المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. زكاة الذهب
سونے کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1464
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا بَهْز بن حَكِيم. وأخبرنا أحمد بن سلمان، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو مَعْمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا بَهز بن حَكِيم، عن أبيه، عن جده، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"في كلِّ إبلٍ سائمةٍ في كلِّ أربعينَ ابنةُ لَبُونٍ، لا تُفرَّق إبلٌ عن حسابها، من أعطاها مُؤتجرًا فله أجرُها، ومن مَنَعَها فإنّا آخِذُوها وشَطْرَ إبلِه، عَزْمةً من عَزَمات ربِّنا، لا يُحِلُّ لآلِ محمدٍ منها شيء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على ما قدَّمنا ذِكرَه في صحيح هذه الصحيفة، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على ما قدَّمنا ذِكرَه في صحيح هذه الصحيفة، ولم يُخرجاه.
سیدنا بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے خودرو گھاس چرنے والے ہر چالیس اونٹوں میں اونٹنی کا ایک دو سالہ بچہ ہے۔ کوئی اونٹ ان کے حساب سے الگ نہ کیا جائے۔ جو شخص یہ صدقہ دے گا، اس کے لیے اجر ہے اور جو شخص اس کو روکے گا تو ہم اس سے (زبردستی) وصول کریں گے اور اس کے اونٹوں کا کچھ حصہ جو حقوق اللہ میں سے ایک حق ہے، ان میں سے کچھ بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، جیسا کہ ہم نے اس صحیفہ کی تصحیح میں ذکر کر دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1464]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، بهز بن حكيم وأبوه صدوقان. أبو معمر: هو عبد الله بن عمرو المقعد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، بہز بن حکیم اور ان کے والد (حکیم بن معاویہ) دونوں سچے (صدوق) ہیں۔ 👤 راوی پر جرح: ابو معمر سے مراد عبداللہ بن عمرو المقعد ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (20016) و (20038) و (20041) من طرق عن بهز بن حكيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 20016، 20038 اور 20041) نے بہز بن حکیم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔