🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. شَرْحُ مَعْنَى: (إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً)
آیت“مگر یہ کہ تم ان سے تقیہ کرو”کے معنی کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثني أبي، حدثنا أبو همَّام، حدثنا محمد بن بِشْر العَبْدي قال: سمعت سفيانَ بن سعيد يَذكُر عن ابن جُرَيج، حدثني عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [آل عمران: 28] قال: فالتُّقَاة: التكلُّمُ باللسان والقلبُ مطمئنٌّ بالإيمان، ولا يَبسُطُ يدَه فيَقتُلَ، ولا إلى إثمٍ، فإنه لا عُذْرَ له (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3149 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰاۃ (آل عمران: 28) مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: تقاۃ کا مطلب یہ ہے زبان سے کلام کرنا اور دل ایمان پر مطمئن ہو ، لہٰذا ہم قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائیں گے، اور نہ ہی گناہ کی طرف، کیونکہ اس کا کوئی عذر نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3187]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [آل عمران: 35 - 37] قال: كَفَلَها زكريا، فدخل عليها المِحرابَ، فوجد عندها عِنَبًا في مكتَل في غير حينه، قال زكريا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ قال: إِنَّ الذي يَرزْقُكِ العنبَ في غير حينِه، لَقادرٌ أن يَرزُقَني من العاقر الكبير العقيم ولدًا، هنالك دعا زكريَّا ربَّه، فلما بُشِّر بيحيى قال: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [مريم:10] ، قال: يُعتَقَلُ لسانُك من غير مرض وأنت سَوِيٌّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3150 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن پاک کی یہ آیت: انی نذرت لک ما فی بطنی محررا (آل عمران: 35) میں تیرے لیے منت مانتی ہوں جو میرے پیٹ ہے (ترجمعہ کنزالایمان،) وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا (آل عمران: 37) اس کے پاس نیا رزق پاتے ۔ تک پڑھی اور فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام نے ان کی کفالت کی، جب آپ سیدنا مریم علیہا السلام کے پاس ان کے حجرہ میں گئے تو ان کے ہاں ٹوکری میں بے موسم کے انگور موجود پائے۔ آپ نے کہا: تیرے پاس یہ (انگور) کہاں سے آئے۔ سیدنا مریم علیہا السلام بولیں: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (آل عمران: 37) بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے ۔ آپ نے اللہ سوچا: جو ذات تجھے بے موسم کے انگور دینے پر قادر ہے وہ مجھ بوڑھے بانجھ شخص کو اولاد بھی دے سکتا ہے: ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا (آل عمران: 38) یہاں پکارا زکریا نے اپنے رب کو ۔ پھر جب ان کو سیدنا یحیی علیہ السلام کی خوشخبری دے دی گئی تو آپ نے کہا: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَۃً قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلَٰاث لیال سویا) (آل عمران: 41) عرض کی اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی کر دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرے ۔ یعنی بغیر کسی بیماری کے، تندرستی کے عالم میں تیری زبان میں گرہ لگ جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبيه، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ لكل نبيٍّ وُلاةً من النبيِّين، وإنَّ وليِّي منهم أَبي وخَلِيلي إبراهيمُ" ثم قرأ: ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [آل عمران: 68] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3151 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے کچھ انبیاء دوست ہوا کرتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست میرے جدامجد اور میرے خلیل سیدنا ابراہیم ہیں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرَاھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ (آل عمران: 68) بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اور یہ نبی اور ایمان والے اور ایمان والوں کا اللہ والی ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3189]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں