🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. النَّهْيُ عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحَدِّ
حدودِ الٰہی میں سفارش کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8346
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدِّمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد طلحة بن يزيد (2) ابن رُكانة، عن أمِّه عائشةَ بنت مسعود، عن أبيها مسعود قال: لما سرقَتْ تلك المرأةُ القطيفةَ من بيتِ رسول الله ﷺ، أعظَمنا ذلك، وكانت امرأةً من قريش، فجئنا رسول الله ﷺ فكلَّمناه، فقلنا: يا رسولَ الله، نحن نَفْدِيها بأربعينَ أُوقِيَّة، قال:"تُطهَّرُ خيرٌ لها"، فلمَّا سَمِعْنا من قولِ رسول الله ﷺ أتَينا أسامةَ بن زيد، فقلنا: اشفَعْ لنا إلى رسولِ الله ﷺ في شأنِ هذه المرأة، نحن نَفْدِيها بأربعينَ وُقيَّة، فلمَّا رأى رسولُ الله ﷺ جِدَّ الناسِ في ذلك قام خطيبًا، فقال:"يا أيها الناسُ، ما إكثارُكم في حدٍّ من حدودِ الله وَقَعَ على أَمَةٍ مِن إماءِ الله؟! والذي نفسُ محمدٍ بيده، لو كانت فاطمةُ بنتُ محمد نَزلَتْ بالذي نَزلَتْ به هذه المرأةُ لقَطَعَ محمدٌ يدَها". قال: فأيسَ الناسُ، وقَطَع رسولُ الله ﷺ يدَها. قال محمد بن إسحاق: فحدَّثني عبد الله بن أبي بكر: أنَّ رسول الله ﷺ بعد ذلك كان يَرحَمُها ويَصِلُها (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے مخمل کی چادر (قطیفہ) چوری کی تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، وہ قریش کی ایک خاتون تھی، پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بات کی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا (حد کے ذریعے) پاک ہو جانا اس کے لیے بہتر ہے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: آپ اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہماری سفارش کریں، ہم اس کے بدلے چالیس اوقیہ فدیہ دینے کو تیار ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں لوگوں کی حد درجہ کوشش دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تمہیں اللہ کی حدود میں سے ایک ایسی حد کے بارے میں اتنی زیادہ گفتگو کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر واجب ہو چکی ہے؟! اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی اس کام کا ارتکاب کرتیں جس کا اس عورت نے کیا ہے تو محمد ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ راوی کہتے ہیں: پھر لوگ مایوس ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابوبکر نے بتایا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت پر رحم فرماتے تھے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8346]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس ورواه بالعنعنة، وذهل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 469» [ترقيم الرساله 8346] [ترقيم الشركة 8247] [ترقيم العلميه 8147]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8347
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن أحمد بن أنس القُرشي، قالا: حدَّثنا أبو عاصم الضَّحَّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدَّثنا زكريا بن إسحاق، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ صفوان بن أُمية أتى النبيَّ ﷺ برجلٍ قد سَرَقَ حُلَّةً له، ثم قال: يا رسول الله، هَبْهُ لي، فقال رسول الله ﷺ:"فهَلَّا قبل أن تأتيَنا به" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والحديث المُفسَّر فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8148 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک ایسے شخص کو لائے جس نے ان کی ایک چادر (حلہ) چوری کی تھی، پھر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میں نے اسے بخش دی (یعنی معاف کر دی)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف على طاووس في وصله عن ابن عباس وإرساله، والمرسل أصحُّ سندًا وأكثر عددًا» [ترقيم الرساله 8347] [ترقيم الشركة 8248] [ترقيم العلميه 8148]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8348
ما أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد، حدَّثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدَّثنا عمرو (1) بن طلحة القَنَّاد، حدَّثنا أسباطُ بن نصر الهَمْداني، عن سِمَاك بن حَرْب، عن حُمَيدٍ ابن أخت صفوان، عن صفوان بن أُميّة، قال: كنت نائمًا في المسجد وعليَّ خَمِيصةٌ لي ثمنُ ثلاثين درهمًا، فجاء رجلٌ فاختَلَسَها مني، فأُخِذَ الرجلُ فجِيءَ به إلى النبيِّ ﷺ، فأمرَ به أن يُقطَعَ، فأتيتُه فقلت: أتقطَعُه من أجل ثلاثين درهمًا؟! أنا أبيعُه وأنسِئُه ثمنَها، قال:"فهلا كان هذا قبلَ أن تأتيَني به" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8149 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں سو رہا تھا اور میرے اوپر میری ایک سیاہ چادر تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر بھاگ گیا، وہ شخص پکڑا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: کیا آپ محض تیس درہم کی خاطر اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ میں تو وہ چادر اسے فروخت کر دیتا ہوں اور قیمت کی ادائیگی میں اسے مہلت دے دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8348]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حميد» [ترقيم الرساله 8348] [ترقيم الشركة 8249] [ترقيم العلميه 8149]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8349
حدَّثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدَّثنا إبراهيم بن حمزة، حدَّثنا عبد العزيز بن محمد، أخبرني يزيد بن خُصَيفة، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثَوْبان، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِيَ بسارقٍ قد سَرَق شَمْلةً، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ هذا سَرَقَ، فقال رسول الله ﷺ:"ما إِخَالُه سَرَقَ" فقال السارق: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"اذهبُوا به فاقطَعُوه، ثم احسِمُوه، ثم ائتُوني به" فقُطِعَ ثم أُتِيَ به، فقال:"تُبْ إلى الله" فقال: تبتُ إلى الله، فقال:"تابَ اللهُ عليك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8150 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک چور لایا گیا جس نے ایک کمبل نما چادر چوری کی تھی، لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس نے چوری کی ہو گی، اس پر چور نے خود اعتراف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (میں نے ہی چوری کی ہے)، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر (خون روکنے کے لیے) کٹے ہوئے مقام کو داغ دو، پھر اسے میرے پاس لاؤ، چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر اسے لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے حضور توبہ کرو، اس نے عرض کی: میں نے اللہ کے حضور توبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام مسلم کی شرط پر ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8349]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن عبد العزيز بن محمد» [ترقيم الرساله 8349] [ترقيم الشركة 8250] [ترقيم العلميه 8150]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں