🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. الْحَدِيثُ الْمُوَضِّحُ لِأَحْكَامِ الصِّيَامِ مُفَصَّلًا
روزے کے احکام کو تفصیل سے واضح کرنے والی حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3122
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا أبو النَّضْر هاشم بن القاسم، حدثنا المسعودي، حدثني عمرو بن مُرَّة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ بن جبل قال: أما أحوالُ الصيام، فإنَّ رسول الله ﷺ قَدِمَ المدينةَ، فجعل يصوم من كل شهر ثلاثةَ أيام وصيامَ يوم عاشُوراءَ، ثم إِنَّ الله فَرَضَ عليه الصيام فأنزل الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ إلى هذه الآية: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [البقرة: 183 - 184] ، فكان مَن شاءَ صامَ ومَن شاءَ أطعَمَ مسكينًا فأجزأَ ذلك عنه، ثم إنَّ الله أَنزَلَ الآيةَ الأخرى: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ إلى قوله: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: 185] ، فَأَثْبَتَ اللهُ صيامَه على المُقيمِ الصحيحِ، ورخَّص فيه للمريض وللمسافر، وثَبَتَ الإطعامُ للكبير الذي لا يستطيع الصيامَ، فهذان حَوْلانِ. وكانوا يأكلون ويشربون ويأتون النساءَ ما لم يناموا، فإذا ناموا امتنعوا، ثم إِنَّ رجلًا من الأنصار يقال له: صِرْمةُ، كان يعمل صائمًا حتى أمسى، فجاء إلى أهله فصلَّى العشاءَ ثم نام، فلم يأكل ولم يشرب حتى أصبَحَ، فأصبَحَ صائمًا [قال: فرآه رسول الله ﷺ وقد جُهِدَ جَهْدًا شديدًا، قال:"ما لي أَراكَ قد جُهدتَ جَهْدًا شديدًا؟" قال: يا رسول الله، إني عملتُ أَمسِ فجئتُ حين جئتُ] (1) فأَلقيتُ نفسي فنمتُ، وأصبحتُ صائمًا. وكان عمر قد أصاب من النساءِ من جاريةٍ أو حُرَّةٍ بعدما نام، فأتى النبيَّ ﷺ فذكر ذلك له، فأنزل الله: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ﴾ إِلَى قوله: ﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾ [البقرة: 187] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3085 - صحيح
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہرحال روزوں کے احوال یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینۃ المنورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ماہ کے تین روزے اور عاشورہ کا روزہ رکھنا شروع کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر روزے فرض کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (البقرۃ: 183) اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ (البقرۃ: 184) تک۔ اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا ۔ اس کے بعد جو روزہ رکھنا چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو مسکین کو کھانا کھلانا چاہتا وہ کھانا کھلا دیتا اور وہ اس کے روزے کی جگہ کفایت کرتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دوسری آیت نازل فرمائی: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ (البقرۃ: 185) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُترا لوگوں کے لیے ہدایت ۔ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرۃ: 185) تک۔ تو تم میں سے جو یہ مہینہ پائے ضرور روزے رکھے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مقیم تندرست آدمی پر روزے فرض کر دیئے اور مریض اور مسافر کو رخصت دے دی اور جو بوڑھا ضعیف روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اس کے لیے مسکین کو کھانا کھلانا مقرر کر دیا ہے۔ پھر دو سال سلسلہ یوں رہا کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے کھاتے پیتے رہتے اور جب سو جاتے تو کھانے پینے سے رُک جاتے۔ پھر (یوں ہوا کہ) ایک انصاری شخص جس کو صرمہ نام سے یاد کیا جاتا تھا وہ روزہ رکھ کر محنت مزدوری کیا کرتا تھا وہ اپنے گھر آیا، عشاء کی نماز پڑھی اور سو گیا اور صبح تک اس نے کچھ بھی نہ کھایا پیا اور پھر روزہ کی حالت میں اس نے صبح کی۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا کہ وہ روزے کی وجہ سے بہت تھکا ہوا محسوس ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس شدید کمزوری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کل مزدوری کر کے (تھکا ماندا گھر واپس آیا اور (تھکاوٹ کی وجہ سے میں) آتے ہی گر کر سو گیا اور پھر روزہ کی حالت میں صبح کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رات کو سونے کے بعد اپنی بیوی یا لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھے۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ عرض کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ (البقرۃ: 187) روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا ۔ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ (البقرۃ: 187) تک۔ پھر رات آنے تک روزے پورے کرو ۔۔ (نوٹ: مذکورہ حدیث میں جتنی عربی عبارت خط کشیدہ ہے، مستدرک کے نسخے میں وہ عبارت موجود نہ تھی، مسند امام احمد سے وہ عبارت نقل کر کے حدیث پاک کو مکمل کیا گیا۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3122]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3123
أخبرنا أبو العبَّاس القاسم بن القاسم السَّيَّاري وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَ في المروَزِيَّان قالا: حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، عن الأعمش، عن ذرٍّ أبي عمر (3) ، عن جَرِير بن عبد الله البَجَلي في قوله تعالى: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60] ، قال: اعبدوني أستجِبْ لكم (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3086 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (مومن: 60) مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میری عبادت کرو میں قبول کروں گا۔ (یعنی دعوت بمعنی عبادت ہے) ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3123]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں