🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. باب مَنْ يَجُوزُ لَهُ أَخْذُ الصَّدَقَةِ وَهُوَ غَنِيٌّ
باب: جس مالدار کو صدقہ لینا جائز ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1635]
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ (تابعی) سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ صورتوں کے علاوہ کسی غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ جو اللہ کی راہ میں غازی اور مجاہد ہو۔ یا صدقات کا تحصیلدار (وصول کرنے والا) ہو۔ یا چٹی بھرنے والا ہو۔ یا جو اپنے مال سے صدقہ کی چیز خرید لے۔ یا وہ آدمی کہ کوئی مسکین اس کا ہمسایہ ہو، اس مسکین کو صدقہ دیا گیا تو اس نے اس میں سے غنی کو ہدیہ دے دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الزکاة 27 (1841)، (تحفة الأشراف:4177، 19090)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة17(29)، مسند احمد (3/4، 31،40، 56، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1833)
انظر الحديث الآتي (1636)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدٍ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثَّبْتُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1636]
جناب عطاء بن یسار سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے کہ مالک نے کہا۔ اور ثوری نے زید سے روایت کرتے ہوئے کہا: «حَدَّثَنِي الثَّبْتُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » یعنی ایک بااعتماد آدمی نے میرے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:4177، 19090) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (1841 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2374 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ فِرَاسٌ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1637]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کسی غنی کے لیے حلال نہیں ہے، الا یہ کہ وہ اللہ کی راہ میں (مجاہد) ہو یا مسافر ہو یا کسی فقیر ہمسائے کو صدقہ دیا گیا تو وہ فقیر تمہیں ہدیہ دے دے، یا آپ کی دعوت کر دے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اس حدیث کو فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، انہوں نے ابوسعید سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 40، 97) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عطیہ عوفی کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، ورنہ سابق سند سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں