🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

510. قَتْلُ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ
سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5667
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حَدَّثَنَا جدّي، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عِمران، قال: أخبرنا سعيد بن عبد العزيز السُّلَمي، عن أبيه، قال: لما انصرفَ الزُّبَير يوم الجَمَل جعل يقول: ولقد عَلِمتُ لوَ انَّ عِلْميَ نافِعِي … أَنَّ الحياةَ من المَماتِ قَرِيبُ ثم لم يَنْشَبْ أن قتلَه ابن جُرمُوزٍ (2) .
سعید بن عبدالعزیز سلمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن واپس لوٹے تو یہ اشعار کہہ رہے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ اگر میرا علم میرے لئے نفع بخش ہے تو بے شک زندگی موت کے قریب ہے۔ پھر آپ کو بہت جلدی ابن جرموز نے شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5667]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5668
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران بن خالد، قال: سمعت الفضْل بن دُكين يقول: قُتل طلحةُ والزُّبير بن العَوذام في رجب سنة ست وثلاثين.
فضل بن دکین کہتے ہیں: سیدنا طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما ماہ رجب شریف 36 سن ہجری کو شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5668]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5669
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحسَن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين ابن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: خرج الزُّبير يوم الجَمَل، وذلك يوم الخميس لعشرٍ خَلَون من جُمادى الآخِرة من هذه السنة، بعد الوَقْعة على فَرَس يقال له: ذو الخِمار، منطلقًا نحو المدينة، فقُتل بوادي السِّباع، ودُفِن هناك، وذُكِر عن عُروة بن الزُّبَير أنه قال: قُتل أبي يومَ الجَمَل، وقد زاد على الستين أربعَ سنينَ (1) .
محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے واقعہ کے بعد جمعرات کے دن، جمادی الآخر کی 11 تاریخ کو اپنے ذوالخمار نامی گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ کی جانب نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن وادی سباع میں ان کو شہید کر دیا گیا اور وہیں ان کو دفن کیا گیا۔ ٭ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد جنگ جمل کے موقع پر شہید ہوئے، اس وقت ان کی عمر 64 برس ہو چکی تھی۔ ابن عمر کہتے ہیں مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے 27 برس کی عمر میں جنگ بدر میں شرکت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5669]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5669M
قال ابن عُمر: وسمعتُ مُصعبَ بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير يقول: شهد الزُّبَير بن العوَّام بدرًا، وهو ابن سبع وعشرين سنة، وقُتِلَ وهو ابن أربع وستين سنةً (2) .
مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ: زبیر بن عوام (رضی اللہ عنہ) غزوہ بدر میں شریک ہوئے تو ان کی عمر ستائیس برس تھی، اور وہ جب شہید ہوئے تو ان کی عمر چونسٹھ برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5669M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5670
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: أخبرنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُريب الأَصمَعي، قال: سمعتُ عبدَ الله بن عَون يقول: هؤلاء الخِيارُ قُتِلوا قَتْلًا، ثم بكى، فقال: أقبلَ الزُّبَيرُ على قاتلِه وقد ظَفِرَ به، فقال: أذكِّرُك الله، فكَفَّ عنه الزُّبَيرُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فلما غَدَرَ بالزبير وضربَه، قال الزُّبَيرُ: قاتَلَكَ اللهُ، تُذكِّرُ بالله ثم تَنْساهُ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5571 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عون رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کتنے سمجھدار لوگ تھے جو شہید کر دیئے گئے، یہ کہہ کر آپ رونے لگ گئے، پھر فرمایا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قاتل کے سامنے آئے اور اس پر غالب بھی آ گئے تھے، لیکن اس دشمن نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا اس نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا۔ پھر جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف اس نے بغاوت کی اور ان کو زخمی کر دیا گیا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے غارت کرے تم مجھے اللہ کے واسطے دیتے رہے اور خود اللہ تعالیٰ کو بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5670]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں