🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1002. ذِكْرُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو العاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6837
حدثنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا عبد الله بن محمد ابن سعيد المصري بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن أبي وائل قال: دخل معاويةُ على أبي هاشم بن عُتْبة وهو يبكي، فقال: يا خالُ ما يُبكِيك؟ أوجعٌ أم حُزنٌ على الدنيا؟ فقال: كلٌّ لا، ولكن عَهِدَ إليَّ رسولُ الله ﷺ عهدًا لم آخُذْ به، قال لي:"يا أبا هاشم، إنها ستُدرِكُكَ أموالٌ يُؤتاها أقوام (1) " (2) . ذكرُ أبي العاص بن الرَّبيع ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6692 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابووائل فرماتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت وہ رو رہے تھے، سیدنا معاویہ نے پوچھا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا کوئی درد ہو رہا ہے یا دنیا کا غم ستا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، نہیں۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابوہاشم! عنقریب تجھے وہ مال ملے گا جو (عام طور پر صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ) قوموں کو دیا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6838
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي قال (1) : أبو العاص بنُ الربيع زوجُ زينب بنتِ رسول الله ﷺ وابنُ خالتها، أمُّه هالةُ بنت خُوَيلد أختُ خديجة، واسمُ أبي العاص مُهشِّم (2) ، وكان يُلقَّب جِرْوَ البَطْحاء، وولَدَتْ زينب بنتُ رسولِ الله ﷺ لأبي العاص عليَّ بن أبي العاص وأُمامة بنتَ أبي العاص، وتوفِّي أبو العاص سنةَ إحدى عشرةَ في خلافة أبي بكر.
ابراہیم بن اسحاق حربی کہتے ہیں: ابوالعاص بن ربیع، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے شوہر ہیں، اور اپنی زوجہ کی خالہ کے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ ہالہ بنت خویلد ہیں جو کہ سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا اصل نام مہشم ہے۔ ان کا لقب جروالبطحاء تھا۔ سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن سے ان کا ایک بیٹا علی بن ابی العاص پیدا ہوا، اور ایک لڑکی امامہ بنت ابی العاص پیدا ہوئی۔ سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سن 11 ہجری کو فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6838]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6839
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن داود بن الحصين، عن عِكرمة، عن ابن عبّاس قال: ردَّ رسولُ الله ﷺ زينبَ على أبي العاص بالنِّكاح الأول، لم يُحدِثا شيئًا (3) . هذا إسناد صحيح على شرط مسلم، وقد رُوي أنَّ النبيَّ ﷺ ردَّها عليه بنكاحٍ جديد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6694 - غير صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابوالعاص کے مسلمان ہونے کے بعد) تجدید نکاح کئے بغیر، نکاح اول کی بنیاد پر ہی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیج دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید نکاح کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے ہاں بھیجا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6839]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں