المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. شرح معنى : ( إلا أن تتقوا منهم تقاة )
آیت“مگر یہ کہ تم ان سے تقیہ کرو”کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3188
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [آل عمران: 35 - 37] قال: كَفَلَها زكريا، فدخل عليها المِحرابَ، فوجد عندها عِنَبًا في مكتَل في غير حينه، قال زكريا: ﴿أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ قال: إِنَّ الذي يَرزْقُكِ العنبَ في غير حينِه، لَقادرٌ أن يَرزُقَني من العاقر الكبير العقيم ولدًا، هنالك دعا زكريَّا ربَّه، فلما بُشِّر بيحيى قال: ﴿رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا﴾ [مريم:10] ، قال: يُعتَقَلُ لسانُك من غير مرض وأنت سَوِيٌّ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3150 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3150 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن پاک کی یہ آیت: انی نذرت لک ما فی بطنی محررا (آل عمران: 35) میں تیرے لیے منت مانتی ہوں جو میرے پیٹ ہے “ (ترجمعہ کنزالایمان،) وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا (آل عمران: 37) ” اس کے پاس نیا رزق پاتے “۔ تک پڑھی اور فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام نے ان کی کفالت کی، جب آپ سیدنا مریم علیہا السلام کے پاس ان کے حجرہ میں گئے تو ان کے ہاں ٹوکری میں بے موسم کے انگور موجود پائے۔ آپ نے کہا: تیرے پاس یہ (انگور) کہاں سے آئے۔ سیدنا مریم علیہا السلام بولیں: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (آل عمران: 37) ” بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے “۔ آپ نے اللہ سوچا: جو ذات تجھے بے موسم کے انگور دینے پر قادر ہے وہ مجھ بوڑھے بانجھ شخص کو اولاد بھی دے سکتا ہے: ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا (آل عمران: 38) ” یہاں پکارا زکریا نے اپنے رب کو “۔ پھر جب ان کو سیدنا یحیی علیہ السلام کی خوشخبری دے دی گئی تو آپ نے کہا: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَۃً قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلَٰاث لیال سویا) (آل عمران: 41) ” عرض کی اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی کر دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرے “۔ یعنی بغیر کسی بیماری کے، تندرستی کے عالم میں تیری زبان میں گرہ لگ جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3188]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3188 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح إن شاء الله، عطاء بن السائب -وإن رُمي بالاختلاط- قد توبع. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند صحیح ہے؛ عطاء بن السائب - اگرچہ ان پر اختلاط کا الزام ہے - لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، اور جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں۔
وأخرجه مختصرًا ابن المنذر في "تفسيره" (398) عن زكريا بن عدي عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" (398) میں زکریا بن عدی سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم سے مختصراً اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبري 3/ 244، وابن أبي حاتم 2/ 640 من طريق شريك النخعي، عن عطاء، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے طبری نے 3/ 244 میں، اور ابن ابی حاتم نے 2/ 640 میں شریک النخعی کے طریق سے، انہوں نے عطاء سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 3/ 246 من طريق ابن جريج عن يعلى بن مسلم، عن سعيد بن جبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 3/ 246 میں ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے یعلیٰ بن مسلم سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بتمامه آدم بن أبي إياس في "تفسيره" 1/ 126 عن ورقاء، عن عطاء بن السائب، عن سعيد ابن جبير من قوله، لم يذكر ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے آدم بن ابی ایاس نے اپنی "تفسیر" 1/ 126 میں ورقاء سے، انہوں نے عطاء بن السائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے ان کے قول کے طور پر مکمل تخریج کیا ہے، اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔