🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

152. باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2727
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ، وَعَنِ الْمَمْلُوكِ أَلَهُ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ، وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، أَمَّا الْمَمْلُوكُ فَكَانَ يُحْذَى، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ.
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ (اگر جہاد میں جائے) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا (پھر انہوں نے اسے لکھا:) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، (اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2727]
یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ (حروری، جو کہ خوارج کا سردار تھا) نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کئی سوالات لکھ کر بھیجے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ کیا غلام کا غنیمت میں کوئی حصہ ہوتا ہے؟ اور عورتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا غنیمت میں ان کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ کوئی حماقت کرے گا تو میں اسے جواب نہ دیتا۔ (آپ نے لکھا کہ) غلام کو انعام دیا جاتا تھا، اور عورتیں زخمیوں کا علاج معالجہ کیا کرتی تھیں اور پانی پلایا کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/السیر 8 (1556)، سنن النسائی/الفیٔ (4138)، مسند احمد (1/248، 294، 308، 320، 344، 349، 352)، (تحفة الأشراف: 6557) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی: نجدہ حروری جو خوارج کا سردار تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1812)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2728
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَهْبِيَّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَالزُّهْرِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَشْهَدْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ قَالَ: فَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ قَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَنْ يُضْرَبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَا وَقَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُنَّ.
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2728]
یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ حروری نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو لکھا اور پوچھا کہ: کیا عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں غنیمت میں سے کوئی حصہ عنایت فرماتے تھے؟ یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا جواب نجدہ کی طرف میں نے تحریر کیا تھا کہ: عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی تھیں اور یہ کہ انہیں غنیمت میں کوئی حصہ دیا جائے، یہ نہیں ہوتا تھا، تاہم انہیں عطیہ و انعام ضرور دیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6557) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ فَقَالَ:" مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ، فَقَالَ: قُمْنَ. حتَّى إِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ قَالَ: قُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّةُ وَمَا كَانَ ذَلِكَ قَالَتْ: تَمْرًا".
حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے ساتھ نکلیں؟ اور کس کے حکم سے نکلیں؟ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چلو یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: دادی! وہ حصہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: کچھ کھجوریں تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2729]
سیدنا حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئی تھیں اور وہ چھ میں سے چھٹی عورت تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوا بھیجا، ہم حاضر خدمت ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصے میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس کے ساتھ اور کس کی اجازت سے آئی ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آئی ہیں، بال بٹتی ہیں اور اس سے جہاد میں مدد کرتی ہیں، ہمارے پاس زخمیوں کے لیے دوا دارو بھی ہے، ہم تیر اکٹھے کر کے دیتی ہیں اور ستو پلاتی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ (کوئی بات نہیں) حتیٰ کہ جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیبر فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی حصہ عنایت فرمایا، جیسے کہ مردوں کو دیا تھا، میں نے پوچھا: دادی اماں! وہ کیا تھا؟ کہا: کھجور۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/271، 371) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة رافع اور حشرج دونوں مجہول ہیں، اور بعض ائمہ کے نزدیک رافع لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ ضعیف روایت ہے اس سے استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ صحیح روایت کے مطابق جہاد میں شریک ہونے والی عورتوں کا مال غنیمت میں کوئی متعین حصہ نہیں ہے البتہ انہیں ایسے ہی کچھ دے دیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حشرج بن زياد :لا يعرف ولم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ في التلخيص الحبير (104/3): ’’ مجهول‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَى نَفْسِهِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ.
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے (ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے (اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں (آبی اللحم) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2730]
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو کہ سیدنا آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں: میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں حاضر ہوا تو انہوں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق حکم دیا، میری گردن میں ایک تلوار لٹکا دی گئی، میں اسے گھسیٹنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ غلام ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے متعلق فرمایا: اور مجھے گھر کے اسباب میں سے کچھ بطور انعام دیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا ہے: ابو عبید نے بیان کیا کہ راویِ حدیث (آبی اللحم) کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انہوں نے گوشت کو اپنے لیے حرام کر لیا تھا، اس لیے انہیں «آبِي اللَّحْمِ» آبی اللحم کہا جاتا تھا (گوشت سے انکار کرنے والا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/السیر 9 (1557)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 37 (2855)، (تحفة الأشراف: 10898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223)، سنن الدارمی/ السیر 35 (2518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4005)
أخرجه الترمذي (1557 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمِيحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بدر کے دن (پانی کم ہونے کی وجہ سے) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2731]
سیدنا جابر (بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا بیان ہے کہ میں بدر کے روز اپنے اصحاب کے لیے کنویں سے پانی بھرتا رہا تھا۔ (کنویں میں اتر کر ہاتھوں سے ڈول بھرتا تھا کیونکہ نیچے پانی کم تھا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2328) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن ويعارضه حديث مسلم (1813) وھو الصواب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں