🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرَّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ
تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7445
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم وإسحاق بن إبراهيم الصَّوّاف (1) ، قالا: حدثنا سُوَيد أبو حاتم، عن قَتَادةَ، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"عِفُّوا عن نساءِ الناس، تَعِفَّ نساؤكم، وبرُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، ومَن أتاه أخوه متنصِّلًا، فليَقبَلْ ذلك منه، مُحِقًّا كان أو مُبطِلًا، فإن لم يفعل لم يَرِدْ عليَّ الحوضَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7258 - بل سويد ضعيف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کی عورتوں کے معاملے میں پاک دامن رہو، تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی، اور اپنے باپوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی، اور جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرتا ہوا (اپنے گناہ سے براءت ظاہر کرتا ہوا) آئے، اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا، پس جس نے ایسا نہ کیا وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7445]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل سويد أبي حاتم» [ترقيم الرساله 7445] [ترقيم الشركة 7354] [ترقيم العلميه 7258]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7446
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ الأسَدي الحافظ وعَبْدان بن يزيد الدقّاق الهَمَذانيّان بهَمَذان، قالا: حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا علي بن قُتيبة الرِّفاعي، حدثنا مالك بن أنس، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"برُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، وعِفُّوا تَعِفَّ نساؤُكم، ومن تُنُصِّل إليه فلم يَقبَلْ، لم يَرِدْ عليَّ الحوض" (1) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی، اور تم (غیر عورتوں سے) پاک دامنی اختیار کرو، تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی، اور جس سے معذرت کی گئی اور اس نے اسے قبول نہ کیا، وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7446]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل علي بن قتيبة الرفاعي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس.» [ترقيم الرساله 7446] [ترقيم الشركة 7355]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7447
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، وأبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد (1) ، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن الغَسيل (ح) وأخبرني الحسن بن حَليم (2) المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن سليمان، عن أَسِيد بن علي بن (3) عُبيد الساعدي، عن أبيه، أنه سمع أبا أُسيد مالك بن رَبيعة الساعدي يقول: بينما نحن عندَ رسول الله ﷺ إذ جاءه [رجل] (4) من بني سَلِمة، فقال: يا رسولَ الله، هل بقي من بِرِّ أبويَّ شيءٌ أَبَرُّهما به من بعد موتهما؟ قال:"نعم، الصلاةُ عليهما، والاستغفارُ لهما، وإنفاذُ عُهودِهما، وإكرامُ صديقِهما، وصلةُ الرَّحِم الذي لا رحمَ لك إلَّا من قِبَلِهما" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7260 - صحيح
سیدنا ابو اسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک بنو سلمہ کا ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی کوئی صورت باقی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے (بعد) عہد و پیمان (وصیت) کو پورا کرنا، ان کے دوست کا اکرام کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو صرف انہی کے واسطے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7447]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل علي بن عبيد الساعدي، فقد تفرَّد بالرواية عنه ولده أسيد، وذكره ابن حبان في "الثقات". أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 7447] [ترقيم الشركة 7356] [ترقيم العلميه 7260]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7448
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سهل بن عثمان العَسكَري، حدثنا أبو معاوية، حدثنا محمد بن سُوقَة، عن أبي بكر بن حفص، عن ابن عمر قال: أتى النبيَّ ﷺ رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، إِنِّي أذنبتُ ذنبًا كثيرًا، فهل لي من توبة؟ قال:"ألكَ والدانِ؟" قال: لا، قال:"فلك خالةٌ؟" قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ:"فبِرَّها إذًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7261 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بہت زیادہ گناہ سرزد ہو گئے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے والدین (میں سے کوئی) زندہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہاری خالہ ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7448]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات والراجح إرساله، أبو معاوية - وهو محمد بن خازم - على ثقته له بعض الأوهام، وقد خالفه سفيان بن عيينة، وهو أحفظ منه، فأرسله، وهو الذي رجّحه الترمذي. أبو بكر بن حفص: هو عبد الله بن حفص بن عمر بن سعد الوقّاصي.» [ترقيم الرساله 7448] [ترقيم الشركة 7357] [ترقيم العلميه 7261]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات والراجح إرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں