المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
98. إِذَا غَضِبَ النَّبِيَّ لَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ يُكَلِّمُهُ غَيْرَ عَلِيٍّ .
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ کرتا
حدیث نمبر: 4697
حدثنا مُكرَم بن أحمد بن مُكرَم القاضي، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيَالسي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا حُسين الأشقَر، حدثنا جعفر بن زياد الأحمر، عن مُخَوَّل، عن مُنذِر الثَّوْري، عن أم سلمة: أنَّ النبي ﷺ كان إِذا غَضِبَ لم يَجترئ أحدٌ منا يُكلِّمُه غيرُ عليّ بن أبي طالب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4647 - الأشقر وثق وقد اتهمه ابن عدي وجعفر تكلم فيه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4647 - الأشقر وثق وقد اتهمه ابن عدي وجعفر تكلم فيه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غصہ کے عالم میں ہوتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4697]
حدیث نمبر: 4698
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أبو بكر بن أبي العوّام الرِّياحي، حدثنا أبو زيد سعيد بن أَوس الأنصاري، حدثنا عوف، عن أبي عثمان النَّهدي قال: قال رجل لسلمان: ما أشدَّ حبَّك لعليٍّ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من أحبَّ عليًّا فقد أحبَّني، ومن أبغضَ عليًّا فقد أبغضَني" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4648 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4648 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن ابوعثمان النہدی فرماتے ہیں: ایک آدمی نے مسلمان سے پوچھا: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اتنی شدید محبت کیوں کرتا ہے؟ اس نے کہا: اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے ” جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4698]
حدیث نمبر: 4699
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك. وأخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الأسود بن عامر وعبد الله بن نُمير، قالا: حدثنا شَريك، عن أبي رَبيعة الإيادي، عن ابن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله أمرني بحُبِّ أربعةٍ من أصحابي، وأخبرَني أنه يُحِبُّهم"، قال: قلنا: من هم يا رسول الله؟ وكلنا نُحبُّ أن نكون منهم، فقال:"ألا إنَّ عليًّا منهم" ثم سكتَ، ثم قال:"ما إنَّ عليًّا منهم"، ثم سكتَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4649 - ما خرج مسلم لأبي ربيعة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4649 - ما خرج مسلم لأبي ربيعة
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے چار صحابہ سے محبت کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ خود بھی ان سے محبت کرتا ہے (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ ہم سب کی خواہش ہے کہ ہم ان میں سے ہوں، آپ نے فرمایا:” خبردار! علی ان میں سے ہے، پھر آپ خاموش ہو گئے “۔ پھر آپ نے فرمایا:” خبردار! علی ان میں سے ہے، پھر آپ خاموش ہو گئے “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4699]
حدیث نمبر: 4700
حدثني أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أيوب الصَّفّار وحُميد بن يونس بن يعقوب الزيّات، قالا: حدثنا محمد بن أحمد بن عِيَاض بن أبي طَيْبة [حدثنا أبي] (2) حدثنا يحيى بن حسّان، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن أنس بن مالك، قال: كنت أَخدُم رسول الله ﷺ، فقُدِّم لرسولِ الله ﷺ فَرْخٌ مَشْوِيّ، فقال:"اللهم ائتني بأحبِّ خَلْقِكَ إِليك يأكلْ معي من هذا الطَّير"، قال: فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فجاء عليٌّ، فقلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، ثم جاء فقلتُ: إنَّ رسولَ الله ﷺ على حاجةٍ، ثم جاء، فقال رسول الله ﷺ:"افتحْ"، فدخلَ، فقال:"ما حَبَسك علَيَّ؟" فقال: إِنَّ هذه آخرُ ثلاثِ كَرّاتٍ يَردُّني أنسٌ، يَزْعُم أَنك على حاجةٍ، فقال رسول الله ﷺ:"ما حَمَلك على ما صنعتَ؟" فقلت: يا رسول الله، سمعتُ دعاءَك، فأحببتُ أن يكون رجلًا من قومي، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الرجل قد يُحبُّ قومَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد رواه عن أنسٍ جماعةً من أصحابه، زيادةٌ على ثلاثين نَفْسًا. ثم صحّتِ الرواية عن عليٍّ وأبي سعيد الخُدْري وسَفِينةَ (1) . وفي حديث ثابت البُناني عن أنس زيادةُ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4650 - ابن عياض لا أعرفه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (2) . وقد رواه عن أنسٍ جماعةً من أصحابه، زيادةٌ على ثلاثين نَفْسًا. ثم صحّتِ الرواية عن عليٍّ وأبي سعيد الخُدْري وسَفِينةَ (1) . وفي حديث ثابت البُناني عن أنس زيادةُ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4650 - ابن عياض لا أعرفه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا (ایک دفعہ) ایک بھنا ہوا پرندہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے دعا مانگی: یا اللہ! تو میرے پاس ایسے آدمی کو بھیج جو تمام مخلوقات سے زیادہ تجھے پیارا ہو اور وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے۔ (سیدنا انس) فرماتے ہیں: (میں یہ دعا مانگ رہا تھا) یا اللہ! یہ شرف کسی انصاری کو عطا فرما۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ لیکن میں نے ان کو یہ کہہ (کر ٹال) دیا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (کچھ دیر بعد) دوبارہ آئے تو میں نے تب بھی یہی کہا کہ فی الوقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (تھوڑی دیر بعد) پھر تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: دروازہ کھو لو، (میں نے دروازہ کھولا) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ باہر کیوں رکے رہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: انس نے مجھے تین مرتبہ واپس بھیجا ہے یہ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ مصروف ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے انس! تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کی دعا سنی تھی اور میں چاہتا تھا کہ یہ مرتبہ میری قوم کے کسی فرد کے حصہ میں آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک انسان اپنی قوم سے محبت کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو 30 سے زائد صحابہ کرام کی پوری ایک جماعت نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ پھر یہ حدیث سند صحیح کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ اور ثابت البنانی کی سیدنا انس کے حوالے روایت کردہ حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4700]
حدیث نمبر: 4701
كما حدثنا به الثقةُ المأمونُ أبو القاسم الحسن بن محمد بن الحَسَن (2) ابن إسماعيل بن محمد بن الفضل بن عُقبة (3) بن خالد السَّكُوني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا عُبيد بن كَثير العامري، حدثنا عبد الرحمن بن دُبَيس. وحدثنا أبو القاسم، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان بن صالح؛ قالا: حدثنا إبراهيم بن ثابت البصري القَصّار، حدثنا ثابت البُناني: أنَّ أنس بن مالك كان شاكيًا، فأتاهُ محمد بن الحجّاج يعودُه في أصحاب له، فجرى الحديثُ حتى ذكَروا عليًّا، فتنقَّصَه محمدُ بن الحجاج، فقال أنسٌ: مَن هذا؟ أقعِدُوني، فأقعدُوه، فقال: يا ابنَ الحجّاج، ألا أراكَ تَنَقَّصُ عليَّ بن أبي طالب، والذي بعث محمدًا ﷺ بالحقِّ، لقد كنتُ خادمَ رسولِ الله ﷺ بين يدَيه، وكان كلَّ يومٍ يَخدُم بين يدَي رسولِ الله ﷺ غُلامٌ من أبناء الأنصار، فكان ذلك اليومُ يومي، فجاءت أمُّ أيمنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ بطَيرٍ، فوضعتْه بين يَدَي رسولِ الله ﷺ، فقال رسولُ الله ﷺ:"يا أمَّ أيمنَ، ما هذا الطائرُ؟" قالت هذا الطائرُ أصبتُه فصنعتُه لك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهمَّ جِئْني بأحبِّ خَلقِكَ إليكَ وإليّ يأكلْ معي من هذا الطائر"، وضُربَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِب البابُ، فقال:"يا أنسُ، انظُرْ مَن على البابِ"، فقلتُ: اللهمَّ اجعلْه رجلًا من الأنصار، فذهبتُ فإذا عليٌّ بالباب، قلت: إنَّ رسول الله ﷺ على حاجةٍ، فجئتُ حتى قُمتُ مَقامي، فلم ألبَثْ أن ضُرِبَ البابُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا أنسُ، اذهَبْ فأدخِلْه، فلستَ بأولِ رجلٍ أحبَّ قومَه، ليس هو من الأنصار" فذهبتُ فأدخلتُه، فقال:"يا أنسُ قَرِّبْ إليه الطيرَ" قال: فوَضَعتُه بين يدَي رسول الله ﷺ، فأكلا جميعًا. قال محمد بن الحجّاج: يا أنسُ، كان هذا بمَحضَرٍ منك؟ قال: نعم، قال: أُعطي باللهِ عهدًا ألّا أنتقِصَ عليًّا بعد مَقامي هذا، ولا أَسمع أحدًا يَنتقِصُه إلَّا أشَنْتُ له وَجْهَهُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4651 - إبراهيم بن ثابت ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4651 - إبراهيم بن ثابت ساقط
سیدنا ثابت البنانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ محمد بن حجاج اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ان کی عیادت کے لئے آیا، دوران گفتگو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ چل نکلا تو محمد بن حجاج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ پھر فرمایا: مجھے بٹھاؤ، لوگوں نے ان کو بٹھا لیا۔ تو آپ بولے: اے ابن حجاج میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کر رہے ہو، اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا کیونکہ ہر دن کوئی نہ کوئی انصاری لڑکا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزاری انجام دیا کرتا تھا۔ ایک دن میری باری تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ باندی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کی خدمت میں ایک (بھنا ہوا) پرندہ لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ام ایمن! یہ پرندہ کہاں سے آیا؟ انہوں نے عرض کی: یہ میں نے شکار کیا تھا اور آپ کے لئے بھون کر لائی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی: یا اللہ! میرے پاس ایسے آدمی کو بھیج دے جو تجھے ساری دنیا سے زیادہ پیارا ہو اور مجھے بھی۔ اور میرے ہمراہ یہ پرندہ کھائے (اسی وقت) دروازے پر دستک ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟ میں نے دعا مانگی ” اللہ کرے یہ کوئی انصاری آدمی ہو “ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں (یہ کہہ کر) میں آ کر اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دوبارہ دروازہ بجا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازے پر کون ہے؟ میں پھر یہی دعا مانگ رہا تھا کہ اللہ کرے یہ کوئی انصاری شخص ہو۔ جب میں نے جا کر دروازہ کھولا تو (اب بھی) سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے پھر یہی کہہ دیا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں۔ میں پھر اپنی جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ پھر دروازے پر دستک ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! جاؤ، ان کو اندر لے کر آؤ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں کوئی پہلا شخص نہیں تھا جو اپنے قبیلے سے محبت رکھتا تھا (بلکہ ہر شخص کو اپنے قبیلے، برادری سے محبت ہوتی ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ انصار میں سے نہ تھے۔ خیر، میں دروازے پر گیا اور ان کو اندر لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! پرندہ پیش کرو، (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں نے وہ پرندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور ان دونوں نے مل کر اس کو تناول فرمایا۔ محمد بن الحجاج نے کہا: اے انس رضی اللہ عنہ! یہ سب معاملہ تمہاری موجودگی میں ہوا تھا؟ نہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں آج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی نہیں کروں گا بلکہ کسی کے بارے میں مجھے پتا چلا کہ اس نے ان کی شان میں گستاخی کی ہے تو میں اس کو بھی سزا دوں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4701]