🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1003. ذِكْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6840
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرني حُميد بن رُوَيمان (4) ، عن الحجَّاج بن أَرْطاة، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه قال: أسلمَتْ زينبُ بنتُ النبيِّ ﷺ قبلَ زوجِها أبي العاص بسنةٍ، ثم أسلمَ أبو العاص، فردَّها النبيُّ ﷺ بنكاحٍ جديد (5) . ذكرُ عبد الله بن عامر بن كُرَيز القُرشي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6695 - هذا باطل ولعله أراد هاجرت قبله بسنة
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں (فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی، سیدہ زینب اپنے شوہر ابوالعاص سے ایک سال پہلے اسلام لے آئی تھیں، ایک سال بعد ابوالعاص بھی مسلمان ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید نکاح کر کے ان کو ابوالعاص کے ساتھ بھیج دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6840]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6841
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا الحسن بن علي بن نصر، حدثنا الزُّبير بن بكَّار قال: عبدُ الله بن عامر بن كُرَيز بن رَبيعة بن حَبيب بن عبد شمس بن عبد مَناف، وأمُّه دجاجةُ بنت أسماء بن الصَّلْت بن حبيب بن حارثة ابن هِلال بن حِزام، استعمله عثمانُ بن عفّان على البصرة، وعَزَلَ أبا موسى الأشعري، فقال أبو موسى: قد أتاكم فتًى من قريش كريمُ الأمهات والعمَّات والخالات، يقول بالمال فيكم هكذا وهكذا. وكان كثيرَ المناقب، وهو الذي افتتح خُراسانَ، وأحرمَ من نيسابور شكرًا لله تعالى، وعمل السِّقاياتِ بعرفةَ.
زبیر بن بکار نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عبداللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبد مناف ان کی والدہ دجاجہ بنت اسماء بن صلت بن حبیب بن جاریہ بن ہلال بن حزام ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری کو معزول کر کے ان کو وہاں کا عامل بنایا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے (اپنے معزولی کے حکم کے بعد) فرمایا تھا: اے لوگو! تمہارے پاس قریش کا ایسا جوان آیا ہے، جس کا ننھیال اور ددھیال سب شرفاء ہیں۔ مال سے ان کو دلچسپی نہیں ہے۔ بہت فضیلتوں کے مالک ہیں۔ یہ وہی شخص ہے جس نے خراسان کو فتح کیا اور نیشاپور سے احرام باندھا، عرفات میں حاجیوں کو پانی پلایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6841]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں