المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ يَسُدَّ فَاقَتَهُ
جس پر فاقہ آئے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو اس کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 1498
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا بَشِير بن سَلْمان، عن سَيّار، عن طارق، عن ابن مسعودٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابتْه فاقةٌ فأنزَلَها بالناس، لم تُسَدَّ فاقتُه، ومَن أنزَلَها بالله، أوْشَكَ الله له بالغِنَى؛ إما بموتٍ آجِلٍ، أو غِنًى عاجِلٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اس کی شکایت کرتا پھرے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا۔ اور جو اس کی شکایت اللہ کی بارگاہ میں کرے، اللہ تعالیٰ اس کو غنیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔ یا تو اس کو جلد موت آ جاتی ہے یا پھر وہ جلدی دولت مند ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1498]