الزہری نے اس کی صحت کو ثابت رکھا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی اس کا ذکر گزرا ہے۔ اور سلیمان بن داؤد الدمشقی الخولانی زہری کے (لقب کے) ساتھ معروف ہیں۔ اگر یحیی بن معین نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے (تو کوئی بات نہیں) کیونکہ ان کے علاوہ دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ان کو عادل قرار دیا ہے جیسا کہ مجھے ابواحمد حسین بن علی نے عبدالرحمن بن ابی حاتم کا یہ بیان سنایا ہے کہ میں نے اپنے والد کو سنا ہے جبکہ ان سے عمرو بن حزم کی اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کی طرف لکھے ہوئے صدقات کے متعلق خط کا ذکر تھا تو انہوں نے سلیمان بن داؤد خولانی کے متعلق کہا: ہمارے نزدیک ان کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ابومحمد بن ابوحاتم کہتے ہیں: میں نے ابوذرعہ کو بھی یہی کہتے سنا ہے۔ امام حاکم کہتے ہیں: زکوۃ کے موضوع پر یہ تفصیلی احادیث لکھنے کے حوالے سے میں نے اپنی ہر ممکن کوشش کی ہے اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہے اور میں نے اس کی صحت پر ان سندوں کے ساتھ استدلال کیا ہے۔ جو خلفاء اور تابعین سے مروی ہیں کہ انہوں نے ان کو قبول بھی کیا ہے۔ اور ان کو استعمال کیا ہے باوجودیکہ اس سلسلہ میں اس شخص کو ضرورت نہیں جس نے اسے معلق رکھا ہے۔ اور اس سے پہلے وضو کے باب میں عقبہ بن عامر جہنی کی حدیث کے متعلق شعبہ کا یہ کہنا گزر چکا ہے کہ میرے لیے اس طرح کی حدیث کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صحیح ثابت ہو جانا میرے لیے میرے مال، میری جان اور تمام اہل و عیال سے بہتر ہے۔ حالانکہ وہ حدیث نفلی نماز کے متعلق تھی تو اس حدیث کی کیا شان ہو گی جو کہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔ اور وہی کافی ہے اور بہت ہی بہتر کارساز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1463]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1463 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
اعتبط مؤمنًا قتلًا أي: قتله بلا جناية كانت منه ولا جريرة توجب قتله.
📌 اہم نکتہ: "اعتبط مؤمنًا قتلًا": یعنی کسی مومن کو بغیر کسی جرم اور بغیر کسی ایسی وجہ کے قتل کرنا جو قتل کو واجب کرتی ہو۔
والقَوَد: القصاص وقتل القاتل بدل القتيل.
📌 اہم نکتہ: "القَوَد": اس سے مراد قصاص ہے، یعنی مقتول کے بدلے قاتل کو قتل کرنا۔
أُوعِبَ ويروى: "استُوعِبَ" أي: قُطِع جميعه.
📌 اہم نکتہ: "أُوعِبَ" اور ایک روایت میں "استُوعِبَ" ہے، یعنی پورا کا پورا کاٹ دیا گیا۔
والمأمومة: هي الشجَّة التي بلغت أم الراس، وهي الجلدة التي تجمع الدماغ.
📌 اہم نکتہ: "المأمومة": یہ وہ زخم ہے جو سر کی اس جھلی تک پہنچ جائے جس نے دماغ کو ڈھانپا ہوا ہوتا ہے۔
والجائفة: هي أن يضرب ظهره أو بطنه أو صدره، فتنفذ إلى جوفه.
📌 اہم نکتہ: "الجائفة": یہ وہ زخم ہے جو پیٹھ، پیٹ یا سینے پر لگے اور جسم کے اندرونی خلا تک پہنچ جائے۔
والمنقِّلة: هي التي تخرج منها صغار العظام، وتنتقل عن أماكنها. وقيل: التي تكسر العظم. والمُوضِحة: هي الشجة التي تكشف العظم.
📌 اہم نکتہ: "المنقِّلة": یہ وہ زخم ہے جس سے ہڈی کے چھوٹے ٹکڑے نکل آئیں اور وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں، ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہڈی توڑ دینے والا زخم ہے۔ "المُوضِحة": وہ زخم ہے جو ہڈی کو ظاہر (ننگا) کر دے۔
(1) بل سليمان هذا إنما هو سليمان بن أرقم، وقد وهم فيه الحكم بن موسى فسماه: سليمان بن داود، كما حققنا ذلك قبل قليل، والله أعلم.
👤 راوی پر جرح: بلکہ یہ سلیمان دراصل سلیمان بن ارقم ہی ہیں، حکم بن موسیٰ کو وہم ہوا اور انہوں نے ان کا نام سلیمان بن داود بتا دیا، جیسا کہ ہم نے تھوڑی دیر پہلے اس کی تحقیق کی ہے، واللہ اعلم۔
(1) أثبتناه من "سنن البيهقي" 1/ 87 - 88 من روايته عن المصنِّف، ومن سائر مصادر التخريج.
📝 توضیح: ہم نے اسے "سنن بیہقی" (1/ 87-88) سے جو انہوں نے مصنف سے روایت کی ہے، اور تخریج کے دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: ابنة، وهو خطأ، والتصويب من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان ¤ ¤ ومن "صحيح ابن حبان".
⚠️ سندی اختلاف: ہمارے قلمی نسخوں میں "ابنة" (بیٹی) ہے جو کہ غلط ہے، اس کی درستگی نسخہ محمودیہ، طبعہ میمان اور "صحیح ابن حبان" سے کی گئی ہے۔
(1) مكان ما بين المعقوفين بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "تلخيص الذهبي" و"صحيح ابن حبان" و"سنن البيهقي" 4/ 89.
📝 توضیح: بڑے بریکٹ کے درمیان والی جگہ قلمی نسخوں میں خالی تھی، جسے ہم نے "تلخیص الذہبی"، "صحیح ابن حبان" اور "سنن بیہقی" (4/ 89) سے مکمل کیا ہے۔
(1) أصل الكتاب صحيح، كما أسلفنا في الحديث الذي قبله، وهذا إسناد ضعيف؛ سليمان بن داود وَهِمَ في تسميته هكذا الحكمُ بن موسى، والصواب أنه سليمان بن أرقم، كما قال أبو داود في "المراسيل" والنسائي وأبو زرعة وأبو الحسن الهروي وأبو حاتم والذهبي وغيرهم، وهو متفق على ضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: اصل کتاب (تحریر) صحیح ہے جیسا کہ ہم نے گزشتہ حدیث میں ذکر کیا، لیکن یہ سند ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: حکم بن موسیٰ کو اس راوی کا نام "سلیمان بن داود" بتانے میں وہم ہوا ہے، جبکہ درست نام "سلیمان بن ارقم" ہے جیسا کہ ابو داود نے "المراسیل" میں، اور نسائی، ابو زرعہ، ابو الحسن الہروی، ابو حاتم، ذہبی اور دیگر نے کہا ہے، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
لكن لمُعظَمِه شواهد صحيحة، ولبعضه شواهد مرسلة تقويه، انظر تفصيلها في التعليق على "صحيح ابن حبان" برقم (6559)، فقد أخرجه بطوله من طريق الحكم بن موسى، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: لیکن اس کے اکثر حصے کے لیے صحیح شواہد موجود ہیں، اور بعض حصوں کے لیے مرسل شواہد ہیں جو اسے تقویت دیتے ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس کی تفصیل "صحیح ابن حبان" (رقم 6559) کے حاشیے میں دیکھیں، انہوں نے اسے حکم بن موسیٰ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ طویل روایت کیا ہے۔
ومن طريق الحكم بن موسى بالإسناد نفسه أخرجه مختصرًا النسائي (7029).
📖 حوالہ / مصدر: اسی سند کے ساتھ حکم بن موسیٰ کے طریق سے اسے امام نسائی (7029) نے مختصراً روایت کیا ہے۔
قوله: "العقار"، قال ابن الأثير في "النهاية": أي: الضيعة والنخل والأرض ونحو ذلك.
📌 اہم نکتہ: ان کا قول "العقار": ابن اثیر "النھایۃ" میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد جائیداد، کھجور کے باغات اور زمین وغیرہ ہے۔
سيحًا: السَّيْح: ما سقي بالماء الجاري.
📌 اہم نکتہ: "سیحاً": لفظ السَّیْح سے مراد وہ زمین ہے جو جاری پانی (نہر وغیرہ) سے سیراب کی جائے۔
بعلًا: البعل: ما ينبت في أرض يقربُ ماؤها، فرسخت عروقها في الماء، واستغنت عن ماء السماء والأمطار وغيرها.
📌 اہم نکتہ: "بعلاً": البعل سے مراد وہ پودا ہے جو ایسی زمین میں اگے جہاں پانی قریب ہو، اس کی جڑیں پانی میں راسخ ہو جائیں اور وہ آسمانی پانی اور بارشوں وغیرہ سے بے نیاز ہو جائے۔
خمسة أوسق جمع وَسْق، والوَسْق: ستون صاعًا، والصاع: خمسة أرطال وثلث، والمجموع ثلاث مئة صاع، وهي ألف وست مئة رطل بغدادي، والرطل مئة وثمانية وعشرون درهمًا وأربعة أسباع. وهو بالرطل الدمشقي المقدر بست مئة درهم: ثلاث مئة رطل واثنان وأربعون ¤ ¤ رطلًا وستة أسباع رطل، وهي تعادل 655 كغم تقريبًا.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "خمسہ اوسک" (پانچ وسق): یہ وَسْق کی جمع ہے، اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، اور ایک صاع پانچ رطل اور ایک تہائی (5.33 رطل) کا ہوتا ہے۔ کل مجموعہ تین سو صاع بنتا ہے، جو کہ 1600 بغدادی رطل کے برابر ہے۔ ایک رطل 128 درہم اور چار بٹہ سات (128.57) درہم کا ہوتا ہے۔ دمشقی رطل کے حساب سے جو 600 درہم کا ہوتا ہے، یہ 342 رطل اور چھ بٹہ سات (342.85) رطل بنتا ہے، جو کہ تقریباً 655 کلو گرام کے برابر ہے۔
والسائمة: الراعية، عكس المعلوفة.
📌 اہم نکتہ: "السائمة" سے مراد وہ جانور ہے جو چرنے والا ہو، یہ "معلوفہ" (جسے گھر پر چارہ ڈالا جائے) کی ضد ہے۔
والباقورة: هي البقرة بلغة اليمن.
📌 اہم نکتہ: "الباقورة" اہل یمن کی لغت میں گائے کو کہتے ہیں۔
والعجفاء: واحدة العِجَاف، وهي المهزولة من الغنم وغيرها.
📌 اہم نکتہ: "العجفاء" اس کی جمع عِجاف ہے، اور اس سے مراد بکریوں وغیرہ کا دبلا پتلا جانور ہے۔
وقوله: "عاقص شعره": العَقْص: هو ليُّ الشعر وإدخال أطرافه في أصوله.
📌 اہم نکتہ: "عاقص شعره": العَقْص کا معنی بالوں کو لپیٹنا اور ان کے کناروں کو جڑوں میں داخل کرنا ہے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463M
كما أخبرَنيهِ أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي حاتم، قال: سمعتُ أبي، وسُئِل عن حديث عمرو بن حزمٍ في كتاب رسول الله ﷺ الذي كَتَبَه له في الصدقات، فقال: سليمان بن داود الخَوْلاني عندنا ممن لا بأسَ به. قال أبو محمد بن أبي حاتم: وسمعتُ أبا زُرعة يقول ذلك (1) . قال الحاكم: قد بذلتُ ما أدّى إليه الاجتهادُ في إخراج هذه الأحاديث المفسَّرة الملخَّصة في الزَّكَوات، ولا يستغني هذا الكتاب عن شرحها، واستدللتُ على صحتها بالأسانيد الصحيحة عن الخلفاء والتابعين بقَبولها واستعمالها بما فيه غُنْيةٌ لمن تأمَّلها، وقد كان إمامُنا شعبةُ يقول في حديث عُقْبة بن عامر الجُهَني في الوضوء: لَأنْ يَصِحَّ لي مثلُ هذا عن رسول الله ﷺ كان أحبَّ إليَّ من نفسي ومالي وأهلي. وذاك حديث في صلاة التطوع، فكيف بهذه السُّنن التي هي قواعدُ الإسلام، والله الموفِّق وهو حَسْبي ونعم الوكيل.
عبدالرحمن بن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کہ: میں نے اپنے والد سے عمرو بن حزم کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقات (زکوٰۃ) کے متعلق لکھ کر دی تھی، تو انہوں نے فرمایا: "سلیمان بن داؤد الخولانی ہمارے نزدیک ان لوگوں میں سے ہیں جن میں کوئی حرج نہیں (یعنی وہ معتبر ہیں)"۔ ابو محمد بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے ابو زرعہ کو بھی یہی کہتے ہوئے سنا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: "زکوٰۃ کے متعلق ان تفصیلی اور خلاصہ شدہ احادیث کی تخریج میں، میں نے اپنی پوری علمی کوشش صرف کر دی ہے، اور یہ کتاب (المستدرک) ان کی تشریح سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ میں نے خلفاء اور تابعین سے مروی صحیح اسانید کے ذریعے ان احادیث کے قبول کیے جانے اور ان پر عمل کیے جانے سے ان کی صحت پر استدلال کیا ہے، جو کسی بھی تحقیق کرنے والے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے امام شعبہ، عقبہ بن عامر جہنی کی وضو سے متعلق حدیث کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ: 'اگر میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی کوئی حدیث ثابت ہو جائے تو وہ مجھے میری جان، مال اور اہل و عیال سے زیادہ محبوب ہوگی'۔ جب ایک نفلی نماز سے متعلق حدیث کا یہ مقام ہے تو ان سنن کا کیا مرتبہ ہوگا جو اسلام کے بنیادی قواعد (زکوٰۃ) میں سے ہیں۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، وہی مجھے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے"۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1463M]