🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. ذِكْرُ عَرْضِ الْأَنْبِيَاءِ بِأَتْبَاعِهِمْ عَلَى نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
انبیاء علیہم السلام کا اپنے متبعین کے ساتھ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8936
وأخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن الحسن والعلاءِ بن زياد، عن عِمْران بن حُصَين، عن عبد الله بن مسعود قال: تحدَّثْنا عند نبيِّ الله ﷺ ذَاتَ ليلةٍ وأَكْرَيْنا (1) الحديثَ، قال: ثم تَراجَعْنا إلى البيوت، فلما أصبَحْنا غَدَوْنا على النبي ﷺ، فقال نبيُّ الله ﷺ"عُرضت عليَّ الأنبياءُ الليلةَ بأَتْباعِها من أمَّتها، فجعل النبيُّ يجيءُ ومعه الثلاثةُ من قومِه، والنبيُّ ومعه العِصابةُ، والنبيُّ ومعه النَّفْرُ، والنبيُّ ليس معه أحدٌ من قومه، حتى أَتى (2) عليَّ موسى بنُ عِمران في كَبْكبةٍ من بني إسرائيل، فلما رأيتهم أعجَبُوني، فقلت: ربِّ، مَن هؤلاء؟ قال: هذا أخوك موسى بنُ عِمران ومن تَبِعَه من بني إسرائيل، قال: قلت: ربِّ، فأين أمَّتي؟ فقيل لي: انظُرْ عن يمينِك، فإذا الظِّرابُ (3) ، ظِرابُ مكة، قد سُدَّ بوجوه الرِّجال فقلت: ربِّ مَن هؤلاء؟ قال: أمَّتُك، قال: فقيل لي: هل رَضِيتَ؟ فقلت: ربِّ، رضيتُ، قال: ثم قيل لي: إنَّ مع هؤلاءِ سبعين ألفًا يدخلون الجنةَ لا حساب عليهم"، قال: فأنشأَ عُكَاشةُ بن مِحصَن أخو بني أَسد بن خُزَيمة قال: يا نبيَّ الله، ادْعُ ربَّك أن يجعلَني منهم، قال: فقال:"اللهمَّ اجعَلْه منهم"، ثم أنشأ رجلٌ آخرُ فقال: يا نبيَّ الله، ادعُ ربَّك أن يجعلَني منهم، قال: فقال:"سَبَقَك بها عُكّاشة". قال: ثم قال نبي الله ﷺ"فِدًى لكم أَبي وأُمي، إن استطعتم أن تكونوا من السبعين فكونوا، فإن عَجَزتُم وقصَّرتُم فكونوا من أهل الظِّراب، فإن عَجَرْتُم وقصَّرتُم فكونوا من أهل الأُفُق، فإني رأيتُ ثَمَّ ناسًا يَتهرَّشُون (4) كثيرًا". قال: ثم قال رسول الله ﷺ:"إني لأرجو أن يكونَ مَن تَبِعَني من أمّتي رُبعَ أهلِ الجنة" قال: فكبَّرْنا، ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا الثُّلثَ" فكبَّرْنا، ثم قال:"إني لأرجو الشَّطرَ" فكبَّرْنا، قال: فتَلَا نبيُّ الله - صلى الله عليه وسل - ﴿ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (39) وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ﴾ [الواقعة: 39 - 40] . قال: فراجع المسلمون على هؤلاء السبعين، فقالوا: أَتُراهم ناسًا وُلِدوا في الإسلام ثم لم يَزالُوا يعملون به حتى ماتوا عليه؟! فنُمِيَ حديثُهم ذلك إلى نبي الله ﷺ فقال:" ليس كذلكَ، ولكنَّهم الذين لا يَستَرْقُون ولا يَكتَوُون ولا يتطيَّرُون، وعلى ربِّهم يَتوكَّلون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8721 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک رات ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے اور ہم نے اپنی گفتگو کو طویل کر دیا۔ پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھ پر انبیاء اپنی امتوں کے پیروکاروں کے ساتھ پیش کیے گئے۔ چنانچہ کوئی نبی اس حال میں گزر رہا تھا کہ اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین آدمی تھے، کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ ایک جماعت تھی، کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ چند لوگ تھے، اور کوئی نبی گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ اس کی قوم کا کوئی فرد نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ گزرے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ مجھے بہت اچھے لگے، تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور یہ بنی اسرائیل میں سے ان کے پیروکار ہیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے رب! پھر میری امت کہاں ہے؟ تو مجھ سے کہا گیا: اپنی دائیں طرف دیکھیے۔ تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ مکہ کی پہاڑیاں لوگوں کے چہروں سے بھری ہوئی تھیں۔ تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا: کیا آپ راضی ہو گئے؟ تو میں نے عرض کی: اے میرے رب! میں راضی ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھ سے کہا گیا: ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) بنی اسد بن خزیمہ کے بھائی عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے ان (ستر ہزار) میں شامل فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما دے۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس معاملے میں تم پر بازی لے گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں! اگر تم ان ستر ہزار میں سے ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ، اور اگر تم عاجز آ جاؤ اور کوتاہی ہو جائے تو پھر ان پہاڑیوں والوں میں سے ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی عاجز رہو اور کوتاہی ہو جائے تو پھر افق والوں (یعنی عام مجمع) میں سے ہو جاؤ، کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کا ہجوم دیکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میری امت کے پیروکار اہلِ جنت کا ایک چوتھائی ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے تکبیر (اللہ اکبر) کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم ایک تہائی ہوگے۔ تو ہم نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم آدھے ہوگے۔ تو ہم نے تکبیر کہی۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ ۝ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ﴾ ایک بڑی جماعت پہلوں میں سے ہوگی، اور ایک بڑی جماعت پچھلوں میں سے۔ [سورة الواقعة: 39 - 40] راوی کہتے ہیں: پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار کے بارے میں آپس میں گفتگو کی، اور کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک اسی پر عمل پیرا رہے؟! تو ان کی یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرواتے ہیں، نہ داغ لگواتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور (اپنے ہر معاملے میں) صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8936]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وشيخه عبد الوهاب بن عطاء، والحسنُ» [ترقيم الرساله 8936] [ترقيم الشركة 8827] [ترقيم العلميه 8721]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8937
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا ابن عُليَّة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عائشة قالت: ذَكَرتُ النار فبكيتُ فقال رسول الله ﷺ"ما لَكِ يا عائشة؟" قالت: ذكرتُ النارَ فبكيتُ، فهل تذكرون أهليكم يومَ القيامة؟ فقال رسول الله ﷺ:"أمّا في ثلاثِ مواطنَ، فلا يَذكُرُ أحدٌ أحدًا: [عند الميزان] (1) حتى يعلم أيَخِفُّ ميزانُه أم يَثقُل، وعند الكُتُب حين يقال هاؤُم اقرؤُوا كتابِيَهْ، حتى يعلمَ أين يقعُ كتابُه، أفي يمينِه أم في شِمالِه أو من وراءِ ظهرهِ، وعند الصِّراطِ إذا وُضِعَ بين ظَهْرَي جَهَنَّمَ، حافَتَاه كَلاليبُ كثيرة وحَسَكٌ كثير، يَحبِسُ اللهُ بها من شاءَ من خلقِه، حتى يعلمَ أينجُو أم لا" (2) .
هذا حديث صحيح، إسناده على شرط الشيخين لولا إرسالٌ فيه بين الحسن وعائشة، على أنه قد صحَّت الرواياتُ أنَّ الحسن كان يَدخُل وهو صبيٌّ منزلَ عائشة وأمِّ سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8722 - على شرط البخاري ومسلم لولا إرسال فيه بين الحسن وعائشة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے جہنم کو یاد کیا تو رو پڑی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کی: میں نے جہنم کو یاد کیا تو رو پڑی، کیا آپ لوگ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا: [میزان کے پاس] یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا ترازو ہلکا ہوتا ہے یا بھاری۔ اور نامہ اعمال ملنے کے وقت، جب کہا جائے گا: «هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ» آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔ یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں دیا جاتا ہے، اس کے دائیں ہاتھ میں، بائیں ہاتھ میں، یا اس کی پیٹھ کے پیچھے۔ اور پل صراط کے پاس، جب اسے جہنم کی پیٹھ پر رکھا جائے گا، اس کے دونوں کناروں پر بہت سے آنکڑے اور کانٹے ہوں گے، اللہ ان کے ذریعے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے گا روک لے گا، (ان مقامات پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا) یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ وہ نجات پاتا ہے یا نہیں۔
یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند شیخین کی شرط پر ہے، اگرچہ اس میں حسن اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ تاہم یہ روایات صحیح ثابت ہیں کہ حسن بچپن میں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر جایا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8937]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه بين الحسن» [ترقيم الرساله 8937] [ترقيم الشركة 8828] [ترقيم العلميه 8722]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8938
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا الحسين بن محمد بن القبَّاني (3) ، حدثنا عَمْرو بن علي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عثمان بن الأسوَد، حدثني ابن أبي مُلَيكة قال: جَلَسْنا إلى عبد الله بن عمرو في الحِجر، فقال: ابكُوا، فإن لم تَجِدوا بكاءً فتباكَوْا، لو تعلمون العِلمَ لصلَّى أحدُكم حتى ينكسرَ ظهرُه، ولَبَكي حتى ينقطعَ صوتُه (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8723 - على شرط البخاري ومسلم
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حطیم (حجرِ کعبہ) میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے فرمایا: رویا کرو، اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت بنا لیا کرو۔ اگر تم حقیقت جان لو، تو تم میں سے کوئی اس قدر نماز پڑھے کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے، اور اس قدر روئے کہ اس کی آواز بند ہو جائے۔
اس حدیث کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8938]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8938] [ترقيم الشركة 8829] [ترقيم العلميه 8723]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8939
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرزُوق، حدثنا شُعْبة (2) ، عن يونس بن خبَّاب قال: سمعت مجاهدًا يحدث عن أبي ذرٍّ قال: لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولَبكيتُم كثيرًا، ولَمَا ساغَ الطعامُ ولا الشرابُ، ولا نِمتُم على الفُرُش، ولَهَجرتُم النساءَ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تَجأَرون وتَبكُون، ولوَدِدتُ أنَّ الله خلقَني شجرةً تُعضَد (3) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8724 - منقطع
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، نہ تمہیں کھانا پینا اچھا لگتا، نہ تم بستروں پر سوتے، تم عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے، اور تم ٹیلوں اور میدانوں کی طرف نکل جاتے جہاں تم گڑگڑاتے اور روتے، اور میری تو یہ تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک ایسا درخت پیدا کرتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8939]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يونس بن خباب فيه ضعف لكنه متابع، ومجاهد لم يسمع أبا ذر لكن عُلمت الواسطة بينهما كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8939] [ترقيم الشركة 8830] [ترقيم العلميه 8724]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8940
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ خالد بن عبد الله الزِّيادي حدَّثه عن أبي عثمان الأصبَحي، عن أبي هريرة عن رسول الله ﷺ قال:"لو تعلمون ما أعلمُ، لبكيتُم كثيرًا ولضَحِكتُم قليلًا، يظهرُ النِّفاقُ، وتُرفَعُ الأمانة، وتُقبَض الرحمةُ، ويُتَّهَم الأمينُ ويُؤتَمن غيرُ الأمين، أنا بكم الشُّرُفُ الجُونُ (1) " قالوا: وما الشُّرُف الجُونُ يا رسول الله؟ قال:"الفتنُ كأمثالِ الليلِ المُظلِم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8725 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم۔ نفاق ظاہر ہو جائے گا، امانت اٹھا لی جائے گی، رحمت قبض کر لی جائے گی، امانت دار پر تہمت لگائی جائے گی اور خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا۔ میں تمہارے ہاں «الشُّرُفُ الجُونُ» دیکھ رہا ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! «الشُّرُفُ الجُونُ» کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریک رات کے حصوں کی مانند چھا جانے والے فتنے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8940]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل خالد بن عبد الله الزِّيادي» [ترقيم الرساله 8940] [ترقيم الشركة 8831] [ترقيم العلميه 8725]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل خالد بن عبد الله الزِّيادي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8941
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّقٍ، عن أبي ذرّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تسمعون، أَطَّتِ السماءُ وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها موضعُ أربع أصابعَ إِلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا الله، والله لو تعلمون ما أعلم، لضحكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُش، ولخرجتُم إلى الصُّعُداتِ تَجأَرون إلى الله"، واللهِ لوَدِدتُ أني كنت في شجرةٍ تُعضَدُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8726 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان (بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کسی فرشتے نے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اپنی پیشانی نہ رکھی ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، تم بستروں پر عورتوں سے لذت اندوز نہ ہوتے، اور تم ٹیلوں اور کھلے میدانوں کی طرف نکل کر اللہ کے حضور آہ و زاری کرتے۔ (یہ سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا ہے کہ میں ایک ایسا درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8941]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره» [ترقيم الرساله 8941] [ترقيم الشركة 8832] [ترقيم العلميه 8726]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں