المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
409. ذِكْرُ وَفَاةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
سیدنا اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5395
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا موسى بن زكريا، حدَّثنا خَليفة بن خيّاط، فذكر هذا النَّسبَ، وزاد فيه: وأمُّ أبيِّ بن كَعْب صُقَيلةُ (3) - وقال غيره: صُهَيلة (1) - بنت الأسود بن حَرَام بن عمرو بن زيد مَناة بن عَدي بن عمرو بن مالك بن النَّجار، وهي عَمة أبي طلحة.
خلیفہ بن خیاط نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے لیکن اس میں یہ اضافہ بھی ہے ”اور ابی بن کعب کی والدہ صہیلہ بنت اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار“ یہ سیدنا ابوطلحہ کی پھوپھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5395]
حدیث نمبر: 5396
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات أبي بن كعب في خِلافة عمر بن الخطاب سنة اثنتين وعشرين (2) .
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سن 22 ہجری میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5396]
حدیث نمبر: 5397
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن رُستَهْ، حدَّثنا سليمان بن داود، حدَّثنا محمد بن عمر، فذكر النَّسبَ بنحوه، وزاد: وشهد العقَبةَ في السبعين من الأنصار، وكان يكتُب لرسول الله ﷺ الوحيَ، وقد اختُلِف في وقت وفاته، فقيل: إنه مات في خلافة عمر سنة اثنتين وعشرين، وقيل: مات في خلافة عثمان سنة ثلاثين، وهذا أثبتُ الأقاويل، وذلك بأنَّ عثمان أَمَرَه بأن يجمَعَ القرآنَ (3) .
محمد بن عمر نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے ”اور آپ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی لکھا کرتے تھے۔ آپ کے دور وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سن 22 ہجری میں فوت ہوئے اور بعض لوگوں کا مؤقف یہ ہے کہ آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سن 30 ہجری میں فوت ہوئے۔ (امام حاکم کہتے ہیں کہ) دونوں میں سے یہ دوسرا مؤقف زیادہ مضبوط ہے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی قرآن جمع کرنے کی ذمہ داری لگائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5397]