المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1062. ذِكْرُ نِكَاحِ الْكِلَابِيَّةِ وَطَلَاقِهَا
سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور طلاق کا ذکر
حدیث نمبر: 6982
أخبرنا أحمد بن سلمان (5) الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرقي، حدثنا أبي، حدثنا عبيد (6) الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، قال: ونكح رسول الله ﷺ امرأة من كندة، وهي الشَّقيَّةُ التي سألت رسول الله ﷺ أن يردها إلى قومِها وأن يُفارقها، ففعل وردها مع رجل من الأنصار يقال له: أبو أسيد الساعدي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6815 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6815 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں: رسول اللہ نے کندہ کی ایک خاتون کے ساتھ نکاح کیا، یہ وہی ” بدنصیب “ ہے، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کو طلاق دے کر ان کے میکے بھیج دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک انصاری صحابی (ابواسید ساعدی) کے ہمراہ اس کو ان کے گھر بھیج دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6982]
حدیث نمبر: 6983
حدثنا بشرح هذه القصة أبو عبد الله الأصبهاني (2) ، حدثنا الحسن بن الجَهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا محمد بن يعقوب بن عتبة، عن عبد الواحد بن أبي عون الدَّوْسي قال: قَدِمَ النُّعمان بن أبي الجَون الكندي وكان ينزل وبنو أبيه نجدًا ممّا يلي الشَّرَبَّة (3) ، فَقَدِمَ على رسول الله ﷺ مُسلِمًا، فقال: يا رسول الله، ألا أزوِّجُك أجمل أيمٍ في العرب؟ كانت تحتَ ابن عَمٍّ لها فتُوفي عنها فتأيَّمت، وقد رَغِبَت فيك وحطَّت إليك (4) ، فتزوجها رسول الله ﷺ على اثنتي عشرة أُوقيةً ونَشٍّ، فقال: يا رسول الله، لا تُقصِّرْ بها في المهر، فقال رسول الله ﷺ:"ما أصدَقتُ أحدًا من نسائي فوق هذا، ولا أُصدِقُ أحدًا من بناتي فوق هذا، فقال النُّعمان: ففيك الأسى، فقال: فابعث يا رسولَ الله إلى أهلك من يَحمِلُهم إليك، فإني خارج مع رسولك فمرسل أهلك معه. فبعث رسول الله ﷺ معه أبا أسيد الساعدي فلما قَدِمَا عليها جلست في بيتها، وأذنت له أن يدخُلَ، فقال أبو أسيد: إنَّ نساءَ رسول الله ﷺ لا يراهنَّ الرجال، قال أبو أسيد - وذلك بعد أن نزلَ الحِجاب، فأرسلت إليه: فتستَّري لا تُري (5) ، قال: حِجابٌ بينك وبين من تكلِّمين (6) من الرجال إِلَّا ذا مَحْرَم منكِ، فَفَعَلَت، فقال أبو أسيد: فأقمتُ ثلاثة أيام، ثم تحملتُ مع الظَّعينة على جَمَل في مِحَفَّة، فأقبلتُ بها حتى قدمت المدينة، فأنزلتها في بني ساعدة، فدخل عليها نساء الحي فرحَّبْنَ (1) بها وسهَّلَنَ، وخرَجْنَ من عندها فذكَرْنَ جمالها، وشاع ذلك بالمدينة، وتحدثوا بقدومها. قال أبو أُسيد الساعدي: ورجعت إلى النَّبيّ ﷺ وهو في بني عمرو بن عوف، فأخبرته، ودخل عليها داخل من النساء لما بلغهنَّ من جمالها، وكانت من أجمل النِّساء، فقالت (2) : إِنَّكِ من الملوك، فإن كنتِ تُريدين أن تَحظَيْ عند رسول الله ﷺ فاستعيذي منه، فإنك تحظين عندَه ويَرغَبُ فيك (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6816 - سنده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6816 - سنده واه
عبدالواحد بن ابی عون دوسی فرماتے ہیں: نعمان بن ابی جون کندی اور اس کے بہن بھائی شربہ کے قریب مقام نجد میں رہتے تھے، نعمان بن ابی جون کندی مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کے نکاح عرب کی سب سے حسین ترین بیوہ خاتون سے نہ کرا دوں؟ وہ آپ کے چچا زاد بھائی کے نکاح میں تھی۔ اب اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، اور وہ بیوہ ہو چکی ہے، وہ آپ کی شخصیت میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس نے آپ کے لئے پیغام نکاح بھی بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نکاح فرما لیا، اور حق مہر 12 اوقیہ اور ایک نش چاندی رکھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مہر کم مت رکھئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی کسی بیوی کا حق مہر اس سے زیادہ نہیں رکھا۔ اور نہ ہی اپنی کسی بیٹی کا حق مہر اس سے زیادہ لیا ہے۔ نعمان بن ابی جون نے کہا، ہماری ہمدردیاں تو آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کسی کو بھیج دیجئے، جو ان کو اپنے ساتھ آپ تک لے آئے، میں آپ کے سفیر کو ساتھ لے جاؤں گا اور وہاں جا کر ان کو آپ کے سفیر کے ہمراہ بھیج دوں گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نعمان کے ساتھ بھیجا، جب یہ دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں، اور ان کو اندر آنے کی اجازت دی، سیدنا ابواسید نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مردوں سے پردہ کرتی ہیں۔ یہ بات پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیغام بھیجا تھا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے نرمی فرما دی تھی، نعمان نے کہا: تم جن مردوں کے ساتھ گفتگو کرتی ہو، تمہارے اور ان کے درمیان پردہ ہونا چاہیے، البتہ اگر وہ آپ کا محرم ہو (تو اس کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں ہے) انہوں نے پردہ کے یہ احکام قبول کر لئے، میں وہاں پر تین دن ٹھہرا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے ہمراہ ایک اونٹ پر ان کو سوار کرا دیا، میں ان کو لے کر مدینہ منورہ میں آ گیا۔ ان کو بنی ساعدہ میں ٹھہرایا، محلے کی خواتین ان کے پاس اکٹھی ہوئیں، ان کو مبارک بادیاں دیں، پھر جب وہ باہر نکلیں تو سب ان کے حسن و جمال کی تعریفیں کر رہی تھیں، مدینہ منورہ میں یہ بات عام ہو گئی اور ان کی مدینہ منورہ میں آمد زباں زد عام ہو گئی، ابواسید ساعدی فرماتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بنی عمرو بن عوف میں موجود تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ ادھر مدینہ کی خواتین میں ان کے حسن و جمال کا چرچا سن کر ایک عورت ان کے پاس آئی وہ واقعی سب سے زیادہ حسین و جمیل تھیں، اس عورت نے کہا: تو بادشاہ زادی ہے، اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو ان سے توبہ کرو، کیونکہ (اس طرح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیری طرف متوجہ ہوں گے اور تو صاحب نصیب ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6983]
حدیث نمبر: 6984
قال ابن عمر: فحدثني عبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عون قال: تزوّج النَّبيُّ ﷺ الكندية في شهر ربيع الأول سنة تسع من الهجرة (4) .
ابن ابی عون فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ربیع الاول سن 9 ہجری کو کندیہ کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6984]
حدیث نمبر: 6984M
قال: وحدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه: أنَّ الوليد بن عبد الملك كتب إليه يسأله: هل تزوّج رسول الله ﷺ أختَ الأشعث بن قيس؟ فقال: ما تزوجها رسول الله ﷺ قَطُّ، ولا تزوّج كنديةٌ إلَّا أختَ بني الجَوْن، فمَلَكَها، فلما أتي بها وقَدِمَتِ المدينة نظر إليها فطلقها، ولم يبن بها (5) .
ولید بن عبدالملک نے سیدنا عروہ کی طرف خط لکھ کر پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعت بن قیس کی بہن کے ساتھ نکاح کیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہرگز نکاح نہیں کیا اور نہ ہی کسی کندیہ سے نکاح کیا ہے، ہاں البتہ بنی الجون کی بہن آپ کی ملکیت میں آئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نکاح کیا تھا لیکن جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ میں آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اس کو طلاق دے دی تھی، اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6984M]
حدیث نمبر: 6985
قال: وذكر هشام بن محمد: أنَّ ابنَ الغَسِيل حدثه عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي، عن أبيه، وكان بدريًا قال: تزوّج رسول الله ﷺ أسماء بنت النعمان الجونيّة، فأرسلني فجئتُ بها، فقالت حفصة لعائشة: اخضبيها أنتِ، وأنا أمشُطُها، ففعلتا، ثم قالت لها إحداهما: إن النَّبيّ ﷺ يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول: أعوذُ بالله منك، فلما دخلت عليه أغلق الباب وأرخى السِّترَ مدَّ يده إليها، فقالت: أعوذُ بالله منك، فقال رسول الله ﷺ بكُمِّه على وجهه، فاستَتَرَ به، وقال:"عُذتِ مَعَاذًا" ثلاث مرات. قال أبو أسيد: ثم خرج عليَّ فقال:"يا أبا أسيد، ألحقها بأهلها، ومتِّعها برازِقِيَّين" يعني كِرباسين، فكانت تقول: ادعُونِي الشَّقيَّة (1) . قال ابن عمر قال هشام بن محمد: فحدثني زهير بن معاوية الجعفي: أنها ماتت كَمَدًا.
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنت نعمان جونیہ کے ساتھ نکاح کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لینے کے لئے مجھے بھیجا تھا، میں جا کر ان کو لے آیا، (جب وہ آ گئیں تو) ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں اس کو خضاب لگاؤں گی اور تو اس کو کنگھی کرنا: پھر ان دونوں نے یہ کام کیا۔ اس کے بعد ان میں سے ایک (اسماء سے) کہنے لگی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی بیوی ان کے پاس جائے تو وہ کہے ” اعوذ باللہ منک “۔ (میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں)۔ جب اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کیا، اور پردے لٹکا دئیے، اور اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے کہہ دیا ” اعوذ باللہ منک “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین کے ساتھ اپنا چہرہ چھپایا، اس سے پردہ کر لیا اور اس سے فرمایا: تجھے پناہ دی گئی ہے، یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائے۔ سیدنا ابواسید فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: اے ابواسید! تم اس کو اس کے گھر والوں تک پہنچا دو، اور اس کو دو رازقین یعنی دو کرباس حق مہر دے دو۔ اسماء بنت نعمان کہا کرتی تھیں: مجھے ” شقیہ “ (بدبخت) کہہ کر پکارا کرو۔ زہیر بن معاویہ جعفی کہتے ہیں: وہ دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6985]