المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. الحديث الموضح لأحكام الصيام مفصلا
روزے کے احکام کو تفصیل سے واضح کرنے والی حدیث
حدیث نمبر: 3122
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا أبو النَّضْر هاشم بن القاسم، حدثنا المسعودي، حدثني عمرو بن مُرَّة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ بن جبل قال: أما أحوالُ الصيام، فإنَّ رسول الله ﷺ قَدِمَ المدينةَ، فجعل يصوم من كل شهر ثلاثةَ أيام وصيامَ يوم عاشُوراءَ، ثم إِنَّ الله فَرَضَ عليه الصيام فأنزل الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ إلى هذه الآية: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [البقرة: 183 - 184] ، فكان مَن شاءَ صامَ ومَن شاءَ أطعَمَ مسكينًا فأجزأَ ذلك عنه، ثم إنَّ الله أَنزَلَ الآيةَ الأخرى: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ إلى قوله: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: 185] ، فَأَثْبَتَ اللهُ صيامَه على المُقيمِ الصحيحِ، ورخَّص فيه للمريض وللمسافر، وثَبَتَ الإطعامُ للكبير الذي لا يستطيع الصيامَ، فهذان حَوْلانِ. وكانوا يأكلون ويشربون ويأتون النساءَ ما لم يناموا، فإذا ناموا امتنعوا، ثم إِنَّ رجلًا من الأنصار يقال له: صِرْمةُ، كان يعمل صائمًا حتى أمسى، فجاء إلى أهله فصلَّى العشاءَ ثم نام، فلم يأكل ولم يشرب حتى أصبَحَ، فأصبَحَ صائمًا [قال: فرآه رسول الله ﷺ وقد جُهِدَ جَهْدًا شديدًا، قال:"ما لي أَراكَ قد جُهدتَ جَهْدًا شديدًا؟" قال: يا رسول الله، إني عملتُ أَمسِ فجئتُ حين جئتُ] (1) فأَلقيتُ نفسي فنمتُ، وأصبحتُ صائمًا. وكان عمر قد أصاب من النساءِ من جاريةٍ أو حُرَّةٍ بعدما نام، فأتى النبيَّ ﷺ فذكر ذلك له، فأنزل الله: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ﴾ إِلَى قوله: ﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾ [البقرة: 187] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3085 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3085 - صحيح
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہرحال روزوں کے احوال یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینۃ المنورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ماہ کے تین روزے اور عاشورہ کا روزہ رکھنا شروع کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر روزے فرض کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (البقرۃ: 183) ” اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے “۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ (البقرۃ: 184) تک۔ اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا “۔ اس کے بعد جو روزہ رکھنا چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو مسکین کو کھانا کھلانا چاہتا وہ کھانا کھلا دیتا اور وہ اس کے روزے کی جگہ کفایت کرتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دوسری آیت نازل فرمائی: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ (البقرۃ: 185) ” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُترا لوگوں کے لیے ہدایت “۔ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ (البقرۃ: 185) تک۔” تو تم میں سے جو یہ مہینہ پائے ضرور روزے رکھے “۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مقیم تندرست آدمی پر روزے فرض کر دیئے اور مریض اور مسافر کو رخصت دے دی اور جو بوڑھا ضعیف روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اس کے لیے مسکین کو کھانا کھلانا مقرر کر دیا ہے۔ پھر دو سال سلسلہ یوں رہا کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے کھاتے پیتے رہتے اور جب سو جاتے تو کھانے پینے سے رُک جاتے۔ پھر (یوں ہوا کہ) ایک انصاری شخص جس کو ” صرمہ “ نام سے یاد کیا جاتا تھا وہ روزہ رکھ کر محنت مزدوری کیا کرتا تھا وہ اپنے گھر آیا، عشاء کی نماز پڑھی اور سو گیا اور صبح تک اس نے کچھ بھی نہ کھایا پیا اور پھر روزہ کی حالت میں اس نے صبح کی۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا کہ وہ روزے کی وجہ سے بہت تھکا ہوا محسوس ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس شدید کمزوری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کل مزدوری کر کے (تھکا ماندا گھر واپس آیا اور (تھکاوٹ کی وجہ سے میں) آتے ہی گر کر سو گیا اور پھر روزہ کی حالت میں صبح کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رات کو سونے کے بعد اپنی بیوی یا لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھے۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ عرض کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ (البقرۃ: 187) ” روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا “۔ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ (البقرۃ: 187) تک۔ ” پھر رات آنے تک روزے پورے کرو “۔۔ (نوٹ: مذکورہ حدیث میں جتنی عربی عبارت خط کشیدہ ہے، مستدرک کے نسخے میں وہ عبارت موجود نہ تھی، مسند امام احمد سے وہ عبارت نقل کر کے حدیث پاک کو مکمل کیا گیا۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3122]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3122 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين مكانه بياض في النسخ الخطية، وما أثبتناه فمن "مسند أحمد" 36/ (22124) حيث رواه عن أبي النضر هاشم بن القاسم بطوله.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ میں موجود جگہ پر قلمی نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ "مسند احمد" 36/ (22124) سے ہے جہاں انہوں نے اسے ابو النضر ہاشم بن القاسم سے طویل روایت کیا ہے۔
(2) حديث صحيح، رجاله ثقات عن آخرهم، إلّا أنَّ المسعودي -وهو عبد الرحمن بن بن عتبة- رُمي بالاختلاط، وأبو النضر ممَّن سمع منه بعد الاختلاط، وقد رواه غير واحد عن المسعودي كما في "مسند أحمد"، إلَّا أنهم جميعًا ممّن سمع منه بعد الاختلاط، لكن تابعه شعبة كما في رواية أبي داود (506)، ثم إنَّ رواية ابن أبي ليلى عن معاذ فيها انقطاع، فإنه لم يسمع منه، لكن وقع في رواية شعبة أنَّ عبد الرحمن بن أبي ليلى -وهو تابعي كبير- قال فيه: حدثنا أصحابنا؛ يعني أصحاب محمد ﷺ، فكأنه سمعه من غير واحد من الصحابة فجمعه في حديث واحد، والله تعالى أعلم. وانظر تتمة تخريجه عند أحمد وأبي داود.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اس کے تمام رجال آخر تک ثقہ ہیں، 🔍 فنی نکتہ / علّت: سوائے اس کے کہ مسعودی (عبدالرحمن بن عتبہ) پر اختلاط کا الزام ہے، اور ابو النضر ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے مسعودی سے ایک سے زائد لوگوں نے روایت کیا ہے جیسا کہ "مسند احمد" میں ہے، مگر وہ سب بھی وہی ہیں جنہوں نے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن شعبہ نے ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ ابوداؤد (506) کی روایت میں ہے۔ پھر یہ کہ ابن ابی لیلیٰ کی معاذ سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ انہوں نے ان سے نہیں سنا، لیکن شعبہ کی روایت میں یہ بات واقع ہوئی ہے کہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (جو کبار تابعین میں سے ہیں) نے اس میں کہا: "ہم سے ہمارے ساتھیوں نے بیان کیا" (یعنی اصحابِ محمد ﷺ نے)؛ گویا کہ انہوں نے اسے ایک سے زائد صحابہ سے سنا اور پھر اسے ایک حدیث میں جمع کر دیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اس کی بقیہ تخریج احمد اور ابوداؤد کے ہاں دیکھیں۔