🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْعَيْنِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ .
نظرِ بد سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ نظر کا لگنا برحق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7686
أخبرنا أبو سهل بن زياد حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعبة، عن محمد بن عبد الرحمن بن زُرَارة قال: سمعتُ عمِّي -وما رأيت أحدًا مِنَّا به شبيهٌ- يحدِّثُ: أنَّ أسعدَ (3) بن زُرَارة أخذه وَجَعٌ، وتُسمِّيه أهلُ المدينة الذِّبح (1) ، فكَوَاه رسولُ الله ﷺ فمات، فقال رسولُ الله ﷺ:"ميتُ سُوءٍ ليهودَ (2) ، ليقولون: لولا دَفَعَ عن صاحبِه، ولا أملِكُ له ولا لنفسي شيئًا" (3) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7496 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن عبدالرحمن بن زرارہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سعد بن زرارہ کو تکلیف شروع ہو گئی، اہل مدینہ اس درد کو ذبح کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو داغ لگوایا، لیکن وہ فوت ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنی بری میت ہے۔ یہودی ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھی کی بیماری دور نہیں کر سکے، حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم اس کی شفاء کے مالک نہیں ہیں بلکہ ہم تو خود اپنی ذات کے مالک نہیں ہیں۔ (بے شک اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی کسی کے نفع نقصان کا مالک نہیں ہو سکتا۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7686]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7687
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا أبو حاتم، أخبرنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا أبو واقد اللَّيثي قال: سمعتُ أبا سَلَمة بن عبد الرحمن يُحدِّث عن عائشةَ قالت: قال رسول الله ﷺ:"استعيذُوا بالله من العَيْنِ، فإنَّ العينَ حقٌّ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتَّفقا على حديث ابن عباس:"العينُ حقٌّ" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7497 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو، کیونکہ نظر برحق ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ جبکہ ان دونوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نظر برحق ہے ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7687]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں