🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. حِكَايَةُ سَارِقٍ قُتِلَ فِي الْخَامِسَةِ
ایک ایسے چور کا قصہ جسے پانچویں مرتبہ چوری کرنے پر قتل کر دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8352
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إسحاق بن الحسن بن الحَرْبي، حدَّثنا عفان بن مسلم، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، حدَّثنا يوسف بن سعد، عن الحارث بن حاطِبٍ: أنَّ رجلًا سَرَقَ على عهدِ رسول الله ﷺ، فأُتِيَ به النبيُّ ﷺ فقال:"اقتُلُوه"، فقالوا: إنما سَرَق، قال:"فاقطَعُوه"، ثم سَرَق أيضًا، فقُطِعَ، ثم سَرَق على عهد أبي بكر فقُطِع، ثم سَرَق فقُطِع (2) ، حتى قُطعت قوائمُه، ثم سَرَق الخامسة، فقال أبو بكر: كان رسولُ الله ﷺ أعلمَ بهذا حين أمرَ بقتلِه، اذهبوا به فاقتُلُوه، فدُفِع إلى فِتْيَةٍ من قريش فيهم عبدُ الله بن الزُّبير، فقال عبد الله بن الزُّبير: أَمِّروني عليكم، فأَمَّروه، فكان إذا ضَرَبه ضَرَبُوه حتى قَتلُوه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8153 - بل منكر
حارث بن حاطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک شخص نے چوری کی، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو، صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے تو محض چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں چوری کی تو (پاؤں) کاٹا گیا، پھر چوری کی تو (دوسرا پاؤں) کاٹا گیا، یہاں تک کہ اس کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، پھر اس نے پانچویں مرتبہ چوری کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے جب آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا، اسے لے جاؤ اور قتل کر دو، چنانچہ اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کر دیا گیا جن میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے اپنا امیر بنا لو، انہوں نے انہیں امیر بنا لیا، پھر جب وہ اسے ضرب لگاتے تو باقی سب بھی مارتے یہاں تک کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8352]
تخریج الحدیث: «خبر منكر كما قال الذهبي في "السير" 3/ 366، وفي "تلخيص المستدرك"، والظاهر أنَّ النكارة من جهة يوسف بن سعد، فهو مختلف فيه، فقد اختلف حماد بن سلمة وخالد الحذاء في اسمه، فسماه حمادٌ يوسفَ بن سعد، وسماه خالدٌ يوسف بن يعقوب، قال الذهبي في ترجمة يوسف بن سعد من ...» [ترقيم الرساله 8352] [ترقيم الشركة 8253] [ترقيم العلميه 8153]

الحكم على الحديث: خبر منكر كما قال الذهبي في "السير" 3/ 366
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8353
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدَّثنا أبو محمد فَهْد بن سليمان بمصر، حدَّثنا موسى بن داود الضَّبِّي، حدَّثنا سفيان بن سعيد الثَّوري، عن عمرو بن دينار، عن مجاهدٍ، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس على العبدِ الآبقِ إذا سَرَقَ قطعٌ، ولا على الذِّمِّي" (1) .
هذا حديث إسناده صحيح على شرط الشيخين، وقد تفرَّد بسنده موسى بن داود، وهو أحد الثِّقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8154 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاگے ہوئے غلام پر جب وہ چوری کرے تو ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، اور نہ ہی ذمی (غلام) پر۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور اس سند کے ساتھ موسیٰ بن داود منفرد ہیں جو کہ ثقات میں سے ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8353]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، ضعيف مرفوعًا، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وفهد بن سليمان» [ترقيم الرساله 8353] [ترقيم الشركة 8254] [ترقيم العلميه 8154]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں