المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَهُوَ حُرٌّ
جو اپنے محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے وہ خود بخود آزاد ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 2887
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسن بن قُتيبة وعبد الله بن محمد بن سَلْم، قالا: حدثنا إبراهيم بن محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا ضَمْرة بن ربيعة، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن مَلَك ذا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، فهو حُرٌّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2851 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2851 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی ذی رحم محرم (قریبی رشتہ دار) کا مالک بن جائے تو وہ (خود بخود) آزاد ہے۔“ نیز اسی سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الوَلاءِ» (ولاء یعنی آزاد کردہ غلام کی وراثت و تعلق) کی بیع اور اس کے ہبہ سے منع فرمایا۔ میں نے ابوعلی حافظ کو کہتے سنا کہ میں نے دوسرا متن صرف اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ راوی ضمرہ کے متعلق (پہلے متن میں) ہونے والا وہم زائل ہو جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی، اور اس کی شاہد سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح و محفوظ حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2887]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی، اور اس کی شاہد سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح و محفوظ حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن بعض أهل العلم أنكره على ضمرة، وأنه انفرد به بهذا الإسناد، منهم أحمد بن حنبل والترمذي والنسائي والبيهقي، ولم يعبأ بهذا الإعلال آخرون من أهل العلم فصحَّحوه، منهم ابن الجارود وأبو علي الحافظ وابن حزم وعبد الحق الإشبيلي وابن القطان الفاسي وابن التركماني، ...» [ترقيم الرساله 2887] [ترقيم الشركة 2868] [ترقيم العلميه 2851]
الحكم على الحديث: حديث صحيح