سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ
باب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا فِي النَّذْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2400]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے رہتے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ مسئلہ نذر کی صورت میں ہے اور امام احمد حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 42(1952)، صحیح مسلم/الصیام 27 (1147)، (تحفة الأشراف: 16382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/69)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1952) صحيح مسلم (1147)
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا مَرِضَ الرَّجُلُ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ مَاتَ وَلَمْ يَصُمْ أُطْعِمَ عَنْهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ قَضَى عَنْهُ وَلِيُّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2401]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”جب کوئی شخص رمضان میں بیمار ہوا اور پھر فوت ہو گیا اور روزے نہ رکھ سکا ہو تو اس کی طرف سے کھانا کھلا دیا جائے، اس پر قضا نہیں ہے۔ اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی قضا دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89