🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
105. صورة تقسيم الغنائم
سورۂ انفال کی تفسیر — مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3299
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمر بن سليمان قال: سمعت داود بن أبي هند يحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: من فعل كذا وكذا، أو أَتى مكانَ كذا وكذا، فله كذا وكذا"، فسَارَعَ الشُّبّانُ إلى ذلك وثَبَتَ الشيوخُ تحت الرايات، فلما فَتَحَ الله عليهم جاؤوا (1) الشُّبّانُ يطلبون ما جُعِل لهم، وقالت الشيوخ: إنا كنَّا رِدْءًا لكم وكنَّا تحتَ الرايات، فأنزل الله ﷿: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3260 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ کام کرے گا یا جو شخص فلاں فلاں جگہ پر جائے گا، اس کو فلاں فلاں انعام ملے گا۔ تو نوجوان جنگ کی طرف چلے گئے اور عمررسیدہ لوگ علم کے نیچے کھڑے رہے۔ جب (جنگ ختم ہوئی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا تو نوجوان ان کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے جو حصہ مقرر کیا تھا، اس کا مطالبہ کیا اور بوڑھے لوگوں نے کہا: تمہاری پشت پناہی تو ہم کر رہے تھے، ہم علم کے نیچے تھے (جب ان میں یہ نزاع پیدا ہوا تو) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ (الانفال: 1) اے محبوب یہ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں: آپ فرما دیں غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان صلح رکھو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3299]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3299 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية، وهي على لغة من يقول من العرب: أكلوني البراغيث.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، اور یہ عربوں کے اس محاورے/لغت کے مطابق ہے جو کہتے ہیں: "أكلوني البراغيث" (یعنی فعل کے ساتھ فاعل جمع ہونے کے باوجود فعل کو بھی جمع لانا)۔
(2) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (راوی) ابوالمثنیٰ: یہ معاذ بن المثنیٰ بن معاذ عنبری ہیں۔
وأخرجه النسائي (11133)، وابن حبان (5093) من طريقين عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (2627) و (2912).
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11133) اور ابن حبان (5093) نے دو طریقوں سے معتمر بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور جو رقم (2627) اور (2912) پر گزر چکا ہے اسے دیکھ لیں۔