🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ يَكْرَهُ عَشَرَةَ خِصَالٍ
اللہ کے نبی ﷺ دس عادتوں کو ناپسند فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7606
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ الرُّكَين بن الربيع يُحدِّث عن القاسم بن حسان، عن عمِّه عبد الرحمن بن حَرْملة، عن ابن مسعود: أنَّ نبيَّ الله ﷺ كان يكرَهُ عشرَ خِصال: الصُّفْرة - يعني الخَلوق - وتغييرَ الشَّيب، وجرَّ الإزار، والتختُّمَ بالذهب، وعقدَ التَّمائم، والرُّقَى إِلَّا بِالمُعوِّذات (3) ، والضَّرْب بالكِعَاب، والتبرُّجَ بالزِّينة لغير مَحِلَّها، وعَزَّلَ الماء لغير حِلَّه، وفسادَ الصبي غيرَ مُحرِّمهِ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7418 - صحيح
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتوں کو ناپسند فرماتے تھے: زرد رنگ (یعنی خوشبو والا خلوق)، بڑھاپے (سفید بالوں) کے رنگ کو بدلنا، تہبند لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، تعویذ لٹکانا، معوذات (قرآنی سورتوں) کے علاوہ دم کرنا، پانسے (کعب) پھینکنا، غیر محل میں زینت کا اظہار کرنا (نامحرموں کے سامنے زیب و زینت دکھانا)، غیر حلال طریقے سے عزل کرنا، اور بچے کو (دودھ پلائی کے دوران حمل کے ذریعے) نقصان پہنچانا بغیر اسے حرام قرار دیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7606]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الرحمن بن حرملة» [ترقيم الرساله 7606] [ترقيم الشركة 7514] [ترقيم العلميه 7418]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7607
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (1) ، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عمَّار بن رُزيق، عن أبي إسحاق، عن شمر بن عطية، عن خُرَيم بن فاتك، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"يا خُرَيمُ، لولا خَلَّتانِ فِيكَ كُنتَ أنتَ الرَّجُلَ" فقال: ما هما يا رسول الله؟ قال:"إسبالُك إزارَك، وإرخاؤُكَ شَعْرَك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7419 - صحيح
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خریم! اگر تم میں دو خصلتیں نہ ہوتیں تو تم کامل مرد ہوتے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا اور اپنے بالوں کو لمبا چھوڑنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7607]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، شمر بن عطية» [ترقيم الرساله 7607] [ترقيم الشركة 7515] [ترقيم العلميه 7419]

الحكم على الحديث: حديث حسن بطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7608
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن زيادٍ سَبَلانُ، حدثنا المُعافَى بن عمران، عن علي بن صالح ابن حَيّ، عن مسلم المُلَائي، عن مجاهد، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ لَبِسَ قميصًا وكان فوقَ الكعبَين، وكان كُمُّه من الأصابع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7420 - مسلم الملائي تالف
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قمیص پہنی جو ٹخنوں سے اوپر تھی اور اس کی آستین انگلیوں تک تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7608]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، من أجل مسلم» [ترقيم الرساله 7608] [ترقيم الشركة 7516] [ترقيم العلميه 7420]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7609
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا أبو عَقيل يحيى بن المتوكِّل، حدثنا أبو سلمة بن عُبيد الله ابن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن عمر قال: لَبِسَ عمر قميصًا جديدًا، ثم قال: مُدَّ كُمِّي يا بُنيَّ، وألزِقَ يدَك بأطرافِ أصابعي، واقطَعْ ما فَضَلَ عنها، قال: فقطعتُ من الكُمَّين، فصار فمُ (1) الكمَّين مُتعاديًا بعضُه فوق بعض، فقلتُ: لو سوَّيتَه بالمِقَص؟ قال: دَعْه يا بني، هكذا رأيتُ رسول الله ﷺ يفعل. قال ابنُ عمر: فما زال القميصُ على أبي حتى تقطَّعَ، وما كُنَّا نُصلِّي حتى رأيتُ بعض الخيوط تتساقطُ على قَدَميه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7421 - أبو عقيل ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نئی قمیص پہنی، پھر فرمایا: اے میرے بیٹے! میری آستین کھینچو اور اپنا ہاتھ میری انگلیوں کے پوروں سے ملا دو، پھر جو اس سے زیادہ ہو اسے کاٹ دو، انہوں نے کہا: چنانچہ میں نے دونوں آستینوں سے (زائد حصہ) کاٹ دیا، تو آستینوں کے سرے ناہموار ہو گئے، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے قینچی سے برابر کر دوں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اسے رہنے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر وہ قمیص میرے والد کے پاس رہی یہاں تک کہ وہ پھٹ گئی، اور جب ہم نماز پڑھتے تو میں دیکھتا کہ اس کے کچھ دھاگے ان کے قدموں پر گر رہے ہوتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7609]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل يحيى بن المتوكل» [ترقيم الرساله 7609] [ترقيم الشركة 7517] [ترقيم العلميه 7421]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں