🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

805. ذِكْرُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6393
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا عمر بن حفص، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا المبارك بن فَضَالة، عن الحسن، عن النُّعمان بن بَشير قال: صَحِبْنا رسولَ الله ﷺ فسمعناه يقول:"إنَّ بين يَدَي الساعةِ فِتَنًا كقِطَع الليل المُظلِم، يصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ خَلَاقَهم فيها بعَرَضٍ من الدنيا يسيرٍ" (2) . قال الحسن: والله لقد رأيناهم صُوَرًا بلا عُقول، أجسامًا بلا أحلام، فَرَاشَ نارٍ وذِبّانَ طَمَعٍ، يَعْدُون بدرهمينِ ويَرُوحون بدِرهمَينِ، يبيع أحدُهم دينَهُ بِثَمَن العَنْز. ذكرُ أبي واقد الليثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6263 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی سعادت حاصل ہوئی، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرب قیامت میں تاریک رات کی مانند فتنے ہوں گے، حالات ایسے ہو جائیں گے کہ انسان صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا، اور شام کے وقت مومن ہو گا تو صبح کے وقت کافر ہو جائے گا۔ لوگ اپنا دین دنیا کے چند سکوں کے عوض بیچ ڈالیں گے۔ حسن بصری فرماتے ہیں: خدا کی قسم ہم نے ان کو دیکھ لیا ہے، ان کی صرف شکلیں ہیں، ان میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے، وہ صرف جسم ہیں ان میں سمجھ بوجھ کچھ نہیں ہے۔ کمینے ہیں، لالچی مکھیوں جیسے ہیں، دو درہموں کے ساتھ صبح کریں گے اور دو درہموں کے ساتھ شام کریں گے، بکری کے ایک بچے کے عوض دین بیچ ڈالیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6393]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6394
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خليفة بن خَيَّاط قال: أبو واقدٍ اللَّيثي اسمه الحارثُ بن عوف بن أَسِيد بن جابر بن عبدِ مَنَاة بن شِجْع بن عامر بن لَيْث.
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن عوف بن اسید بن جابر بن عبدۃ مناۃ بن یشجع بن عامر بن لیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6394]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6395
فحدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: أبو واقدٍ الحارثُ بن مالك.
محمد بن عمر نے اپنی سند کے ساتھ ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ابوواقد لیثی، حارث بن عوف بن اسید بن جابر بن عوثرہ بن عبد مناۃ بن یشجع بن عامر ۔ آپ قدیم الاسلام ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر بنی لیث، ضمرہ اور بنی سعد بن بکر کا جھنڈا، انہی کے ہاتھ میں تھا۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کافی مدت تک زندہ رہے، پھر یہ مکہ کی جانب چلے گئے تھے اور وفات تک وہیں قیام پذیر رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6395]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6396
وأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي قال: سمعت سعيدَ ابن كَثير بن عُفَير يقول: أبو واقدٍ اللَّيثي الحارث بن عوف بن الحارث بن أَسِيد بن جابر بن عَوِيرة بن عبد مَنَاة بن شِجْع بن عامر، وكان قديمَ الإسلام، وكان معه لواءُ بني لَيْثٍ وضَمْرةً وسعدٍ بني بكر يومَ الفَتْح، وبقي أبو واقد بعدَ رسول الله ﷺ زمانًا ثم خرج إلى مكة فجاوَرَ بها سنةً ومات بها.
سعید بن کثیر بن عفیر بیان کرتے ہیں کہ: ابو واقد لیثی (رضی اللہ عنہ) کا نام حارث بن عوف... بن عامر تھا؛ وہ قدیم الاسلام (ابتدائی زمانے میں اسلام لانے والے) تھے، اور فتح مکہ کے دن ان کے پاس بنو لیث، ضمرہ اور سعد بن بکر کے قبائل کا جھنڈا تھا۔ ابو واقد (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک طویل عرصے تک بقیدِ حیات رہے، پھر وہ مکہ چلے گئے اور وہاں ایک سال قیام (مجاور بن کر) کیا اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6396]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6397
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِسَ قال: عُدْنا أبا واقدٍ الليثيَّ في مرضِه الذي مات فيه، ومات فدفَنّاه بمكة في مَقبرة المهاجرين بفَخٍّ. وإنما سُمِّيت مقبرةَ المهاجرين، لأنه دُفِنَ فيها مَن مات ممَّن كان هاجَرَ إلى المدينة ثم حجَّ وجاوَرَ فمات بمكة، فكان يُدفَن في هذه المقبرة، منهم أبو واقدٍ اللَّيثي وعبد الله ابن عمر وغيرُهما، ومات أبو واقدٍ الليثي سنةَ ثماني وستين وهو ابن خمس وثمانين سنةً (1) .
نافع بن سرجس کہتے ہیں: جب سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے، اس وقت ہم لوگ ان کی عیادت کے لئے گئے تھے۔ پھر ان کا انتقال ہو گیا، ہم نے مقام فخ میں مہاجرین کے قبرستان میں ان کی تدفین کی۔ کیونکہ جو شخص ہجرت کر کے مدینہ آتا، پھر حج کرتا اور مکہ میں ہی ٹھہر جاتا اور وہیں فوت ہوتا اس کو اسی قبرستان میں دفن کیا جاتا تھا، ان لوگوں میں سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ سیدنا ابوواقد کا وصال 68 ہجری کو ہوا، وفات کے وقت ان کی عمر 85 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6397]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں