🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. صورة تقسيم الغنائم
سورۂ انفال کی تفسیر — مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3300
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما فَرَغَ رسول الله ﷺ من القتلى قيل له: عليك العِيرَ، ليس دونَها شيءٌ، فناداه العبَّاسُ وهو في وَثَاقه: إنه لا يَصلُحُ لك، قال:"لِمَ؟" قال: لأنَّ الله وَعَدَك إحدى الطائفتين، وقد أَنجَزَ لك ما وَعَدَك (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3261 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے فارغ ہوئے تو آپ سے کہا گیا: آپ کو (ابوالعاص والے) قافلے کا پیچھا ضرور کرنا چاہیے، (اس جنگ میں) سیدنا عباس بن عبدالمطلب (جنگی قیدی تھے وہ) اپنی رسیوں میں بندھے ہوئے بولے: اب آپ کو ابوالعاص والے قافلے کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو قافلوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3300]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3300 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف، فقد انفرد به سِماك بن حرب عن عكرمة، وفي روايته عنه اضطراب، ومع ذلك فقد حسَّن الحديث الترمذي وجوَّد إسناده الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 3/ 556. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ کیونکہ سماک بن حرب عکرمہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں اور ان کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ تاہم، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور حافظ ابن کثیر نے اپنی "تفسیر" (3/ 556) میں اس کی سند کو عمدہ (جید) قرار دیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (راوی) ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (2022) و 5/ (2873) و (3001)، والترمذي (3080) من طرق عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 2022، 5/ 2873، 3001) اور ترمذی (3080) نے اسرائیل سے مختلف طریقوں کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔