سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب فِي تَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرَ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک (عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں)، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہے (مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی) اس (کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2034]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں لکھا ہے سوائے قرآن کریم کے اور جو اس صحیفے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مدینہ منورہ عیر اور ثور (دو پہاڑوں) کے مابین حرم ہے۔ تو جو یہاں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو جگہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔ اس کا فرض اور نفل کچھ قبول نہیں ہو گا۔ مسلمانوں کا ذمہ (کسی کافر کو دیا ہوا عہد امان، اجتماعی طور پر) ایک ہی ہے۔ ان کا ادنیٰ فرد بھی اس کی حفاظت کے لیے کوشش کا پابند ہے۔ جس نے کسی مسلمان کے دیے ہوئے عہد امان کو توڑا تو اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کا فرض و نفل کچھ قبول نہیں ہو گا۔ اور جو (آزاد شدہ غلام) اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی اور قوم کی طرف اپنے آزاد ہونے کی نسبت کرے، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کا فرض اور نفل کچھ قبول نہیں ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (111)، وفضائل المدینة 1 (1867)، والجھاد 171 (3047)، والجزیة 10 (3172، 3179)، والفرائض 21 (6755)، والدیات 24 (6903)، والاعتصام 5 (7300)، صحیح مسلم/الحج 85 (1370)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، والولاء والھبة 3 (2127)، سنن النسائی/القسامة 9، 10 (4749)، (تحفة الأشراف: 10317)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2658)، مسند احمد (1/81، 122، 126، 151، 2/398)، سنن الدارمی/الدیات 5 (2401) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ صحیفہ ایک ورق تھا جس میں دیت کے احکام تھے،علی رضی اللہ عنہ اسے اپنی تلوار کی نیام میں رکھتے تھے۔
۲؎: یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔
۲؎: یعنی کوئی اپنی آزادی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1870) صحيح مسلم (1370)
حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ وَلَا يَصْلُحُ أَنْ يُقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ".
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (یعنی مدینہ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2035]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا قصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اس کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے مگر وہ جو اس کا اعلان کرے۔ کسی کو روا نہیں کہ قتال کی غرض سے اس میں اسلحہ اٹھائے، اور کسی کو روا نہیں کہ اس سے درخت کاٹے مگر کوئی اپنے اونٹ کو چارہ دینا چاہے تو جائز ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وللحديث طرف آخر عندالنسائي (4750) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
وللحديث طرف آخر عندالنسائي (4750) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
حدیث نمبر: 2036
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كِنَانَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" حَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ نَاحِيَةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا، لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ".
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے (بہ قدر ضرورت)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2036]
سیدنا عدی بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی ہر طرف سے ایک ایک برید (بارہ میل) کو محفوظ علاقہ قرار دیا تھا کہ نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں، مگر اونٹ کے چارے کے بقدر جائز ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9879) (حسن)» (اس کے راوی سلیمان مجہول اور عبداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود6/275، والصحیحة: 3243)
وضاحت: ۱؎: چاروں اطراف مشرق، مغرب اور شمال جنوب کو ملا کر کل چار برید ہوئے اور ایک برید چار فرسخ کا ہوتا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا اس طرح اس حدیث کی رو سے کل (۴۸) میل بنتا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں (۱۲) میل کی صراحت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن كنانة : مجھول الحال (تق : 2603)
ولأصل الحديث شواهد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
إسناده ضعيف
سليمان بن كنانة : مجھول الحال (تق : 2603)
ولأصل الحديث شواهد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
حدیث نمبر: 2037
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ:" مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ"، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات (۷) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: ”جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے“، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2037]
سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرمِ مدینہ میں، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے، ایک آدمی کو شکار کرتے پکڑ لیا اور اس کے کپڑے چھین لیے، تو اس شخص (غلام) کے مالک آئے اور اس کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: ”جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا پکڑ لے، تو وہ اس کے کپڑے ضبط کر لے۔“ چنانچہ وہ غنیمت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت فرمائی ہے، واپس نہیں کروں گا۔ ہاں، اگر چاہو تو اس کی قیمت دے دیتا ہوں۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3863)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 85 (4060)، مسند احمد (1/168، 170) (صحیح)» (لیکن شکار کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اور صحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله يصيد منكر والمحفوظ ما في الحديث التالي يقطعون
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن أبي عبد اللّٰه : مقبول (تق : 2582) أي : ’’مجهول الحال ‘‘
ولم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
إسناده ضعيف
سليمان بن أبي عبد اللّٰه : مقبول (تق : 2582) أي : ’’مجهول الحال ‘‘
ولم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ، وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ، وَقَالَ:" مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ".
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2038]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ایک غلام سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو دیکھا کہ وہ (حرم) مدینہ میں درخت کاٹ رہے ہیں۔ تو انہوں نے ان کا اسباب چھین لیا اور ان غلاموں کے مالکوں سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے درختوں سے کچھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے: ”جو کوئی ان سے کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ لے تو اس کا اسباب اسی کے لیے ہے (اس کے کپڑے، کلہاڑی اور رسی وغیرہ)۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3951) (صحیح)» (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: صالح کا اختلاط اور مولی لسعد کا مبہم ہونا)
وضاحت: ۱؎: یہ جھڑکی اور ملامت کے طور پر ہے، پھر اسے واپس دیدے، اکثر علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض علماء نے کہا ہے کہ نہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
إسناده ضعيف
مولي لسعد مجھول (وانظر فتح الملك المعبود 2/ 247) ولم أجد من وثقه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُخْبَطُ وَلَا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2039]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ کردہ علاقے سے نہ پتے توڑے جائیں اور نہ درخت کاٹے جائیں مگر ہلکے انداز میں پتے جھاڑ لیے جائیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2218) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اکثر علماء کے نزدیک حرم مدینہ کے درخت کاٹنے یا شکار مارنے میں کوئی سزا نہیں ہے، بعض علماء کے نزدیک سزا کا مستحق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
إسناده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 78
حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَأْتِي قِبَاءَ مَاشِيًا وَرَاكِبًا، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار (دونوں طرح سے) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں ”اور دو رکعت پڑھتے تھے“ (کا اضافہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2040]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جایا کرتے تھے۔ کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر۔“ ابن نمیر نے مزید کہا: ”اور (مسجد میں) دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة 3 (1194)تعلیقًا، والاعتصام 16 (7323)، صحیح مسلم/الحج 97 (1399)، سنن النسائی/المساجد 9 (699)، (تحفة الأشراف: 7941، 8148)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 23 (71)، مسند احمد (2/5، 30، 57، 58، 65) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1194) صحيح مسلم (1399)