🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب الصَّائِمِ يَسْتَقِيءُ عَامِدًا
باب: روزہ دار قصداً قے کرے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2380
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَيْضًا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، مِثْلَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2380]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کو قے آ جائے جبکہ وہ روزے سے ہو تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے، لیکن اگر وہ قصداً قے کرے تو قضا دے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم25 (720)، سنن ابن ماجہ/الصیام16 (1676)، (تحفة الأشراف: 14542)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (3130)، حم(2/498)، سنن الدارمی/الصوم 25 (1770) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (720) ابن ماجه (1676)
ھشام بن حسان عنعن
وأخرج البيهقي (219/4) بأسانيد صحيحة عن ابن عمر قال :’’ من ذرعه القئ فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ. حدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَاءَ فَأَفْطَرَ"، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ. حدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: صَدَقَ، وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2381]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا۔ (معدان کہتے ہیں کہ) پھر سیدنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی اور روزہ توڑ ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا: انہوں نے صحیح کہا ہے اور میں نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی انڈیلا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 64 (87)، سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (3120)، (تحفة الأشراف: 10964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/443، 449)، سنن الدارمی/الصوم 24 (1769) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2008)
أخرجه الترمذي (87 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں