المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا
رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم اور نہ کوئی غلام۔
حدیث نمبر: 1542
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن محمد، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسحاق، عن عمرو بن الحارث، عن جُوَيريَةَ بنت الحارث قالت: والله ما تَرَكَ رسول الله ﷺ عندَ موته دينارًا ولا درهمًا ولا عبدًا ولا أَمةً، إلا بغلتَه وسلاحَه، وأرضًا تَرَكَها صدقةً (2) .
هذا حديث صحيح وقد خرَّجه البخاري.
هذا حديث صحيح وقد خرَّجه البخاري.
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت کوئی درہم و دینار اور کوئی لونڈی اور غلام (وراثت میں) نہیں چھوڑے۔ سوائے آپ کے ایک خچر اور ہتھیار کے اور کچھ زمین چھوڑی، وہ بھی صدقہ تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1542]
حدیث نمبر: 1543
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي، حدثنا عبد الله بن جعفر الرَّقِّي، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسةَ، عن أبي إسحاق، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، قال: لما حُصِرَ عثمانُ بن عفّان أشرف عليهم من فوق دارِه، ثم قال: أُذكِّرُكم الله، هل تعلمون أنَّ رُوْمَةَ لم يكن يشربُ منها أحدٌ إلَّا بثمنٍ، فابتعتُها من مالي فجعلتُها للغنيِّ والفقير وابن السَّبيل؟ قالوا: نعم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا، تو آپ اپنے مکان کے اوپر چڑھ کر اونچے ہو کر یہ کہنے لگے: میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو؟ کہ رومہ (نامی کنویں) سے کوئی شخص پیسوں کے بغیر پانی نہیں پی سکتا تھا، میں نے اپنے مال سے اس کو خرید کر ہر غنی اور محتاج اور مسافروں کے لیے وقف کیا تھا؟ سب نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1543]