المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ
غلام کو اس کے مالک کے بدلے اور باپ کو اس کے بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 2892
حدثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي والفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني، قالا: حدثنا أبو صالح المصري عبد الله بن صالح كاتب الليث، حدثني الليث بن سعد، عن عمر بن عيسى القُرشي ثم الأسَدي، عن ابن جُرَيج، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عباس قال: جاءت جاريةٌ إلى عمر بن الخطاب، فقالت: إنَّ سيّدي اتهَمَني، فأقعدَني على النار حتى احترق فَرْجي، فقال لها عمر: هل رأى ذلك عليك؟ قالت: لا، قال: فهل اعترفتِ له بشيءٍ؟ قالت: لا، قال عمر: عليَّ به، فلما رأى عمرُ الرجلَ، قال: أتعذِّب بعذاب الله؟! قال: يا أمير المؤمنين، اتهمتُها في نفسي، قال: رأيتَ ذلك عليها؟ قال الرجلُ: لا، قال: فاعترفَتْ لك به؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده، لو لم أسمع رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يُقادُ مملوكٌ مِن مالكِه، ولا والدٌ من وَلَدِه"، لأقدْتُها منكَ، فبَرَّزَه وضربَه مئة سوطٍ، وقال للجارية: اذهبي، فأنتِ حُرّةٌ لوجهِ الله، وأنتِ مولاةُ الله ورسولِه (1) . قال أبو صالح: قال الليث: وهذا القول معمولٌ به.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2856 - بل عمر بن عيسى منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2856 - بل عمر بن عيسى منكر الحديث
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لونڈی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور عرض کی: میرے آقا نے مجھ پر (بدکاری کی) تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھا دیا یہاں تک کہ میرا عضوِ مخصوص جل گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس نے تمہارے خلاف یہ فعل دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم نے اس کے سامنے اعتراف کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، جب آپ نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا: کیا تو اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ عذاب دیتا ہے؟! اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شک ہوا تھا، آپ نے پوچھا: کیا تم نے اسے اس کام میں دیکھا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: کیا اس نے اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”مملوک سے اس کے مالک کے بدلے قصاص نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی والد سے اس کی اولاد کے بدلے“ تو میں تجھ سے اس کا قصاص ضرور لیتا، پھر آپ نے اسے علیحدہ کیا اور سو کوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا: جاؤ، تم اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہو اور تم اللہ اور اس کے رسول کی آزاد کردہ ہو۔ امام لیث فرماتے ہیں کہ اس قول پر عمل کیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2892]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف بمرّة من أجل عمر بن عيسى القرشي، فهو منكر الحديث كما قال البخاري والنسائي والذهبي في "تلخيصه"، واتهمه ابن حبان في "المجروحين" بالوضع، ولا يُعرف هذا الخبر إلّا به، ومع ذلك حسّن إسنادَه ابنُ كثير في "مسند الفاروق" (447) مع اطّلاعه على قول البخاري ...» [ترقيم الرساله 2892] [ترقيم الشركة 2874] [ترقيم العلميه 2856]
الحكم على الحديث: حسن بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 2893
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مسعر، عن عُبيد بن الحسن، عن ابن مَعقِل: أنَّ سَبْيًا من خَوْلانَ قَدِم، وكان على عائشة رقبةٌ من ولد إسماعيلَ، فقَدِمَ سبْيٌ من اليمن، فأرادت أن تُعتِق منهن، فنهاها النبيُّ ﷺ، فقَدِمَ سَبْيٌ من مُضَر - أحسبه قال -: من بني العَنْبر، فأمرها أن تُعتِق (1) . تابعه شعبة عن عُبيد بن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2857 - الحديث صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2857 - الحديث صحيح
سیدنا عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ خولان کے کچھ قیدی لائے گئے، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک غلام آزاد کرنا واجب تھا، جب یمن سے قیدی آئے تو انہوں نے ان میں سے آزاد کرنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا، پھر جب قبیلہ مضر - غالباً بنو عنبر - کے قیدی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان میں سے آزاد کرنے کا حکم دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير أنه اختُلف في وصله وإرساله، وهو في كلا الطريقين اللتين عند المصنف هنا مرسلٌ، والأشبه أنه مرسلٌ، وابن مَعقِل المذكور في إسناده- هو عبد الله بن معقل، كما سيأتي مقيدًا في الطريق التالية، وهو المزني، فقد روى عُبيد بن الحسن عدة روايات عنه، ...» [ترقيم الرساله 2893] [ترقيم الشركة 2875] [ترقيم العلميه 2857]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2894
أخبرَناه أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا أبو قِلابة. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق؛ قالا: حدثنا وهب بن جرير، أخبرنا شعبة، عن عُبيد أبي الحسن، قال: سمعتُ عبد الله بن مَعقِل، قال: كان على عائشة مُحرَّر من ولد إسماعيل، فأُتي رسولُ الله ﷺ بسَبْي من بني العَنْبر، فقال لها رسول الله ﷺ:"أعتِقِي من بني العنبر - أو من بني لِحْيان - ولا تُعتِقي من بني خَوْلان" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. كتاب المكاتَب
سیدنا عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک گردن آزاد کرنا واجب تھی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو عنبر کے قیدی لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم بنو عنبر - یا فرمایا بنو لحیان - میں سے آزاد کرو اور بنو خولان میں سے آزاد نہ کرنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2894]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي.» [ترقيم الرساله 2894] [ترقيم الشركة 2876]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه