🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
510. قتل طلحة والزبير بن العوام فى رجب سنة ست وثلاثين
سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما رجب سن 36 ہجری میں شہید ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5670
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: أخبرنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُريب الأَصمَعي، قال: سمعتُ عبدَ الله بن عَون يقول: هؤلاء الخِيارُ قُتِلوا قَتْلًا، ثم بكى، فقال: أقبلَ الزُّبَيرُ على قاتلِه وقد ظَفِرَ به، فقال: أذكِّرُك الله، فكَفَّ عنه الزُّبَيرُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فلما غَدَرَ بالزبير وضربَه، قال الزُّبَيرُ: قاتَلَكَ اللهُ، تُذكِّرُ بالله ثم تَنْساهُ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5571 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عون رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کتنے سمجھدار لوگ تھے جو شہید کر دیئے گئے، یہ کہہ کر آپ رونے لگ گئے، پھر فرمایا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قاتل کے سامنے آئے اور اس پر غالب بھی آ گئے تھے، لیکن اس دشمن نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا اس نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا۔ پھر جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف اس نے بغاوت کی اور ان کو زخمی کر دیا گیا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے غارت کرے تم مجھے اللہ کے واسطے دیتے رہے اور خود اللہ تعالیٰ کو بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5670]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5670 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) وأخرجه الطبراني في "معجمه الكبير" (241) عن أبي مسلم الكشي - وهو إبراهيم بن عبد الله - به.
📖 حوالہ / مصدر: (3) اسے طبرانی نے "معجم کبیر" (241) میں ابو مسلم الکشی (ابراہیم بن عبد اللہ) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وذكره ابن سعد في "الطبقات" 3/ 103 - 104 مُصدِّرًا ذلك بقوله: قالوا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 3/ 103 - 104 میں ذکر کیا ہے اور اس کا آغاز "قالوا" (انہوں نے کہا) کے الفاظ سے کیا ہے۔