المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1065. ذِكْرُ وَفَاةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 6989
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: ثم وَلَدَت الرسول الله ﷺ مارية بنت شمعون، وهي التي أهداها إلى رسول الله ﷺ المُقوقس صاحب الإسكندرية، وأهدى معها أختها سيرينَ وخَصِيًّا يقال له: مأبور، فوهب رسول الله ﷺ سيرين لحسان بن ثابت. والمقوقس من القبط وهم نصارى. وولدت مارية لرسول الله ﷺ إبراهيم في ذي الحجة سنة ثمان من الهجرة، ومات إبراهيم ﵇ بالمدينة وهو ابن ثمانية عشر شهرًا.
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ماریہ بنت شمعون کے بطن سے ولادت ہوئی، یہ وہی خاتون ہیں جنہیں اسکندریہ کے حاکم مقوقس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا، اس نے ان کے ہمراہ ان کی بہن سیرین اور ایک مأبور نامی خادم بھی بھیجا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیرین کو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دیا تھا۔ مقوقس کا تعلق قبطیوں سے تھا اور وہ نصرانی تھے، سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی ولادت ذوالحجہ سنہ 8 ہجری میں ہوئی، اور ابراہیم علیہ السلام کی وفات مدینہ منورہ میں اٹھارہ ماہ کی عمر میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6989]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6989] [ترقيم الشركة 6910]
حدیث نمبر: 6990
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى البزاز ببغداد، حدثنا محمد بن ماهان، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، عن عَدِي بن ثابت، عن البَرَاء بن عازب قال: لما توفّي إبراهيمُ ابن النَّبيِّ ﷺ، قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ له مُرضِعًا في الجنَّة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6820 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6820 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی (انا) موجود ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6990]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6990] [ترقيم الشركة 6911] [ترقيم العلميه 6820]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 6991
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن علي الأبَّار، حدثنا الحسن بن حمّادٍ سَجادةُ، حدثني يحيى بن سعيد الأموي، حدثنا أبو معاذ سليمان بن الأرقم الأنصاري، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة ﵂ قالت: أهديت مارية إلى رسول الله ﷺ ومعها ابن عمّ لها، قالت: فوقع عليها وقعةً فاستمرت حاملًا، قال: فعزلها عند ابن عمها، قال: فقال أهلُ الإفكِ والزُّور: من حاجته إلى الولد ادعى ولد غيره، قال: وكانت أمَةً قليلةَ اللبن فابتيعت له ضائنةُ لَبون فكان يُغذَّى بلَبَنِها فحسن عليه لحمُه، قالت عائشة: فدُخِلَ به على النَّبيّ ﷺ ذات يوم، فقال:"كيف ترين؟" فقلتُ: من غُذِّي بلبن الضأن ليحسُنُ لحمه، قال:"ولا الشَّبَه؟" قالت: فحملني ما يحملُ النِّساءَ من الغَيرة أن قلتُ: ما أَرَى شَبَهًا، ثم قلت: وبلغ رسول الله ﷺ ما يقول الناسُ، فقال لعليٍّ:"خُذ هذا السيف فانطلق فاضرِبْ عُنق ابن عمّ مارية حيث وجدته" قال: فانطلق فإذا هو في حائط على نخلة يخترِفُ رُطَبًا، قال: فلما نظر إلى عليّ ومعه السيفُ استقبلَتْه رِعدة، قال: فسقطتِ الخِرقةُ، فإذا هو لم يَخلُق اللهُ ﷿ له ما للرجال، شيء ممسوحٌ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6821 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6821 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کیا گیا اور ان کے ہمراہ ان کا ایک چچا زاد بھائی بھی تھا، وہ حاملہ ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے چچا زاد کے پاس الگ کر دیا، اس پر اہلِ افک اور اہلِ جھوٹ نے کہا کہ اولاد کی تمنا میں کسی اور کی اولاد کو اپنی کہہ لیا گیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ماریہ کے پاس دودھ کم تھا تو ان کے لیے ایک دودھ دینے والی بھیڑ خریدی گئی جس کے دودھ سے بچے (ابراہیم) کی پرورش کی گئی اور وہ خوب صحت مند ہو گئے، ایک دن انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں یہ بچہ کیسا لگا؟“ میں نے (غیرت کی وجہ سے) کہا: جس کی پرورش بھیڑ کے دودھ پر ہو اس کا گوشت تو اچھا ہو ہی جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں مشابہت نظر نہیں آتی؟“ میں نے غیرت کے زیر اثر کہہ دیا کہ مجھے کوئی مشابہت نظر نہیں آتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لوگوں کی باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ تلوار لو اور ماریہ کے اس چچا زاد کو جہاں پاؤ اس کی گردن اڑا دو“، سیدنا علی وہاں پہنچے تو وہ ایک باغ میں کھجور کے درخت پر پھل توڑ رہا تھا، جب اس نے علی رضی اللہ عنہ کو ننگی تلوار کے ساتھ دیکھا تو وہ لرز گیا اور اس کی تہبند گر گئی، تب معلوم ہوا کہ وہ مردانہ اعضاء سے محروم (مجبوب) ہے اور اللہ نے اسے مردوں والی کوئی چیز عطا ہی نہیں کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6991]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل سليمان بن الأرقم. وقد سبق للحاكم أن قال عقب الرواية (638): سليمان بن أرقم ليس من شرط هذا الكتاب.» [ترقيم الرساله 6991] [ترقيم الشركة 6912] [ترقيم العلميه 6821]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا