سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب فِي رَمْىِ الْجِمَارِ
باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ، فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ: فَقَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَازْدَحَمَ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے (یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1966]
سلیمان بن عمرو بن الاحوص کی والدہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے درمیان سے جمرہ کو کنکریاں مارتے دیکھا جبکہ آپ سواری پر تھے۔ آپ ہر کنکری کے ساتھ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ ایک شخص آپ کے پیچھے سے آپ کو چھپائے ہوئے تھا۔ میں نے اس شخص کے متعلق پوچھا تو کہا: ”فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔“ لوگوں نے بہت بھیڑ کر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ایک دوسرے کو قتل مت کرو۔ اور جب تم جمرے کو کنکریاں مارو تو چھوٹی چھوٹی مارو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 63 (3028)، (تحفة الأشراف: 18306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/503، 5/270، 379، 6/379) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3028،3031)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
والجمھور علي تضعيف حديثه (ھدي الساري ص 459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3028،3031)
يزيد بن أبي زياد ضعيف
والجمھور علي تضعيف حديثه (ھدي الساري ص 459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا، وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ".
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1967]
سلیمان بن عمرو بن الاحوص کی والدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں کنکریاں دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ماریں تو پھر اور لوگوں نے بھی ماریں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18306) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1966)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1966)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِإِسْنَادِهِ فِي مِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ:" وَلَمْ يَقُمْ عِنْدَهَا".
اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے اس میں «ولم يقم عندها» ”اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے“ کا جملہ زائد ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1968]
یزید بن ابی زیاد نے اپنی سند سے اسی کے مثل روایت کیا اور اضافہ کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس رکے نہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1966، (تحفة الأشراف: 18306) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1966)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1966)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1969]
نافع رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ وہ قربانی کے دن (یعنی دس ذوالحجہ) کے بعد تین دنوں میں جمرات کے پاس پیدل ہی آتے جاتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7727)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 63 (899)، مسند احمد (2/114، 138، 156) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ رمی جمرات کے لئے پیدل چل کر آنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البيھقي (5/131 وسنده حسن)
أخرجه البيھقي (5/131 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، يَقُولُ:" لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1970]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن اپنی سواری پر سے کنکریاں مار رہے تھے اور فرماتے تھے: ”مجھ سے اپنے اعمال حج سیکھ لو، میں نہیں جانتا، شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 53 (1297)، سنن النسائی/الحج 220 (3064)، (تحفة الأشراف: 2804)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 59 (894)، سنن ابن ماجہ/المناسک 75 (3053)، مسند احمد (3/313، 319، 400)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1937) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1297)
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو) تو وہ زوال کے بعد کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1971]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن چاشت کے وقت اپنی سواری پر سے رمی کر رہے تھے، مگر اس کے بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد کی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الحج 53 (1299)، سنن الترمذی/ الحج 59 (894)، سنن النسائی/ الحج 221 (3065)، سنن ابن ماجہ/ 75 المناسک (3053)، (تحفة الأشراف: 2795)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 399)، دی/ المناسک 58 (1937) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1299)
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا".
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1972]
وبرہ (بن عبدالرحمٰن سلمی) کہتے ہیں، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”میں کس وقت جمرات کو کنکریاں ماروں؟“ انہوں نے کہا: ”جب تمہارا امام مارے تم بھی مار لو۔“ میں نے اپنا سوال دہرایا تو بولے: ”ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ جب سورج ڈھل جاتا تو رمی کرتے تھے (قربانی والے دن کے بعد کے ایام میں)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 134 (1746)، (تحفة الأشراف: 8554) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1746)
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوم النحر) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1973]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دس تاریخ کو قربانی والے دن) ظہر پڑھ لینے کے بعد دن کے آخری حصے میں طوافِ افاضہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ لوٹ آئے اور ایامِ تشریق کی راتیں یہیں ٹھہرے رہے۔ سورج ڈھلنے کے بعد جمرات کو کنکریاں مارتے تھے۔ ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کافی لمبی دیر رکتے اور اپنی عاجزی اور تضرع کا اظہار کرتے (دعائیں کرتے)، پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارتے مگر اس کے پاس نہیں رکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح)» (لیکن «صلی الظہر» - ظہر پڑھی- کا جملہ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله حين صلى الظهر فهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2676)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)
مشكوة المصابيح (2676)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" لَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَ مِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ"، وَقَالَ: هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ جمرہ کبری (جمرہ عقبہ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1974]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کبریٰ (جمرہ عقبہ) کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منٰی کو دائیں جانب کیا اور پھر جمرے کو سات کنکریاں ماریں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اور اس طرح سے رمی کی اس ذات نے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی تھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 135 (1747)، 138 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن النسائی/المناسک 226 (3073، 3075)، سنن ابن ماجہ/المناسک 64 (3030)، (تحفة الأشراف: 9382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/374، 408، 415، 427، 430، 432، 436، 456، 458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1748) صحيح مسلم (1296)
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ بِيَوْمَيْنِ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ".
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو (منیٰ میں) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن (تیرہویں کو) رمی کریں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1975]
ابو البداح بن عاصم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ میں راتیں گزارنے سے رخصت دی تھی (کہ) یہ لوگ قربانی والے دن رمی کریں، پھر اگلے دن (گیارہویں تاریخ کو) اس کے بعد اگلا دن چھوڑ کر روانگی والے دن دو دن کی رمی کریں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 108 (954 و 955)، سنن النسائی/الحج 225 (307)، سنن ابن ماجہ/المناسک 67 (3036، 3037)، (تحفة الأشراف: 5030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)