المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. الصَّدَقَةُ عَنِ الْمَيِّتِ
میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1544
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا رَوْح بن عُبادةَ بن خلف بن مَخْلَد (1) ، عن مالك. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المروَزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنَبي فيما قرأَ على مالك، عن سعيد بن عمرو بن شُرَحْبيل [بن سَعيد] (2) بن سَعْد بن عُبادة، عن أبيه، عن جدِّه أنه قال: خَرَجَ سعدُ بن عبادة مع النبيِّ ﷺ في بعض مغازيه، فحَضَرتْ أمَّ سعدٍ الوفاةُ، فقيل لها: أَوصي، قالت: فيما أُوصِي؟ إنما المالُ مال سعد، فتوفِّيَت قبل أن يَقدَم سعدٌ، فلما قَدِمَ سعدٌ ذُكِر له ذلك فقال: يا رسولَ الله، هل ينفعُها أن أتصدَّقَ عنها؟ قال:"نعم". قال سعد: حائطُ كذا وكذا صدقةٌ عنها؛ لحائطٍ قد سمَّاه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط البخاري:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط البخاري:
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے پر روانہ ہوئے، اس دوران ان کی والدہ کی وفات کا وقت قریب آ گیا تو ان سے کہا گیا کہ کوئی وصیت کر دیں، انہوں نے کہا: ”میں کیا وصیت کروں؟ مال تو سارا سعد کا مال ہے“، چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ کے پہنچنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ جب سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے اور انہیں اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں نفع پہنچے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے“، انہوں نے اس باغ کا نام لیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1544]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الكلام على إسناده مستوفًى في التعليق على "صحيح ابن حبان".» [ترقيم الرساله 1544] [ترقيم الشركة 1535]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1545
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عبادة، حدثنا زكريا بن إسحاق، أخبرني عمرو بن دينار، عن عِكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال لرسول الله ﷺ: إنَّ أُمه تُوفيتْ، أفينفعُها إن تصدقتُ عنها؟ قال:"نعم" قال: فإنَّ لي مَخْرَفًا، وأُشهِدُك أني قد تصدقتُ به عنها (2)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کی والدہ فوت ہو گئی ہیں، کیا اگر وہ ان کی طرف سے صدقہ کرے تو انہیں فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے عرض کیا: ”میرا ایک پھلدار باغ ہے اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔“
یہ امام بخاری کی شرط پر صحیح شاہد حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1545]
یہ امام بخاری کی شرط پر صحیح شاہد حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1545] [ترقيم الشركة 1536]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح