🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. مِقْدَارُ الْغِنَى الَّذِي يُحَرِّمُ السُّؤَالَ
وہ مقدارِ مال جس کے بعد سوال کرنا حرام ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن عليِّ بن عفَّان العامرِي، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا سفيان بن سعيد، عن حَكِيم بن جُبَير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن عبد الله قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن سَألَ وله ما يُغْنيهِ جاءَ يومَ القيامة خُمُوشٌ - أو خُدُوشٌ أو كُدُوحٌ - في وَجْهِه"، فقيل: يا رسول الله، وما الغِنَى؟ قال:"خَمسونَ دِرهمًا أو قيمتُها من الذَّهب" (1) . قال يحيى بن آدم: فقال عبد الله بن عثمان لسفيان: حِفْظي أنَّ شُعبة كان لا يروي عن حَكِيم بن جُبَير، قال سفيان: فقد حدثنا زُبَيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے (لوگوں سے) سوال کیا جبکہ اس کے پاس اتنا مال موجود تھا جو اسے بے نیاز کر دے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں یا زخم ہوں گے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! غنا (بے نیازی) کی حد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا۔
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ شعبہ، حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، مگر سفیان ثوری نے کہا کہ زبید نے محمد بن عبدالرحمن بن یزید کے واسطے سے یہ حدیث ہمیں سنائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1495]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1496
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحَسَن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَحِلُّ الصَّدقةُ لغنيٍّ إلَّا لخمسةٍ: لِغازٍ في سبيل الله، أو لعاملٍ عليها، أو لغارمٍ، أو لرجلٍ اشتراها بمالِه، أو لرجلٍ كان له جارٌ مسكينٌ، فتُصُدِّق على المسكين، فأَهدَى المسكينُ للغنيِّ" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يُخرجاه لإرسال مالك بن أنس إياه عن زيد بن أسلم (2) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں ہے سوائے پانچ صورتوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، زکوٰۃ وصول کرنے والا عامل، قرض دار (جو ادائیگی سے قاصر ہو)، وہ شخص جس نے اسے اپنے مال سے خریدا ہو، یا وہ شخص جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو جسے صدقہ دیا گیا اور پھر اس مسکین نے وہی مال کسی مالدار کو تحفے میں دے دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے لیکن دیگر ثقہ راویوں نے اسے موصول (مسند) بیان کیا ہے اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1496]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
أخبرَناه أبو بكر بن أبي نَصْر المروَزيّ، حدثنا أحمد بن عيسى، حدثنا القَعْنبي فيما قَرأَ على مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"لا تَحِلُّ الصَّدقةُ لغنيٍّ إلَّا لخمسةٍ"، فذكر الحديث (1) . هذا من شَرْطي في خطبة الكتاب أنه صحيح، فقد يُرسِلُ مالك في الحديث ويَصِلُه أو [يُسنِده] (2) ثقةٌ، والقولُ فيه قولُ الثقة الذي يَصِلُه ويُسنِده.
امام مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوٰۃ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں سوائے پانچ افراد کے... پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ یہ میرے نزدیک صحیح ہے جیسا کہ میں نے کتاب کے خطبے میں ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی ثقہ راوی اسے مسنداً بیان کرے تو اسی کا قول معتبر ہوگا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1497]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں