المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. التَّرْهِيبُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ
بیوقوفوں کی حکمرانی سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 8507
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن (1) خُثَيم، عن عبد الرحمن بن سابِطٍ، عن جابر بن عبد الله: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال لكعب بن عُجْرة:"أعاذَك اللهُ يا كعبُ من إمارةِ السُّفهاء" قال: وما إمارةُ السفهاءِ يا رسول الله؟ قال:"أمراءُ يكونون بعدي لا يَهدُون بهَدْيي، ولا يَستَنُّون بسُنَّتي، فمن صدَّقهم بكَذِبهم، وأعانَهم على ظُلمِهم، فأولئك ليسوا منِّي ولست منهم، ولا يَرِدُون عليَّ حوضي، ومن لم يصدِّقْهم بكذبِهم، ولم يُعِنْهم على ظُلمِهم، فأولئك مني وأنا منهم، وسَيرِدُون عليَّ حوضي. يا كعبَ بن عُجْرة، الصَّومُ جُنَّة، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئة، والصلاةُ قُرْبان، أو قال: بُرْهان. يا كعبَ بنَ عُجْرة، لا يَدخلُ الجنةَ لحمٌ نَبَتَ من سُحْت أبدًا، النَّارُ أَولى به. يا كعبَ بنَ عُجْرة، الناسُ غاديَانِ: فمبتاعٌ نَفْسَه فمُعتِقُها، أو بائعُها فَمُوبِقها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8302 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8302 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب! اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت کی پیروی کریں گے، پس جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو ایسے لوگ نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر نہیں آ سکیں گے، اور جس نے ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اور وہ میرے حوض پر ضرور وارد ہوں گے۔ اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دلیل و برہان ہے)۔ اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال «سُحْت» سے پلا ہو، اس کے لیے تو آگ ہی زیادہ بہتر ہے۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو اپنی جان کا سودا کر کے اسے (اللہ کی اطاعت سے) آزاد کرا لیتا ہے، اور دوسرا وہ جو اپنی جان کو (شیطان کے ہاتھ) بیچ کر اسے ہلاک کر لیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8507]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8507]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل ابن خثيم وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم» [ترقيم الرساله 8507] [ترقيم الشركة 8404] [ترقيم العلميه 8302]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8508
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حَدَّثَنَا عَبْد الله (1) بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن [أبي] (2) هلال، عن أبانَ بن صالح، عن الشَّعْبي، عن عَوْف بن مالك الأشجعي قال: بَيْنا نحن مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوك ورسولُ الله ﷺ في قُبّةٍ من أَدَم، إذ مَرَرتُ فسمع صوتي فقال:"يا عوفَ بنَ مالكٍ، ادخُلْ" فقلت: يا رسول الله، أكلِّي أم بعضي؟ قال:"بل كُلُّك قال: فدخلتُ، فقال:"يا عوف، اعدُدْ سِتًّا بين يدَيِ السّاعة" فقلت: ما هنَّ يا رسول الله؟ قال:"موتُ رسولِ الله" فبكى عوفٌ، ثم قال رسول الله ﷺ:"قُلْ: إحدَى" قلت: إحدى، ثم قال:"فتحُ بيتِ المَقدِس، قُل: اثنتين" قلت: اثنتين، قال:"وموتٌ يكون في أمَّتي كقُعَاصِ (3) الغَنَم، قل: ثلاثٌ" قلت: ثلاث، قال:"وتُفتَحُ لهم الدنيا حتَّى يُعطَى الرَّجلُ المئة فيَسخَطُها، قل: أربع" قلت: أربع [قال] :"وفِتنةٌ لا يبقى أحدٌ من المسلمين إِلَّا دَخَلَت عليه بيتَه، قل: خمسٌ" قلت: خمس [قال] :"وهُدْنةٌ تكون بينَكم وبين بني الأصفَر يأتونكم على ثمانين غيات كل غَيايةٍ (4) اثنا عشرَ ألفًا، ثم يغْدِرون بكم حتَّى حَمْلِ امرأةٍ". قال: فلمّا كان عامُ عَمَواس زَعَمُوا أَنَّ عوف بن مالك قال لمعاذِ بن جبل: إنَّ رسول الله ﷺ قال لي:"اعدُدْ ستًّا بين يَدَي الساعة"، فقد كان منهنَّ الثلاثُ وبقي الثلاثُ، فقال معاذ: إنَّ لهذا مُدّةً، ولكن خمسٌ أظلَّتكم، من أدركَ منهنَّ شيئًا ثم استطاع أن يموت فليمت: أن يَظهرَ التلاعنُ على المنابر، ويُعطَى مالُ الله على الكذب والبُهْتان (1) ، وسَفْكُ الدماء بغير حق، وتُقطَعَ الأرحام، ويُصبِحَ العبدُ لا يدري أضالٌّ هو أم مُهتدٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8303 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8303 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک چھوٹے خیمے میں تشریف فرما تھے، میں وہاں سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن کر فرمایا: ”اے عوف بن مالک! اندر آ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! پورا کا پورا یا میرا کچھ حصہ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ پورے کے پورے آ جاؤ۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں اندر داخل ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لو۔“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ کی وفات۔“ یہ سن کر سیدنا عوف رونے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: ایک۔“ میں نے کہا: ”ایک۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس کی فتح، کہو: دو۔“ میں نے کہا: ”دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک ایسی موت جو میری امت میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں «قُعَاصِ» یعنی گردن توڑ بخار کی بیماری پھیلتی ہے، کہو: تین۔“ میں نے کہا: ”تین۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور لوگوں کے لیے دنیا کی دولت کھول دی جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ اسے کم سمجھ کر اس پر ناراض ہوگا، کہو: چار۔“ میں نے کہا: ”چار۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایسا فتنہ ہوگا جس سے مسلمانوں کا کوئی گھر ایسا نہ بچے گا جس میں وہ داخل نہ ہو، کہو: پانچ۔“ میں نے کہا: ”پانچ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تمہارے اور بنو اصفر یعنی رومیوں کے درمیان صلح ہوگی، پھر وہ تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں کے تلے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے، پھر وہ تمہارے ساتھ غداری کریں گے یہاں تک کہ حاملہ عورت کے پیٹ کے بچے کے متعلق بھی غداری کریں گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب طاعونِ عمواس کا سال آیا تو عوف بن مالک نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں شمار کر لو، ان میں سے تین واقع ہو چکی ہیں اور تین باقی ہیں۔ سیدنا معاذ نے فرمایا: ان کے لیے ایک مدت مقرر ہے، لیکن پانچ فتنے تم پر سایہ فگن ہو چکے ہیں، جو ان میں سے کسی کو پائے اور اسے موت مل سکے تو وہ مر جائے: منبروں پر ایک دوسرے پر لعنت بھیجنے کا رواج ہو جانا، جھوٹ اور بہتان پر اللہ کا مال یعنی سرکاری وظیفہ تقسیم کیا جانا، ناحق خون بہایا جانا، قطع رحمی کرنا، اور آدمی اس حال میں صبح کرے کہ اسے پتہ نہ ہو کہ وہ ہدایت پر ہے یا گمراہی پر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8508]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8508]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8508] [ترقيم الشركة 8405] [ترقيم العلميه 8303]