🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

105. صورة تقسيم الغنائم
سورۂ انفال کی تفسیر — مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3298
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا وهب بن جَرير بن حازم، حدثني أبي قال: سمعت محمدَ بن إسحاق يقول: حدثني الحارث بن عبد الرحمن (1) ، عن مكحول، عن أبي أُمامة، عن عُبادة بن الصامت قال: سألتُه عن الأنفال قال: فينا يومَ بدرٍ، نزلت، كان الناس على ثلاث منازلَ: ثُلُث يقاتل العدوَّ، وثلثٌ يَجمَع المَتاعَ ويأخذ الأُسارَى، وثلثٌ عند الخيمة يحرُسُون رسولَ الله ﷺ، فلما جُمِعَ المتاعُ اختَلفوا فيه، فقال الذين جمعوه وأَخذوه: قد نَفَّلَ رسولُ الله ﷺ كلَّ امرِئٍ منّا ما أصاب، فهو لنا دونَكم، وقال الذين يقاتلون العدوَّ ويَطلُبونه: واللهِ لولا نحنُ ما أَصبتُموه، فنحن شَغَلْنا القومَ عنكم، وقال الحَرَس: واللهِ ما أنتم بأحقِّ به منا، لقد رأيتُنا إنْ نقاتل العدوَّ حين مَنَحَنا اللهُ أكتافَهم أن نأخذَ المتاعَ حين لم يكن أحد يَمنَع دونَه، ولكنّا خِفْنا غِرَّةَ العدوِّ على رسول الله ﷺ فقمنا، دونَه، قال: فانتَزَعَها اللهُ من أيدينا فجعله إلى رسول الله ﷺ، فقَسَمَه على السَّوَاء لم يكن فيه يومئذٍ خُمُس، كان فيه تَقْوى الله وطاعتُه وطاعةُ رسول الله ﷺ وصلاحُ ذاتِ البَيْن (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3259 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سورۃ الانفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: یہ ہم لوگوں کے متعلق جنگ بدر کے موقع پر نازل ہوئی (اس دن) ہم لوگ تین حصوں میں تقسیم تھے، ایک حصہ دشمن سے لڑ رہا تھا، ایک حصہ مالِ غنیمت اکٹھا کر رہا تھا اور قیدیوں کو گرفتار کر رہا تھا اور ایک حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے اردگرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہا تھا۔ جب مال غنیمت جمع ہو گیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف ہو گیا۔ جن لوگوں نے مال جمع کیا تھا اور قیدیوں کو پکڑا تھا ان کا موقف یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ طریقہ دیا ہے کہ جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی ہے۔ اس لیے یہ تمام مال ہمارا ہے اور کسی کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور جو لوگ دشمن سے لڑ رہے تھے ان کا موقف یہ تھا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تمہیں کچھ بھی نہ ملتا کیونکہ قوم کو مشغول تو ہم نے ہی رکھا تھا اور حفاظت پر متعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کہنا تھا کہ خدا کی قسم! تم لوگ ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو کیونکہ ہم دشمن سے لڑ بھی سکتے تھے اور مال غنیمت جمع کرنے سے ہمیں کوئی رکاوٹ نہ تھی، اس لیے ہم مال بھی جمع کر سکتے تھے لیکن ہمیں سب سے زیادہ فکر یہ تھی کہ دشمن کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ نہ کر دیں۔ اس لیے ہم نے سب کچھ پس پشت ڈال کر صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا فریضہ ادا کیا (سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال ہم سب میں برابر برابر تقسیم کر دیا۔ اس دن اس میں خمس کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لیے اس کی تقسیم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے کی گئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3298]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3299
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمر بن سليمان قال: سمعت داود بن أبي هند يحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: من فعل كذا وكذا، أو أَتى مكانَ كذا وكذا، فله كذا وكذا"، فسَارَعَ الشُّبّانُ إلى ذلك وثَبَتَ الشيوخُ تحت الرايات، فلما فَتَحَ الله عليهم جاؤوا (1) الشُّبّانُ يطلبون ما جُعِل لهم، وقالت الشيوخ: إنا كنَّا رِدْءًا لكم وكنَّا تحتَ الرايات، فأنزل الله ﷿: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ کام کرے گا یا جو شخص فلاں فلاں جگہ پر جائے گا، اس کو فلاں فلاں انعام ملے گا۔ تو نوجوان جنگ کی طرف چلے گئے اور عمررسیدہ لوگ علم کے نیچے کھڑے رہے۔ جب (جنگ ختم ہوئی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا تو نوجوان ان کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جو حصہ مقرر کیا تھا، اس کا مطالبہ کیا اور بوڑھے لوگوں نے کہا: تمہاری پشت پناہی تو ہم کر رہے تھے، ہم علم کے نیچے تھے (جب ان میں یہ نزاع پیدا ہوا تو) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ (الانفال: 1) اے محبوب یہ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں: آپ فرما دیں غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان صلح رکھو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3299]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3300
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ رسول الله ﷺ من القتلى قيل له: عليك العِيرَ، ليس دونَها شيءٌ، فناداه العبَّاسُ وهو في وَثَاقه: إنه لا يَصلُحُ لك، قال:"لِمَ؟" قال: لأنَّ الله وَعَدَك إحدى الطائفتين، وقد أَنجَزَ لك ما وَعَدَك (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے فارغ ہوئے تو آپ سے کہا گیا: آپ کو (ابوالعاص والے) قافلے کا پیچھا ضرور کرنا چاہیے، (اس جنگ میں) سیدنا عباس بن عبدالمطلب (جنگی قیدی تھے وہ) اپنی رسیوں میں بندھے ہوئے بولے: اب آپ کو ابوالعاص والے قافلے کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو قافلوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3300]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3301
أخبرنا محمد بن علي بن مَخلَد القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّورَقي، حدثنا يعقوب بن يوسف (4) السَّدُوسي، حدثنا شُعْبة، عن داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري في هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ [الأنفال: 16] قال: نَزَلَت فينا يومَ بدر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3262 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت: وَ مَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗٓ (الانفال: 16) اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا ۔ جنگ بدر کے موقع پر ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3301]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں