المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. النهي عن الشفاعة فى الحد
حدودِ الٰہی میں سفارش کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 8346
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو زُرْعة الدِّمشقي، حدَّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد طلحة بن يزيد (2) ابن رُكانة، عن أمِّه عائشةَ بنت مسعود، عن أبيها مسعود قال: لما سرقَتْ تلك المرأةُ القطيفةَ من بيتِ رسول الله ﷺ، أعظَمنا ذلك، وكانت امرأةً من قريش، فجئنا رسول الله ﷺ فكلَّمناه، فقلنا: يا رسولَ الله، نحن نَفْدِيها بأربعينَ أُوقِيَّة، قال:"تُطهَّرُ خيرٌ لها"، فلمَّا سَمِعْنا من قولِ رسول الله ﷺ أتَينا أسامةَ بن زيد، فقلنا: اشفَعْ لنا إلى رسولِ الله ﷺ في شأنِ هذه المرأة، نحن نَفْدِيها بأربعينَ وُقيَّة، فلمَّا رأى رسولُ الله ﷺ جِدَّ الناسِ في ذلك قام خطيبًا، فقال:"يا أيها الناسُ، ما إكثارُكم في حدٍّ من حدودِ الله وَقَعَ على أَمَةٍ مِن إماءِ الله؟! والذي نفسُ محمدٍ بيده، لو كانت فاطمةُ بنتُ محمد نَزلَتْ بالذي نَزلَتْ به هذه المرأةُ لقَطَعَ محمدٌ يدَها". قال: فأيسَ الناسُ، وقَطَع رسولُ الله ﷺ يدَها. قال محمد بن إسحاق: فحدَّثني عبد الله بن أبي بكر: أنَّ رسول الله ﷺ بعد ذلك كان يَرحَمُها ويَصِلُها (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8147 - صحيح
سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے مخملی چادر چوری کی تو ہم نے اس معاملہ کو بہت سنگین جانا، وہ عورت قریشی تھی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس عورت کی طرف سے 40 اوقیہ ہرجانہ پیش کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو سزا ہونے دو، یہی اس کے حق میں بہتر ہے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس عورت کے سلسلے میں ہماری سفارش فرما دیں، اس کی جانب سے ہم 40 اوقیہ فدیہ پیش کر دیتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں صحابہ کرام کی گرمجوشیاں دیکھیں تو آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی ایک بندی پر لگنے والی حد کو روکنے کی بہت کوشش کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد سے بھی اس عورت جیسا عمل سرزد ہوتا تو محمد اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا، راوی فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گفتگو کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدیں ٹوٹ گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ ٭٭ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن ابی بکر نے بتایا ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بہت خیال رکھا کرتے تھے اور اس کے ساتھ بہت حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8346]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8346 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: شداد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شداد" بن گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف؛ محمد بن إسحاق مدلس ورواه بالعنعنة، وذهل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 21/ 469 - 470 حيث توهم أنَّ ابن إسحاق صرَّح بالتحديث عند الحاكم، وحسّن الإسناد، وقد اختُلف في إسناده على ابن إسحاق كما أشار البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 421 - 422، فمرةً يجعله: محمد عن عمته، ومرةً: عن أمه، ومرةً: عن خالته.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق "مدلس" ہیں اور انہوں نے یہ روایت "عنعنہ" (لفظ ’عن‘ کے ساتھ) بیان کی ہے۔ حافظ ابن حجر کو "فتح الباری" 21/ 469 - 470 میں وہم (ذہول) ہوا ہے جہاں انہوں نے یہ گمان کیا کہ ابن اسحاق نے مستدرک حاکم میں سماع کی تصریح (تحدیث) کر رکھی ہے، اور یوں انہوں نے سند کو حسن قرار دے دیا (حالانکہ ایسا نہیں ہے)۔ نیز ابن اسحاق پر اس کی سند بیان کرنے میں اختلاف بھی کیا گیا ہے جیسا کہ امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 7/ 421 - 422 میں اشارہ کیا ہے؛ چنانچہ وہ کبھی اسے "محمد (بن اسحاق) عن عمتہ" (پھوپھی سے)، کبھی "عن امہ" (والدہ سے) اور کبھی "عن خالتہ" (خالہ سے) روایت کرتے ہیں۔
ونقل أهل الأخبار كابن إسحاق نفسه - كما في "سيرة ابن هشام" 2/ 388 - والواقدي في "مغازيه" 2/ 769: أنَّ مسعود بن الأسود - والد عائشة - استُشهد يوم مؤتة، وقصة المخزومية إنما كانت بعدها في فتح مكة كما في "صحيح البخاري" (4304)، فلم يُدركها مسعود.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مؤرخین (اہل الاخبار) نے نقل کیا ہے، جیسے کہ خود ابن اسحاق نے — "سیرت ابن ہشام" 2/ 388 میں — اور واقدی نے "المغازی" 2/ 769 میں کہ: (راویہ) عائشہ کے والد مسعود بن اسود غزوہ موتہ کے دن شہید ہو گئے تھے، جبکہ (اس حدیث میں مذکور) مخزومی عورت کا واقعہ اس کے بعد "فتح مکہ" کے موقع پر پیش آیا تھا جیسا کہ "صحیح بخاری" (4304) میں ہے۔ لہذا مسعود نے اس واقعے کا زمانہ نہیں پایا (پس سند منقطع ہے)۔
وأخرجه ابن ماجه (2548) من طريق عبد الله بن نمير، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسے ابن ماجہ (2548) نے عبد اللہ بن نمیر کے طریق سے، محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔