المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. دواء الذنوب أن تستغفر الله - عز وجل - .
گناہوں کی دوا اللہ عزوجل سے استغفار کرنا ہے
حدیث نمبر: 7800
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک قصہ گو شخص رہتا تھا، اس کا نام ” عبدالرحمن ابن ابی عمرہ “ تھا۔ وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا ہوں، تو مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتا ہے، وہ کچھ عرصہ اپنی توبہ پر قائم رہتا ہے، لیکن پھر گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے، (لیکن پھر نادم ہو کر) اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میرے رب میں گناہ کر بیٹھا ہوں، مجھے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کو بخش بھی سکتا ہے اور پکڑ بھی سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے، یہ جو چاہے عمل کرے۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے، (لیکن نادم ہو کر پھر) اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے: اے میرے رب، میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کو یہ پتہ ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو کہ گناہوں کو بخش بھی سکتا ہے اور گناہ پر بندے کی پکڑ بھی کر سکتا ہے، تو جو چاہے عمل کر لے، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7800]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7800 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن عبد الله: هو ابن يزيد السعدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابراہیم بن عبداللہ سے مراد "ابراہیم بن عبداللہ بن یزید السعدی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (7948)، وابن حبان (622) من طريق يزيد بن هارون بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 13/ (7948) اور امام ابن حبان (622) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وليس عندهما قوله: "فليعمل ما شاء" في المرة الثانية، وكذا باقي الطرق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ان دونوں محدثین (احمد و ابن حبان) کے ہاں دوسری مرتبہ "فلیعمل ما شاء" (پس وہ جو چاہے عمل کرے) کے الفاظ موجود نہیں ہیں، اور باقی طرق کا بھی یہی حال ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9256) و 16/ (10380)، والبخاري (7507)، ومسلم (2758) (30) من طرق عن همام بن يحيي، به فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9256، 10380)، امام بخاری (7507) اور امام مسلم (2758/30) نے ہمام بن یحییٰ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" ہے (کیونکہ یہ بخاری و مسلم دونوں میں پہلے ہی موجود ہے)۔
وأخرجه أحمد 16/ (10379)، ومسلم (2758) (29)، والنسائي (10180)، وابن حبان (625) من طرق عن حماد بن سلمة، عن إسحاق بن عبد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10379)، امام مسلم (2758/29)، امام نسائی (10180) اور امام ابن حبان (625) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طریقوں سے اسحاق بن عبداللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
قال النووي في "شرح مسلم": لو تكرر الذنب مئة مرة أو ألف مرة أو أكثر، وتاب في كل مرة قُبِلَت توبته، وسقطت ذنوبه، ولو تاب عن الجميع توبة واحدة بعد جميعها صحَّت توبته.
📌 اہم نکتہ: امام نووی رحمہ اللہ "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ اگر گناہ سو مرتبہ، ہزار مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ دہرایا جائے اور انسان ہر مرتبہ (سچی) توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور اس کے گناہ مٹ جائیں گے۔ اسی طرح اگر وہ ان تمام گناہوں کے بعد ایک ہی مرتبہ توبہ کر لے تب بھی اس کی توبہ درست و صحیح تسلیم کی جائے گی۔
قول الله ﷿ للذي تكرر ذنبه: "اعمل ما شئت فقد غفرت لك معناه: ما دمتَ تذنب ثم تتوب غفرتُ لك. وانظر "فتح الباري" 24/ 458 - 461.
📝 نوٹ / توضیح: اللہ عزوجل کا اس شخص کے بارے میں فرمان جس نے بار بار گناہ کیا کہ "جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا"، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک تو گناہ کرتا رہے گا اور پھر توبہ کرتا رہے گا، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا۔ 📖 حوالہ / مصدر: تفصیل کے لیے دیکھیے "فتح الباری" جلد 24، صفحات 458 - 461۔