المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. دَوَاءُ الذُّنُوبِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - .
گناہوں کی دوا اللہ عزوجل سے استغفار کرنا ہے
حدیث نمبر: 7798
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِرَاس المكي الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا يزيد بن عبد الصمد الدِّمشقي، حدثنا أبو مُسهر عبد الأعلى بن مُسهِر، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي ذرٍّ، عن رسول الله ﷺ، عن الله ﵎ أنه قال:"يا عبادي، إنَّكم الذين تُخطئِون بالليل والنهار، وأنا الذي أغفِرُ الذنوبَ ولا أبالي، فاستغفِرُوني أغفِرْ لكم. يا عبادي، كلُّكم جائعٌ إلَّا من أطعمتُ، فاستَطعمِوني أُطعِمْكم. يا عبادي، كلُّكم عارٍ إِلَّا من كَسَوتُ، فاستَكسُوني أَكسُكُمْ. يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أتقى قلبِ رجلٍ منكم، لم يَزِدْ ذلك في مُلْكي شيئًا، يا عبادي، لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم كانوا على أفجَرِ قلبِ رجلٍ منكم، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكي شيئًا، يا عبادي لو أنَّ أوّلَكم وآخرَكم وإنسَكم وجِنَّكم اجتَمَعوا في صعيدٍ واحدٍ فسألوني، فأعطيتُ (1) كلَّ إنسان منهم ما سألَ، لم يَنقُصْ ذلك من مُلْكى شيئًا إلَّا كما يَنقُصُ البحرُ إِنْ يُعْمَسُ فيه المِخيَطُ غَمسةً واحدةً. يا عبادي، إنَّما هي أعمالُكم أحفَظُها عليكم، فمن وَجَدَ خيرًا فليَحمَدِ اللهَ تعالى، ومن وَجَدَ غير ذلك فلا يَلُومَنَّ إلَّا نفسَه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7606 - هو في مسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو، اور میں وہ ہوں جو گناہ معاف کرتا ہوں، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے، اس لیے اے بندو، مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے کہ جس کو میں کھلا دوں، اس لیے مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو، سوائے اس کے کہ جس کو میں پہناؤں، اس لیے مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو، اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے، اور تمام انسان اور تمام جنات، سب متقی اور پرہیزگار بن جائیں تو اس سے میرے ملک میں ایک ذرہ بھی اضافہ نہیں ہو گا، اور اے میرے بندو، اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے انسان اور تمام جنات، سب فاسق و فاجر ہو جائیں تو اس کی وجہ سے میرے ملک میں کچھ بھی نقصان واقع نہیں ہو گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے، پچھلے، تمام انسان اور تمام جنات ایک جگہ پر جمع ہو جائیں۔ اور مجھ سے مانگیں، اور میں ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق نواز دوں، تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی کہ سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالے تو اس کے کنارے پر جتنا پانی لگا ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھلائی پائے، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، اور جو بھائی کے علاوہ کچھ پائے وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7798]
حدیث نمبر: 7799
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن بشر بن مَطَر، حدثنا خالد بن خِدَاش الزَّهْراني، حدثنا بشَّار بن الحَكَم، عن ثابت البُناني، عن أنس ابن مالك: أنَّ أبا ذرٍّ الغِفاري بالَ قائمًا، فانتَضَحَ من بَوْلِه على ساقَيْه وقَدَمَيه، فقال له رجلٌ: إنه قد أصابَ من بولك قدمَيْك وساقَيْك، فلم يَرُدَّ عليه شيئًا حتى انتهى إلى دار قوم، فاستوهبهم طَهُورًا، فأخرجوا إليه، فتوضأ وغَسَلَ ساقيه وقَدَميه، ثم أقبلَ على الرَّجل، فقال: ماذا قلتَ؟ فقال: أمَّا الآنَ فقد فعلت فقال أبو ذرٍّ: هذا دواءُ هذا، دواءُ الذُّنوب أن تستغفرَ الله ﷿ (1) . هذا وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح عن أنس عن أبي ذر، وهذا موضعُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، ان کے پیشاب کے قطرے ان کی پنڈلی اور پاؤں پر ٹپک رہے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: آپ کے پیشاب کے قطرے آپ کی ٹانگ اور پاؤں پر پڑ رہے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی جواب نہ دیا اور کسی آدمی کے گھر سے پانی مانگا، انہوں نے ان کو پانی دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، اپنی پنڈلیاں اور پاؤں دھوئے، پھر اس آدمی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ اس نے بتایا کہ ابھی تم نے جو حرکت کی ہے میں اسی کے بارے میں آپ کو آگاہ کر رہا تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس عمل کا یہ حل ہے، اور گناہوں کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جائے۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن اس کی اسناد صحیح ہے جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7799]
حدیث نمبر: 7800
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک قصہ گو شخص رہتا تھا، اس کا نام ” عبدالرحمن ابن ابی عمرہ “ تھا۔ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا ہوں، تو مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتا ہے، وہ کچھ عرصہ اپنی توبہ پر قائم رہتا ہے، لیکن پھر گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے، (لیکن پھر نادم ہو کر) اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میرے رب میں گناہ کر بیٹھا ہوں، مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور پکڑ بھی سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے، یہ جو چاہے عمل کرے۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے، (لیکن نادم ہو کر پھر) اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے: اے میرے رب، میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کو یہ پتہ ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو کہ گناہوں کو بخش بھی سکتا ہے اور گناہ پر بندے کی پکڑ بھی کر سکتا ہے، تو جو چاہے عمل کر لے، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ/حدیث: 7800]